یوکرین کے اہم شہر ماریوپول پر روس کی بالادستی، قبضہ جلد ممکن

Updated: May 19, 2022, 12:21 PM IST | Agency | Kyiv

بڑی تعداد میں یوکرینی فوجیوں کی خود سپردگی ، روس نے تعداد ایک ہزار سے زائد بتائی، انہیں اپنے کنٹرول والے علاقوں  میں منتقل کردیا، اسٹیل فیکٹری میں اب بھی فوجی کمانڈر موجود

Soldiers and others surrender at the Isostal Steel Plant.Picture:INN
ایزوسٹال اسٹیل پلانٹ میں خود سپردگی کرنے والے فوجی اور دیگر افراد۔ تصویر: اے پی / پی ٹی آئی

: یوکرین کے اہم  بندر گاہی شہر ماریوپول  میں روس نے گزشتہ  ۲؍ دنوں  میں  ایک ہزار یوکرینی  فوجیوں کی خودسپردگی کا دعویٰ  کرتے ہوئے  یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اس شہر پر روس کسی بھی وقت قبضہ کرسکتا ہے۔  یہاں ایزوسٹال اسٹیل ورکس فیکٹری   یوکرینی فوجیوں کی آخری پناہ گاہ اور مزاحمت کی علامت بن کر ابھری ہے تاہم منگل اور بدھ کو اس کے تحفظ پر مامور سیکڑوں فوجیوں  نے خود سپردگی کردی جنہیں   روس کے کنٹرول والے علاقوں میں منتقل کردیاگیاہے۔ 
   ایک ہزار  فوجیوں کی خود سپردگی
 ماریوپول میں منگل کو ۲۴؍ گھنٹوں میں  ۶۹۴؍ فوجیوں کی خود سپردگی کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں مگر بدھ کو ماسکو نے دعویٰ کیا کہ پیر سے  بدھ تک  ایک ہزار سے زائد یوکرینی فوجی  ہتھیار ڈال چکے ہیں۔  بتایا جارہاہے کہ ہتھیار ڈالنے والوں  میں ۸۰؍ سے زائد فوجی زخمی ہیں۔  دوسری طرف   روس  کے حامی علاحدگی پسندوں کا دعویٰ ہے کہ اب  بھی یوکرین کے اعلیٰ سطحی کمانڈر اسٹیل کمپنی میں  موجود ہیں۔ 
یوکرینی فوجیوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان
  یوکرینی فوجیوں کی خود سپردگی کے بعد روس نے چونکہ  انہیں اپنے کنٹرول والے  علاقوں  میں  منتقل کردیا ہے اس لئے ان کے مستقبل کے تعلق سے تشویش کااظہار کیا جارہاہے۔ ایک طرف جہاں  یوکرینی ذرائع نے  امید ظاہر کی تھی کہ وہ اپنے فوجیوں کو روسی  فوجیوں کے بدلے میں آزاد کرالیں گے مگر روس سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ماسکو اس کیلئے تیار نہیں ہے۔  روسی خبر رساں ایجنسی کی اس اطلاع کےبعد کہ روسی پارلیمنٹ جلد ہی قیدیوں کے تبادلے کے خلاف  قرار داد منظور کرسکتی ہے،    روس  کے ہتھے چڑھنے والے یوکرینی  فوجیوں   کے مستقبل کے تعلق سے اندیشےبڑھ گئے ہیں۔
جنگی جرائم میں مقدمہ اور سزائے موت!
  خود سپردگی کرنے والے یوکرینی فوجوں کے تعلق سے اندیشوں کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات میں شرکت کرنے والے ایک روسی قانون ساز نے منگل کو کہا ہے کہ ماسکو کو  ماریوپول کے ایزوسٹال  میں لڑنے والے یوکرینی  فوجیوں   کے تعلق سے سزائے موت پر غور کرنا چاہئے۔  روس نے پکڑے گئے فوجیوں  میں سے کچھ کے خلاف جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلانے کا اشارہ پہلے ہی دے دیا ہے۔ 
ماسکو کو ماریوپول پر جلد قبضے کی امید
 روسی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ایگور کوناشینکوف  نے بدھ کو تصدیق کی کہ ’’پیر سے اب تک  ۹۵۹؍ جوان ایزوسٹال  اسٹیل پلانٹ کی سیکوریٹی سے دستبردار ہوچکے ہیں۔  ‘‘ا س بیچ روسی ذرائع کے مطابق ایزوسٹال  اسٹیل پلانٹ  کی سرنگوں اور بنکروں میں  چھپے ہوئے یوکرینی فوجیوں  کی تعداد ۲؍ ہزار کے آس پاس تھی۔ اگر یہ اعدادوشمار  صحیح ہیں تو ماسکو بہت جلد ماریوپول پر قبضہ کر سکتا ہے۔  یہ اس جنگ میں  ولادیمیر پوتن کی بڑی کامیابی تصور کی جائے گی۔
ڈان باس سے ۱۸؍ ہزار افراد کا انخلاء
  اس بیچ  ڈونیٹسک اور لوگانسک عوامی جمہوریہ  اور یوکرین کے خطرناک علاقوں سے گزشتہ۲۴؍ گھنٹوں میں تقریباً۱۸؍ ہزار  افراد کو روس منتقل کیا گیا ہے۔روسی نیشنل ڈیفنس کنٹرول سینٹر کے سربراہ کرنل جنرل میخائل میزینتسیو نے جو روس کے ہیومینٹیرین ریسپانس کوآرڈینیشن ہیڈ کوارٹرز کے بھی سربراہ ہیں، نے یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہاکہ’’کیف کی طرف سے پیدا کی گئی تمام مشکلات کے باوجود، گزشتہ دنوں ڈونیٹسک، لوگانسک عوامی جمہوریہ اور یوکرین کے خطرناک علاقوں سےایک ہزار ۷۹۷؍  بچوں سمیت ۱۷؍ ہزار ۷۳۳؍  افراد کو یوکرین کے حکام کی شرکت کے بغیر روسی فیڈریشن کی حدود میں منتقل کیا گیا ہے۔‘‘
 یوکرین کی تعمیر نو کیلئے ۹؍ بلین یورو کا قرض
  اس بیچ برسلز میں یورپین کمیشن  روس کے ذریعہ تھوپی گئی جنگ سے تباہ ہوچکے یوکرین کی تعمیر نو کیلئے  ۹؍ بلین یورو کے قرض کی تجویز پر غور  کررہاہے تاکہ یوکرین کی معیشت رواں  دواں  رہے ۔ یہ خطیر رقم کمیشن میکرو فائنانس  اسسٹنٹ میکانزم کے تحت حاصل کریگا جس کی ضمانت یورپی یونین کے رکن ممالک لیں گے۔  کمیشن کے صدر  اُرسولا وون ڈر لیئن نے بتایا کہ ’’ہم اب تک فراہم کی گئی جز وقتی راحت میں   اسے جوڑنا چاہتے ہیں۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دیگر طاقتوں کو بھی اس ضمن میں آگے آنے کی پیشکش کی اور کہا کہ ’’اس معاملے میں صرف یورپی یونین کو اکیلا نہیں ہونا چاہئے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK