مودی حکومت کی معاشی پالیسوں کے خلاف ناندیڑ میں ایس ڈی پی آئی کا دھرنا

Updated: July 23, 2022, 12:29 PM IST | Agency | Mumbai

ضلع کلکٹر کے دفتر کے باہرکئے گئے دھرنے میں مظاہرین نے’’مودی حکومت ظالمانہ جی ایس ٹی کو فورا ً واپس لے‘‘ کا نعرہ بلند کیا

Protesters raise slogans against GST outside District Collector`s office.Picture:Inquilab
ضلع کلکٹر کے دفتر کے باہر مظاہرین جی ایس ٹی کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے۔تصویر:ا نقلاب

 گزشتہ دنوں جی ایس ٹی کاؤنسل کی جانب سے کئی اہم و ضروریات کی چیزیں جی ایس ٹی کے دائرے میں آگئی ہیں۔ جس کے خلاف ملک بھر میں ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔  بنیادی ضروریات کی چیزوںکو جی ایس ٹی کے دائرے میں شامل کرنے کے فیصلے کیخلاف جمعہ کو ناندیڑ میں ضلع کلکٹر دفتر کے سامنے سوشل  ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا(ایس ڈی پی آئی) کی جانب سے احتجاجی دھرنا دیا گیا۔مظاہرہ میں ایس ڈی پی آئی سے تعلق رکھنے والے درجنوں نوجوانوں نے شرکت کی۔ ضلع کلکٹر کے دفتر کے باہر مظاہرین نے مودی حکومت کی موجودہ معاشی پالیسوں کیخلاف جم کر نعرے بازی کی ۔کارپوریٹ سیکٹر سے جڑے صنعت کاروں کے قرض معاف کئے جارہے ہیں جبکہ روز مرہ کے استعمال میں آنے والی ضرورت کی چیزوں پر جی ایس ٹی لگائی جارہی ہے ۔حکومت کے اس رویہ کو عام لوگوں کے ساتھ ناانصافی بتاتے ہوئے فوری اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ جی ایس ٹی کی وجہ سے مہنگائی بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ اس دوران ایس ڈی پی آئی کے ضلع صدر محمد اعجاز نے میڈیا نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ مودی حکومت حکومت کی معاشی پالیسیاں عام اور غریب لوگوں کے لئے مشکلات میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے ۔ایسی بہت سی بنیادی ضرورت کی چیزیں جنہیں جنہیں اب تک جی ایس ٹی کے دائرے میں شامل نہیں کیا گیا انہیں بھی ایک ایک کرکے اب جی ایس ٹی کے دائرے میں لایا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں ۔ غریبوں کے لئے ۲؍وقت کے پیٹ بھر کھانے کا انتظام کرنا بھی مشکل ہورہاہے ۔مودی حکومت یہ اس وجہ سے کررہی ہے کہ لوگ حکومت کی کارکردگی کے بارے میں سوچنے کے بجائے اپنی روز مرہ کی ضرورت کی چیزیں حاصل کرنے میں ہی مصروف ہوئے ۔انہیں کوئی دوسری بات سوچنے کا موقع نہ ملے ۔‘‘ محمد اعجاز نے مزید کہا کہ مودی حکومت بڑی بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے ہزاروں کروڑ روپے قرض معاف کررہی ہے لیکن جی ایس ٹی کے معاملے میں عام لوگوں پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے کے بجائے کو بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایسے میں حکومت اس کی غیر منصفانہ پالیسیوں کے خلاف لوگوں کو اٹھ کھڑے ہونے کا وقت آگیاہے ۔اگر  احتجاج نہیں کیا گیا تو پھر مشکلات مزید بڑھیں گی۔ جس طرح پڑوسی ملک سری لنکا میں آج حالات بے قابو ہوئے گئے ہیں ہمارے اپنے ملک میں بھی یہی کچھ صورتحال پیداہوجائے گی ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK