Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ روکنے کیلئے ایرانی صدر پزشکیان نے تین شرائط پیش کیں

Updated: March 12, 2026, 8:01 PM IST | Tehran/Washington

ایرانی صدر نے کہا کہ تہران امن کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے روس اور پاکستان کے لیڈران کے ساتھ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ صدر نے تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لئے تہران کی آمادگی کا اعادہ کیا۔

Masoud Pezeshkian. Photo: X
مسعود پزشکیان۔ تصویر: ایکس

مشرقِ وسطی میں ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان گزشتہ ۱۳ دنوں سے جاری جنگ کو روکنے کیلئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تین شرائط پیش کی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ تہران امن کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی تصفیے میں ایران کے جائز حقوق اور سلامتی کے خدشات کو دور کرنا ضروری ہے۔

پزشکیان نے اپنے پوسٹ میں جنگ روکنے کی شرائط پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”صہیونی حکومت اور امریکہ کے ذریعے بھڑکائی گئی“ یہ جنگ صرف اس صورت میں ختم ہو سکتی ہے جب ہماری تین اہم شرائط پوری کی جائیں: ایران کے جائز حقوق تسلیم کئے جائیں، تنازع کے دوران ہونے والے نقصانات کے لئے ہرجانہ ادا کیا جائے اور اسلامی ملک کے خلاف مستقبل میں ہونے والے حملوں کو روکنے کے لئے ٹھوس بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کی جائیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: فریقوں کے ایک دوسرے پر ہزاروں حملے، جنگ بندی کی کوششیں تیز

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ انہوں نے روس اور پاکستان کے لیڈران کے ساتھ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ انہوں نے تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لئے تہران کی آمادگی کا اعادہ کیا ہے۔ دریں اثنا، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بیان دیا کہ واشنگٹن پہلے ہی اس تنازع میں برتری حاصل کر چکا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ امریکی افواج اس وقت تک تعینات رہیں گی جب تک آپریشن مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتا۔ 

واضح رہے کہ ۲۸ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی حملوں نے ایران کی فوجی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر اس جنگ کا آغاز کیا تھا۔ تاحال، خطے میں جوابی کارروائیوں اور حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں اب تک ایک اندازے کے مطابق ۱۲۰۰ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو اپنے منطقی انجام کے بہت نزدیک پہنچ گئے

 تنازع کی وجہ سے عالمی تجارت متاثر

مشرق وسطیٰ میں جاری اس تنازع نے عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ تیل بردار بحری جہازوں پر حملوں اور آبنائے ہرمز کو بند کئے جانے کی وجہ سے خلیج سے خام تیل کی ترسیل میں خلل پڑا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

سپلائی میں اس تعطل کی وجہ سے کئی ممالک نے خام تیل کے متبادل ذرائع تلاش کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ ’کپلر‘ کے شپنگ ڈیٹا کے مطابق، روس سے ہندوستان کی تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تنازع سے پہلے توقع تھی کہ ہندوستان روس سے یومیہ تقریباً ۸ لاکھ سے ۱۰ لاکھ بیرل خام تیل درآمد کرے گا۔ تاہم، مارچ کے پہلے ۱۱ دنوں میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً ۱۵ لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK