وزیر آبی وسائل نے ہدایت دی کہ ۳۱؍ اگست ۲۰۲۶ء تک عوام کو پانی فراہم کرنے کو یقینی بنانے کیلئے مناسب اقدامات کئے جائیں۔
بارش نہ ہوئی تو ڈیموں کا پانی اور کم ہو سکتا ہے- تصویر:آئی این این
مانسون میں تاخیر کےسبب ریاست کے ڈیموں میںصرف ۲۵؍ فیصد پانی باقی رہ گیاہے۔ مانسون کا اب بھی کوئی پتہ نہیں ہے۔ اسلئے پانی کی قلت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ریاست میں ناکافی بارش کے پس منظر میں اور ڈیموں میں پانی کے دستیاب ذخیرے کو دیکھتے ہوئے، آبی وسائل کے وزیر رادھا کرشن وکھے پاٹل نے ۳۱ ؍اگست ۲۰۲۶ء تک شہریوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کو اولین ترجیح دینے کی ہدایات متعلقہ افسران کو دی ہیں۔ انہوں نے محکمے کے افسران کو غیر قانونی پانی کے ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کرنے کا بھی حکم دیا۔
آبپاشی بھون (پونے) میں آبی وسائل کے وزیر رادھا کرشنا وکھے پاٹل کی موجودگی میں پانی کے ذخیرہ اور آئندہ مانسون کی صورتحال کے تعلق سے اتوار کو ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں کرشنا بیسن ایریگیشن ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ایگزیکٹیو ڈائرکٹر ہنومنت دھومل، گوداوری ایریگیشن ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ایگزیکٹیو ڈائرکٹر جےونت گاؤلی کے ساتھ چیف انجینئر، سپرنٹنڈنٹ انجینئر اور ایگزیکٹیو انجینئر موجود تھے۔
میٹنگ میں بتایاگیا کہ ریاست کے ڈیموں میں اس وقت قابل استعمال پانی کا ذخیرہ ۳۵۷ء۵؍ ٹی ایم سی یعنی محض ۲۵؍ فیصد ہے جو کہ پچھلے سال سے کم ہے۔ اس سال بارش کے اب تک بہت کم ہونے کی وجہ سے ڈیم میں پانی کم ذخیرہ ہو سکا ہے۔رادھا کرشنا وکھے پاٹل نے میٹنگ میں صورتحال کو سنجیدگی سے سنبھالنے کی ہدایت دی، خاص طور پر پونے میں قابل استعمال پانی کا ذخیرہ گزشتہ سال سے کم ہے۔
وزیر نے اس میٹنگ میں ۳۱؍اگست تک پونے اور پمپری چنچوڑ میٹروپولیٹن علاقوں کے تقریباً۸۵؍ لاکھ شہریوں کو پینے کے پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے ضروری پانی کو محفوظ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ آب پاشی کے وزیر نے افسران کو یہ بھی مشورہ دیا کہ تمام ڈیموں، آبی ذخائر اور بڑے آبی ذرائع میں دستیاب پانی کے ذخیرے کا فوری طور پر جائزہ لیا جائے اور کرشنا ندی ڈیم کے تحت مراٹھواڑہ اوردیگر علاقوں میں ضروری پانی کی فراہمی کا تعین کیا جائے۔ اس پر منحصر آبادی کو دیکھتے ہوئے محکمہ آبی وسائل، ضلع کلکٹر، میونسپل کارپوریشن، ضلع کونسل اور پانی کی فراہمی کے نظام کے درمیان موثر تال میل کے ساتھ پانی کے انتظام کیلئے فوری طور پر ایکشن پلان تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
میٹنگ میں افسران نے بتایا کہ آبی وسائل کا ۲۶؍فیصد ناسک ڈیویژن میں اور ۲۸؍فیصد مراٹھواڑہ ڈیویژن میں دستیاب ہے اور دونوں ڈیویژنوں کے پروجیکٹوں میں بارش کی متوقع مقدار ریکارڈ نہیں کی گئی ہے۔ افسران سےکہا گیا ہے کہ وہ پینے کے پانی کی ضروریات کو ترجیح دیں اورخاص طور پر مراٹھواڑہ اور احمد نگر ڈیویژنوں میں دستیاب پانی کے وسائل کی احتیاط سے منصوبہ بندی کریں۔ وکھے پاٹل نے میٹنگ میں واضح احکامات بھی دیئے ہیں کہ دستیاب پانی کو پہلے پینے کیلئے استعمال کیا جانا چاہیے اور غیر قانونی پانی نکالنے کو روکنے کیلئے خصوصی مہم چلائی جائے اور ریونیو، پولیس اور آبی وسائل محکمہ کی مشترکہ ٹیموں کے ذریعے سخت کارروائی کی جائے۔