روس کےجواب میں یوکرین کے متعدد حملے ، ۸۰؍فیصد آبادی اندھیرے میں

Updated: November 26, 2022, 10:18 AM IST | Kiev

روسی فوج نے یوکرین کےشہری ٹھکانوں پر۶؍میزائل حملے،۱۴؍ فضائی حملے اور۱۴؍ ایم ایل آر ایس حملے کیے ، حملوں سے تباہ ہونے والا پانی کا نظام بحال لیکن بجلی کاسسٹم درست نہیں ہوسکا

A man stands outside a car stuck in traffic in dark Ukraine
اندھیرے میں ڈوبے یوکرین میںٹریفک میں پھنسا ایک شخص گاڑی سے باہر کھڑا ہے

گزشتہ۲۴؍گھنٹوں کے دوران، یوکرین کی دفاعی افواج کے یونٹوں نے لوہانسک کے علاقے میں اسٹیلماخیوکا اور ڈیبرووا کے قریب کے علاقوں اور بلوہوریوکا، یاکوولیوکا، باخموتسکے، باخموت، اوپیٹنی، پروومیسک، کراسنو ہریوکا، میرینکا اور ڈان نوومیخائیلیوکاکے علاقوں میں دشمن کے حملوں کا جواب دیا۔یوکرین کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نےیہ بات فیس بک پر پوسٹ کی گئی اپنی آپریشنل اپ ڈیٹ میں کہی۔
 دوسری جانب روسی فوجیوںنےدفاعی افواج اور شہری ٹھکانوں پر۶؍میزائل حملے،۱۴؍ فضائی حملے اور۱۴؍ ایم ایل آر ایس حملے کیے ہیں۔ 
 ۲۳؍ نومبر کو، دفاعی افواج کے یونٹوں نے  زپورزیا  کے علاقےکےگاؤںزیلینئی یارمیں دشمن کی افرادی قوت اورفوجی سازوسامان کے ارتکاز کے علاقوں کو آگ سے نقصان پہنچایا۔ کم از کم۲۰؍حملہ آور مارے گئے، ۱۵؍ سے زائد زخمی ہوئے۔ دو ٹرک تباہ ہو گئے۔روس کے  ان حملوں کےسبب یوکرین کی ۸۰؍فیصد آبادی اب بھی اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ہے۔
 زپورزیاکےعلاقےکے گاؤں موسٹوف میں، روسی قابض مقامی آبادی کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ روسی فیڈریشن کی قانون سازی کے مطابق رئیل اسٹیٹ اور زمین کی دستاویزات کا اندراج کریں۔ انکار کی صورت میں، وہ جائیداد کو’نیشنلائز‘کرنے کی دھمکی دیتےہیں، یعنی صرف یہ جائیداد چھین لیتے ہیں۔
 جنرل اسٹاف کےمطابق یوکرینی ہوابازی حملہ آوروںکو تباہ کرنے کیلئےجاری ہے۔ گزشتہ۲۴؍ گھنٹوںکے دوران، یوکرین کی فضائیہ نے روسی فوج کےاہلکاروں،ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کے ارتکازکےعلاقوں پر۱۲؍حملےکیے،ساتھ ہی ساتھ اس کی فضائی دفاعی پوزیشنوں پر۲؍حملے کیے ہیں۔
 اس کے علاوہ، یوکرین کی دفاعی افواج کے میزائل اور توپ خانےکے دستوں نے دشمن کی۴؍ کمانڈ پوسٹوں، روسی اہلکاروں کے۲؍ جھرمٹ، فوجی سازوسامان،گولہ بارود کے ایک ڈپو اور ایک ریلے اسٹیشن کو نشانہ بنایا۔
 دوسری جانب یوکرین میں روسی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعدملک کی تقریباً۸۰؍فیصد آبادی بجلی کے بغیر  رہنے پر مجبور ہے  اور بجلی اور پانی کی خدمات بحال کرنے کی جدوجہد جاری ہے۔کیف کے میئر وٹالی کلِٹسکونےجمعرات کو کہا کہ روسی حملوں کے ۲۴؍گھنٹے بعد شام تک شہر کے تقریباً۶۰؍فیصد گھروں میں  بجلی کا بحران  ہے۔ درجہ حرارت صفر سےنیچے چلا گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ عملہ پانی کی سپلائی بحال کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے اور بجلی بحال کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
 نارویجن ریفیوجی کونسل (این آر سی) کے سیکریٹری جنرل جان ایگلینڈنےایک بیان جاری کرتےہوئے کہا کہ روس بہت مضبوط تاثر بنا رہا ہے۔ وہ یوکرین کے شہریوں کے ٹھکانوں پر حملہ کر رہا ہے۔ روس کی جانب سے پاور گرڈ پر مسلسل حملوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عام شہری شدید سردی میں بجلی اور پانی کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ یوکرین کا بجلی کی فراہمی کا نظام تباہی کے دہانے پر ہے اور حالیہ ہفتوں میں لاکھوں لوگوں کو ہنگامی بلیک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ واضح رہے کہ روس نے نو ماہ کی جنگ کے بعد یوکرین کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے پاور گرڈ پر حملہ کیا ہے۔

ukraine Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK