• Sun, 11 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی عربیہ: دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ پر حملہ ،۱۲؍ ہلاک اور۳۰۰؍ زخمی

Updated: October 11, 2026, 3:07 PM IST | Riyadh

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ ہوئے حملے میں ۱۲؍ افراد ہلاک اور۳۰۰؍ زخمی ہوگئے، سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی، بنگلہ دیش کے دو افراد اور امریکہ، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کا ایک ایک فرد شامل ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ ہوئے حملے میں ۱۲؍ افراد ہلاک اور۳۰۰؍ زخمی ہوگئے، سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی، بنگلہ دیش کے دو افراد اور امریکہ، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کا ایک ایک فرد شامل ہے۔حملے کے بعد شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آپریشن معطل کر دیا گیا ہے، جو مئی۲۰۱۵ء کے بعد مملکت میں سب سے مہلک حملہ ہے۔سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے بعد میں اس حملے کا جواب دینے کا عزم کیا، جسے اس نے ’’جنگی جرم‘‘ قرار دیا اور یمن کے حوثیوں پر اس کا الزام لگایا۔جبکہ حوثیوں نے اس حملے پر تبصرہ نہیں کیا لیکن کہا کہ وہ اسی ہوائی اڈے پر جمعرات کو ہونے والے حملوں کے پیچھے تھے جس میں تین افراد ہلاک اور ایک طیارہ تباہ ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہوخود کو بچانے کیلئے مزید امریکی خون و خزانے کا خواہاں: ایرانی وزیر خارجہ

واضح رہے کہ ۶؍ اور۷؍ اکتوبر کو دو مختلف سعودی ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے الگ الگ حملوں میں مزید تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج اور حوثیوں کے درمیان حال ہی میں لڑائی میں اضافہ ہوا ہے، جنہیں ایران کی حمایت حاصل ہے اور جو ملک کے بیشتر حصے پر قابض ہیں۔  سعودی قیادت والے اتحاد نے بتایاکہ ریاض کے ہوائی اڈے پر حملوں کے ساتھ سنیچر کو مشرقی سعودی عرب میں دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب بھی ایک پروجیکٹائل گرا۔حالیہ بیان میں، سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا کہ کچھ زخمی تشویشناک حالت میںہیں اور ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ایک عینی شاہد نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ ایک درجن سے زیادہ ایمبولینسوں کو ہوائی اڈے کی طرف دوڑتے ہوئے دیکھا گیا۔
سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بعد میں کہا کہ مسافر ٹرمینلز میں سے ایک پر حملے کے نتیجے میں عام مسافروں اور ہوائی اڈے کے عملے کی ہلاکتیں ہوئیں۔ایک عینی شاہد نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے گیٹ۴۰۱؍ پر حملے کے بعد اپنی آنکھوں کے سامنےزخمیوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ بندی: ایک سال بعد بورڈ آف پیس نے کیا حاصل کیا؟

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو غطریس نے کہا کہ وہ ان حملوں سے شدید صدمے میں ہیں جسے انہوں نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا جو فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔اس کے علاوہ ایکس پر ایک بیان میں، کویت کی وزارت خارجہ نے حملوں کو گھناؤنا اور بزدلانہ حملہ قرار دیا۔ حملوں کی مصر، فلسطین اور قطر نے بھی مذمت کی۔جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی کیونکہ انہوں نے تصدیق کی کہ حملوں میں ایک امریکی شہری ہلاک ہوا ہے۔تاہم صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف حملوں میں سعودی کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔
مزید برآں سعودی عرب میں مغربی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو ریاض ہوائی اڈے سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے۔ برطانوی دفتر خارجہ نے برطانوی شہریوں کو کہا کہ وہ جب تک ہوائی اڈہ محفوظ نہیں ہو جاتااس علاقے سے بچیں۔ امریکی سفارت خانے نے عملے کو بتایا ہے کہ انہیں ریاض، جدہ اور دمام کے ہوائی اڈوں کو استعمال کرنے کے لیے خصوصی اجازت لینا ہوگی۔علاوہ ازیں کئی خلیجی ایئر لائنز نے کہا کہ انہوں نے ہوائی اڈے سے آنے اور جانے والی اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں، کویت ایئرویز نے وہاں سیکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیا۔
ذہن نشین رہے کہ سعودی اور حوثیوں کے مابین تازہ ترین تبادلے اس وقت سامنے آئے ہیں جب خدشات ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف حملے دوبارہ شروع کرنے والے ہیں۔ اس تنازع کو ختم کرنے کے معاہدے کو محفوظ بنانے کی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں، جس نے عالمی معیشت میں صدمے کی لہر دوڑا دی ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK