آپؐ کی سیرت قرآن، حدیث، تاریخ، فقہ، دعوت، اخلاق، تہذیب اور انسانی کردار کے متعدد دائروں کو باہم مربوط کرتی ہے۔
EPAPER
Updated: September 29, 2026, 4:02 PM IST | Dr. Mohammad Akram Nadwi | Mumbai
آپؐ کی سیرت قرآن، حدیث، تاریخ، فقہ، دعوت، اخلاق، تہذیب اور انسانی کردار کے متعدد دائروں کو باہم مربوط کرتی ہے۔
نبی کریم کی سیرت ِ مبارکہ قرآنِ کریم کے فہم کی ایک بنیادی کلید ہے اور قرآن سیرت کی معنوی روح۔ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور سیرتِ رسول ؐاس کلام کی سب سے کامل انسانی تفسیر۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان سے کیا چاہتا ہے، اور سیرت ہمیں دکھاتی ہے کہ اس الٰہی ہدایت کو ایک کامل انسانی زندگی میں کس طرح برتا گیا۔ قرآن اصول عطا کرتا ہے اور سیرت ان اصولوں کو زندگی کے واقعات میں مجسم کرکے ہمارے سامنے رکھ دیتی ہے۔
قرآنِ کریم کا وہ نور جو الفاظ کے پردوں میں پوشیدہ ہے، سیرت کے آئینے میں اپنی بہت سی شعاعوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ آیات کے نزولی پس منظر، مخاطبین کے حالات، مکی و مدنی زندگی کے مختلف اَدوار، دعوت کے نشیب و فراز، صحابۂ کرامؓ کی تربیت، اہلِ مکہ کی مزاحمت، مدینہ میں اسلامی معاشرے کی تشکیل اور اللہ کے رسولؐ کے عملی فیصلوں کو جانے بغیر قرآن کی متعدد آیات کے تاریخی اور معنوی پہلو پوری طرح روشن نہیں ہوتے۔ اسی طرح قرآن سے بے نیاز ہوکر سیرت کا مطالعہ بھی واقعات کو ان کے اصل مقصد اور وحی کے وسیع تر نظام سے کاٹ دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:نبی کریمؐ نے صحابہ کرامؓ کے مزاج کی اصلاح کرکے دنیائے انسانی میں انقلاب پیدا کردیا
سیرت آپؐ کی صداقت کا اثبات
اس لئے سیرت کے طالب علم کے لئے قرآن مجید محض مطالعے کا پہلا زینہ نہیں بلکہ پورے سفر کا مرکزی محور ہونا چاہئے۔ قرآن سے سیرت کی طرف اور سیرت سے قرآن کی طرف بار بار رجوع کرنا چاہئے۔ قرآن واقعے کو ہدایت سے جوڑتا ہے اور سیرت ہدایت کو واقعے میں دکھاتی ہے۔ یوں دونوں ایک دوسرے کی شرح بن جاتے ہیں اور طالب علم کے سامنے نبوی زندگی کا وہ مربوط نقشہ ابھرتا ہے جس میں وحی اور عمل، قول اور کردار، دعوت اور تربیت، فرد اور معاشرہ ایک ہی وحدت کے مختلف پہلو بن جاتے ہیں۔ اس حقیقت کی روشنی میں امام ابن حزمؒ کا یہ معروف قول نہایت معنی خیز معلوم ہوتا ہے کہ اگر اللہ کے رسول ؐ کے پاس آپؐ کی سیرت کے سوا کوئی معجزہ نہ ہوتا، تو آپؐ کی سیرت ہی آپؐ کی صداقت کے اثبات کے لئے کافی ہوتی۔ یہ محض عقیدت کا ایک بلیغ جملہ نہیں، بلکہ نبوی کردار کی اس غیر معمولی جامعیت کی طرف اشارہ ہے جس میں صدق و امانت، صبر و استقامت، عبادت و بندگی، شجاعت و رحمت، عدل و عفو، تدبیر و توکل اور انسانوں کی تربیت و اصلاح کے بے شمار پہلو ایک ہی زندگی میں جمع ہوگئے تھے۔
سیرت کو عام تاریخ کے پیمانے سے دیکھنا بھی اس کے حقیقی مقام کو محدود کردیتا ہے۔ سیرت تاریخ ضرور ہے، مگر محض تاریخ نہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کیا واقعہ ہوا، سیرت اس کے ساتھ یہ بھی پوچھتی ہے کہ وہ کیوں واقع ہوا، کن حالات میں واقع ہوا، اس کے پس پردہ کیا حکمت تھی؟ آپؐ نے اس موقع پر کون سا طرزِ عمل اختیار فرمایا اَور اس واقعے سے امت کے لئے کون سی دائمی رہنمائی نکلتی ہے۔ تاریخ ماضی کو محفوظ کرتی ہے اور سیرت ماضی کو حال کیلئے زندہ کردیتی ہے۔ تاریخ واقعات کا بیان ہے اور سیرت واقعات کی معنویت کا انکشاف بھی ہے۔
اسی لئے سیرت کا مطالعہ نہ محض قصہ خوانی ہے، نہ واقعات کی یاد داشت اور نہ صرف تاریخی معلومات کا حصول۔ اس کے لئے روایت کی صحت، تاریخی شعور، عربی زبان سے واقفیت، قرآن و حدیث کا فہم اور واقعات کے باطن تک پہنچنے کی صلاحیت درکار ہے۔ سیرت کے طالب علم کو آہستہ آہستہ یہ ملکہ پیدا کرنا چاہئے کہ وہ کسی مشہور واقعے کو محض اس لئے قبول نہ کرلے کہ وہ کسی کتاب میں درج ہے۔ اسے یہ دیکھنا چاہئے کہ روایت کا ماخذ کیا ہے، اس کی سند کیا ہے، متن کی حیثیت کیا ہے، دوسرے طرق کیا کہتے ہیں، اور وہ قرآن و سنت کے مجموعی مزاج سے کس حد تک ہم آہنگ ہے؟
یہاں روایت اور درایت کا توازن بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سیرت کا بڑا حصہ حدیثی، مغازی اور تاریخی روایات کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے، اور ان روایات کا درجہ یکساں نہیں۔ صحیح، حسن، ضعیف، مرسل اور مختلف نوعیت کی روایات اس ذخیرے میں موجود ہیں۔ امام طبریؒ کا تاریخی روایت کے بارے میں یہ اصول کہ ماضی کے واقعات تک رسائی معتبر نقل کے ذریعے ہی ممکن ہے، سیرت کے طالب علم کے لئے بھی ایک بنیادی علمی رہنما اصول ہے۔ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ کیا منقول ہے، جبکہ درایت اس کے فہم، سیاق اور تاریخی وزن کو متعین کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ پختہ مطالعہ انھی دونوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔
مطالعہ سیرتؐ کے بنیادی اصول
اس بنیادی اصول کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیرت کا مطالعہ کہاں سے شروع کیا جائے اور کس ترتیب سے آگے بڑھا جائے؟ میرے خیال میں اس سفر کو تین بڑے مدارج میں تقسیم کرنا زیادہ مفید ہے:
ابتدائی مرحلہ، جس میں سیرت سے انس اور اس کا جامع خاکہ پیدا ہو۔ متوسط مرحلہ، جس میں مصادر، روایات اور واقعات کی تفہیم کی طرف پیش قدمی ہو۔ اعلیٰ مرحلہ وہ ہے جس میں تحقیق، تحلیل، تقابل اور سیرت کے فکری و دعوتی مضمرات کا مطالعہ کیا جائے۔ یہ تقسیم کوئی جامد نصاب نہیں۔ طالب علم کی استعداد، عربی زبان سے واقفیت اور علمی پس منظر کے لحاظ سے اس میں کمی بیشی ہوسکتی ہے۔
ابتدائی مرحلہ: ابتدائی مرحلے میں سب سے پہلے قرآنِ کریم سے رشتہ قائم کرنا چاہئے۔ قرآن کو ترجمے اور کسی معتبر تفسیر کے ساتھ اس نظر سے پڑھا جائے کہ اس میں آپؐ کی دعوت، مکی و مدنی زندگی، اہلِ ایمان کی تربیت، مشرکین کا ردِّعمل، ہجرت، جہاد، معاہدات، منافقین، اہلِ کتاب اور اسلامی معاشرے کی تشکیل کے بارے میں کیا رہنمائی موجود ہے۔ خصوصاً مکی سورتوں کا مطالعہ سیرت کے طالب علم کیلئے نہایت اہم ہے، کیونکہ ان میں توحید، آخرت، رسالت، صبر، استقامت اور تزکیۂ نفوس کے وہ بنیادی مضامین موجود ہیں جو مکی دور کی پوری روح کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
اس کے ساتھ صحیح احادیث کے منتخب ابواب کا مطالعہ ہونا چاہئے، کیونکہ حدیث سیرت کے واقعات کو تفصیلات اور عملی جزئیات کے ساتھ روشن کرتی ہے۔ قرآن اگر اسوہ کا اصول ہے، تو حدیث اس اسوہ کی تفصیل۔ قرآن نبویؐ دعوت کے بنیادی مضامین بیان کرتا ہے اور حدیث ہمیں اس دعوت کے عملی اسلوب، نبویؐ اخلاق، معاشرت، عبادت، معاملات اور فیصلوں سے روشناس کراتی ہے۔
اردو خواں طالب علم کے لئے اس مرحلے میں ایک یا دو معتبر اور نسبتاً آسان سیرت کی کتابیں منتخب کرنا مناسب ہے۔ مقصد یہ نہیں کہ ابتدا ہی میں سیرت کے تمام جزئیات اور اختلافات میں داخل ہوا جائے، بلکہ پہلے حیاتِ نبویؐ کا ایک واضح اور مربوط نقشہ ذہن میں قائم کیا جائے: بعثت سے پہلے کا عرب، آغازِ وحی، ابتدائی دعوت، دارِ ارقم، مظالم ِ قریش، ہجرتِ حبشہ، شعب ِ ابی طالب، عام الحزن، طائف، معراج، بیعت ِعقبہ، ہجرتِ مدینہ، مواخات، میثاقِ مدینہ، غزوات، صلح حدیبیہ، فتح مکہ، حجۃ الوداع اور وصالِ نبوی ؐ۔ جب یہ مجموعی تصویر ذہن میں واضح ہوجاتی ہے تو بعد کی تفصیلات اپنی جگہ خود متعین ہونے لگتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:صغیرہ گناہوں سے بچئے جوکبیرہ گناہوں تک پہنچا دیتے ہیں!
اس ابتدائی مرحلے میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی نہایت تفصیلی کتاب ’’سیرتِ سرورِ عالمؐ‘‘ خاص طور پر مفید ہے۔ حضرت مولانا مودودیؒ نے سیرت کو محض تاریخی واقعات کے تسلسل کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اس کے اندر موجود دعوتی، فکری، اخلاقی اور اجتماعی پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے۔ ان کی سیرت نگاری کا ایک امتیاز یہ ہے کہ وہ اللہ کے رسولؐ کی بعثت کو انسانی زندگی کی جامع اصلاح کے ایک عظیم منصوبے کے طور پر سامنے لاتے ہیں۔ فرد کی تربیت سے معاشرے کی تشکیل، دعوت سے اقامت ِ دین اور اخلاقی انقلاب سے اجتماعی نظم تک سیرت کے مختلف پہلو ان کے ہاں باہم مربوط دکھائی دیتے ہیں۔ البتہ علمی مطالعے میں اسے ایک مخصوص فکری و دعوتی منہج کے طور پر پڑھنا چاہئے، نہ کہ سیرت کے تمام مصادر کا قائم مقام سمجھنا چاہئے۔
متوسط مرحلہ:جب بنیادی نقشہ واضح ہوجائے تو طالب علم کو اصل عربی مصادر کی طرف قدم بڑھانا چاہئے۔ سیرت ابن ہشام اور طبقات ابن سعد اس مرحلے میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ تاریخ طبری بھی مفید ہے، خصوصاً اس لئے کہ اس سے طالب علم کو ابتدائی اسلامی تاریخ کے وسیع تر تناظر اور مختلف روایتی مواد سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔ ان کتابوں کا مطالعہ اس مقصد سے نہیں ہونا چاہئے کہ طالب علم ہر روایت کو بلا تحقیق قبول کرلے، بلکہ اس لئے کہ وہ سیرت کے ابتدائی مآخذ اور روایت کے تاریخی ذخیرے سے براہِ راست آشنا ہو۔
حدیثی مآخذ کی طرف رجوع بھی اسی مرحلے میں شروع ہونا چاہئے۔ موطا امام مالک، مسند احمد، مصنف عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ ، سنن دارمی، صحیح ابن حبان ، معاجمِ طبرانی اور سنن بیہقی وغیرہ میں سیرت سے متعلق بے شمار مواد محفوظ ہے۔ ان تمام کتابوں کو مکمل طور پر پڑھ لینا ہر طالب علم کے لئے نہ ضروری ہے نہ ممکن، لیکن سیرت کے مختلف ابواب اور واقعات کے سلسلے میں ان کی طرف رجوع کرنے سے طالب علم کو یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ سیرت کسی ایک مصنف کی مرتب کردہ داستان نہیں ہے، یا مختلف کرداروں کا افسانہ نہیں ہے بلکہ قرآن، حدیث، مغازی، طبقات اور تاریخ کے متعدد ذخائر میں پھیلی ہوئی ایک وسیع علمی روایت ہے۔
اس مرحلے کے بعد مطالعہ کا رُخ واقعات سے ان کے مفاہیم اور حکمتوں کی طرف ہونا چاہئے۔ یہاں ابن کثیر کی السیرۃ النبویۃ، ابن قیم کی زاد المعاد، قاضی عیاض کی الشفا، سہیلی کی الروض الانف اور ابن سید الناس کی عیون الاثر جیسی کتابیں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کتابوں کے ذریعے طالب علم سیرت کو حدیث، فقہ، لغت، شمائل، اخلاق اور دعوت کے مختلف زاویوں سے دیکھنا سیکھتا ہے۔
اردو زبان میں اسی علمی ارتقا کا ایک بلند مقام علامہ شبلی نعمانیؒ اور علامہ سید سلیمان ندویؒ کی سیرۃ النبیؐ ہے۔ برصغیر کی سیرت نگاری میں اس کتاب کی حیثیت بنیادی ہے۔ شبلیؒ نے سیرت کے مطالعے کو جدید تاریخی سوالات، تحقیقی منہج اور استدلالی اسلوب سے جوڑنے کی بنیاد رکھی، اور سید سلیمان ندویؒ نے اسے غیر معمولی علمی وسعت، تاریخی بصیرت اور ادبی حُسن کے ساتھ آگے بڑھایا۔ اس کتاب کا امتیاز یہ ہے کہ یہاں عقیدت تحقیق کی راہ میں حجاب نہیں بنتی اور تحقیق عقیدت کی حرارت سے محروم نہیں ہوتی۔ روایت، تاریخ، تنقید، استدلال اور ادب ایک دوسرے سے مربوط ہوکر سیرت کا ایک وسیع علمی منظرنامہ تشکیل دیتے ہیں۔
اسی سلسلے میں مولانا ابو الحسن علی حسنی ندویؒ کی سیرت نگاری کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ ان کے ہاں سیرت کا اخلاقی، دعوتی اور روحانی پہلو پوری قوت سے سامنے آتا ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو محض ایک تاریخی عہد کے طور پر نہیں بلکہ ہر عہد کے انسان کے لئے زندہ رہنمائی کے طور پر پیش کیا۔ ان کی تحریروں میں سیرت کا علم دل سے مخاطب ہوتا ہے اور انسان کو اپنے کردار، دعوت اور تعلق باللہ پر نظر ثانی کی دعوت دیتا ہے۔
اعلیٰ مرحلہ : اعلیٰ درجے کے طالب علم کے لئے سیرت کی مستقل کتابوں سے آگے بڑھ کر ان علوم کا مطالعہ بھی ضروری ہے جو سیرت کے فہم کو گہرا کرتے ہیں۔ قرآن کی تفاسیر، شروحِ حدیث، کتبِ شمائل، دلائل النبوۃ، خصائصِ نبوی ؐ ، تاریخِ عرب، عربی لغت اور جاہلی ادب اس سلسلے میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ خصوصاً عربی زبان سے واقف طالب علم کیلئے جاہلی عرب کے سیاسی، قبائلی، معاشرتی اور علمی و ادبی ماحول سے واقفیت نہایت مفید ہے۔ اس لئے کہ سرکار دو عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت جس معاشرے میں ظاہر ہوئی، اس کے ذہنی اور تہذیبی پس منظر کو خاطرخواہ طریقے پر جانے اور سمجھے بغیر بہت سے واقعات کی حقیقی معنویت پوری طرح واضح نہیں ہوتی۔
اسی مرحلے میں جدید سیرت نگاری، مستشرقین کے مباحث اور معاصر تاریخی مناہج کا مطالعہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ تاہم، اس کیلئے ترتیب کا لحاظ بہت ضروری ہے۔ جو طالب علم ابھی بنیادی اسلامی مصادر سے واقف نہیں ہوا، اس کے لئے براہِ راست اعتراضات اور شبہات کی دنیا میں داخل ہونا ذہنی انتشار کا سبب بن سکتا ہے۔ پہلے اسے قرآن، حدیث، سیرت، مغازی اور اسلامی تاریخی روایت کے اصولوں سے مضبوط واقفیت حاصل کرنی چاہئے، پھر جدید تاریخی مناہج اور مستشرقین کے اعتراضات کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ اس طرح وہ نہ مرعوب ہوگا، نہ محض جذباتی دفاع پر اکتفا کرے گا، بلکہ علمی نقد، تقابل اور تجزیے کی صلاحیت پیدا کرسکے گا۔
یہ بھی پڑھئے:تنقید کو اپنی کامیابی کی شاہراہ کی تعمیر کے لئے استعمال کیجئے
سیرت کو ایک مرتبہ پڑھ کر ختم کردینے والا نصاب نہیں سمجھنا چاہئے۔ انسان خود بدلتا رہتا ہے، اور سیرت کے وہی واقعات زندگی کے مختلف مرحلوں میں نئے معنی کے ساتھ اس کے سامنے آتے رہتے ہیں۔ طالب علمی میں جو واقعہ تاریخ معلوم ہوتا ہے، عملی زندگی میں وہ حکمت بن جاتا ہے۔ سیرتؐ کا مطالعہ آزمائش میں صبر کا نمونہ، دعوت میں منہج، خاندان میں حسنِ معاشرت، اقتدار میں عدل، اختلاف میں اخلاق، اور عمر کے کسی مرحلے میں محبت اور تعلق کا سرمایہ بن جاتا ہے۔
آخرکار سیرت کا اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے کتنے واقعات یاد کرلئے یا کتنی کتابیں پڑھ ڈالیں، اصل سوال یہ ہے کہ اس مطالعے نے ہماری اپنی زندگی کو کتنا بدل دیا۔ ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا، ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ آپؐ کیسے تھے؟ اپنے رب کے ساتھ کیسے، اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ کیسے، پڑوسیوں کے ساتھ کیسے، اپنے اصحاب کے ساتھ کیسے، مخالفین کے ساتھ کیسے، کمزوروں کے ساتھ کیسے، فتح کے وقت کیسے اور ابتلا کے وقت کیسے تھے؟
سیرت کا حُسن یہ ہے کہ وہ تاریخ کو زندگی سے جوڑ دیتی ہے۔ جب ہم اسے اس نظر سے پڑھتے ہیں تو ماضی محض ایک گزرے ہوئے زمانے کی تصویر نہیں رہتا، بلکہ وہ ہمارے حال کو پرکھنے کا آئینہ بن جاتا ہے۔ پھر سیرت کا مطالعہ کتاب ختم کرنے کا عمل نہیں رہتا، بلکہ اپنے آپ کو اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھنے کا عمل بن جاتا ہے۔
شاید سیرت کے مطالعے کی حقیقی منزل یہی ہے کہ علم محبت کو جنم دے، محبت اتباع کی طرف لے جائے، اور اتباع کردار کو بدل دے۔ جب یہ کیفیت پیدا ہوجائے تو سیرت محض ایک علمی موضوع نہیں رہتی، وہ ایمان کی حرارت، فکر کی روشنی، کردار کی تعمیر، دعوت کی سمت اور زندگی کا معیار بن جاتی ہے جس پر انسان کو بجا طور پر ناز ہوسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے شوقِ مطالعہ کو علمِ نافع، صحیح فہم اور رسولؐ کی محبت کا ذریعہ بنائے، اور سیرت کے مصادر و مآخذ سے صحیح استفادے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان خوش نصیب لوگوں میں شامل فرمائے جن کے لئے سیرتِ طیبہ ماضی کی ایک داستان نہیں، بلکہ حال کی رہنمائی، کردار کی تعمیر، مستقبل کی امید اور آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
مطالعہ ٔ سیرت کا اہم اصول
سیرت کے مطالعے میں ایک نہایت اہم اصول روایت اور درایت کا امتزاج ہے۔ محض روایت جمع کرلینا تحقیق نہیں، اور صرف عقلی مناسبت کی بنیاد پر روایات کو رد کردینا بھی تحقیق نہیں۔ سند، متن، سیاق، تاریخی قرائن، مختلف طرق، قرآن و سنت کے مجموعی مزاج اور محدثین کے اصول، ان سب کو سامنے رکھ کر سیرت کے مواد کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ اسی توازن سے سیرت ایک طرف افسانوی قصہ خوانی سے محفوظ رہتی ہے اور دوسری طرف ایسی خشک تاریخی تنقید سے بھی جس میں نبوت کے روحانی اور اخلاقی پہلو نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔سیرت کے طالب علم کے لئے تاریخ، حدیث، لغت اور ادب کی باہمی نسبت کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ حدیث روایت کی بنیاد مضبوط کرتی ہے، تاریخ زمان و مکان اور اجتماعی حالات کا شعور عطا کرتی ہے، لغت الفاظ کے دقیق مفاہیم کھولتی ہے، اور ادب اس عہد کی تہذیبی اور ذہنی فضا سے آشنا کرتا ہے۔ یہ علوم سیرت سے باہر کے معاون مضامین نہیں، بلکہ اس کے فہم تک پہنچنے کے مختلف راستے ہیں۔
مطالعہ ٔ سیرت کا اہم تقاضا
سیرت کا مقصد صرف معلومات میں اضافہ نہیں، اس کا مقصد انسان کی تعمیر ہے۔ اگر ہم نے سیرت کی درجنوں کتابیں پڑھ لیں، مصادر کی فہرستیں یاد کرلیں اور روایات کی تخریج سے واقف ہوگئے،لیکن ہمارے اخلاق، معاملات، عبادات، دعوت اور تعلق باللہ میں کوئی تبدیلی نہ آئی تو اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے سیرت کے ظاہر کو تو پڑھ لیا ہے مگر اس کی روح کو نہیں چھوسکے۔ سیرت کا حقیقی اثر اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب صبر ہمارے لئے محض ایک لفظ نہ رہے بلکہ زندگی کا طریقہ بنے، رحمت ہمارے معاملات میں اترے، عدل ہماری قوت بنے، عفو ہماری شخصیت کا حصہ بنے، اختلاف کے باوجود اخلاق باقی رہے، دعوت میں حکمت پیدا ہو، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ ہمارے اندر محبت ِ رسولؐ کو محض جذبات نہیں بلکہ اتباع کی تحریک بنا دے۔