Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کے سینئر صحافی کا بیان: ’’یہ نیتن یاہو کی ذاتی شکست ہے!‘‘

Updated: June 16, 2026, 8:51 AM IST | Agency | New Delhi

ایران -امریکہ جنگ بندی پر ہاریٹز کے کالم نگار نے اسے شرمناک قرار دیاکہ تل ابیب کو مذاکرات میں شامل کیا گیا نہ معاہدہ کا حصہ بنایاگیا۔

Netanyahu.Photo:INN
نیتن یاہو۔ تصویر:آئی این این
اسرائیلی اخبار ’’ہاریٹز‘‘ کے کالم نگار جیڈون لیوی نے ایران امریکہ معاہدہ کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی ’’ذاتی شکست‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ پہلے تو اسرائیل کو مذاکرات میں شامل نہیں کیا گیا پھر اسے معاہدہ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ یہ معاہدہ نیتن یاہو کی شکست اس لئے بھی ہے کہ ایران پر حملے یا ایران کو تباہ و تاراج کرنا نیتن یاہو کا خواب تھا۔ بقول لیوی: ’’ایران، اسرائیل کا لائف پروجیکٹ تھا جو اَب ناکام ہوچکا لے۔‘‘
اسرائیلی صحافی لیوی (۷۳؍ سال) اپنے کریئر کی ابتداء میں اسرائیلی فوج کا حصہ تھے۔ اُنہو ںنے ۱۹۷۳ء میں ’’آئی ڈی ایف‘‘  میں شمولیت اختیار کی تھی۔ بعد ازاں ۱۹۷۸ء سے ۱۹۸۲ء تک وہ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم شمعون پیریز کے معاون اور ترجمان کے طور پر برسرکار ہے۔ اس کے بعد ہی سے انہوں نے ہاریٹز اخبار میں لکھنا شروع کیا ۔ اُن کا کالم ’’ٹوائلائٹ زون‘‘ مسئلۂ فلسطین سے دلچسپی رکھنے والے ہر خاص و عام میں مقبول تھا کیونکہ وہ فلسطینیوں کے مصائب و مشکلات کا احاطہ کیا کرتے تھے۔ اُن کے انہی کالموں کا مجموعہ ۲۰۰۴ء میں کالم کے نام ہی سے چھپا مگر اس ذیلی عنوان کےساتھ: ’’اسرائیلی جبر کے سائے میں زندگی اور موت‘‘۔ وہ ٹی وی چینلوں پر بھی آتے رہے اور اپنا شو بھی کیا۔
 
 
جیڈون لیوی نے ایران کی اسلئے ستائش کی کہ اس نے لبنان کے مسئلہ کو معاہدہ میں شامل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ یاد رہے کہ ایران نے لبنان پر اسرائیلی بمباری اور لبنانی علاقوں پر قبضے کے خلاف مسلسل آواز اُٹھائی۔ تہران جنگ میں ہونے اور بڑے پیمانے پر جاری سفارتی سرگرمیوں میں مصروف رہنے کے باوجود لبنان کے تعلق سے آواز اُٹھاتا رہا۔ جنگ بندی کا اعلان ہوا مگر لبنان پر حملے جاری رہے تب یہ سوچ کر خاموش نہیں رہا کہ اُسے جنگ سے راحت مل رہی ہے۔ وہ تب بھی لبنان کے حق میں مزاحمت کرتا رہا۔ جیڈون لیوی نے اپنے بیان میں لبنان کے تعلق سے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ معاہدہ میں لبنان کو شامل کرانا ایران کی بڑی کامیابی ہے مگر اسرائیلی فوج کا لبنان میں موجود ہونا باعث تشویش ہے۔ لیوی کے مطابق جب تک اسرائیلی فوج لبنان میں رہے گی تب مکمل جنگ بندی کی ضمانت نہیں مل سکتی۔
 
 
’’ہاریٹز‘‘ کے کالم نگار کے خیال میں ’’ایران اور امریکہ کامعاہدہ اسرائیل  کی شکست اور نیتن یاہو کی ذاتی شکست ہے۔  اب تل ابیب کی کوشش ہوگی کہ وہ معاہدہ کو سبوتاژ کرے۔ اگر لبنان کی بات کی جائے تو بیروت کے مضافاتی علاقوں میں اسرائیل کے حملوں سے صاف ظاہر ہے کہ یہ ’بچکانہ حملے‘ ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل ہار چکا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK