Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ میں شدت: میزائل، ڈرون حملے اور اربوں ڈالر کے فوجی اخراجات

Updated: March 07, 2026, 8:41 PM IST | London

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے جس میں فوجی، تکنیکی اور معاشی پہلو نمایاں ہو رہے ہیں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق صرف تین دنوں میں مشرق وسطیٰ میں ۸۰۰؍ سے زائد پیٹریاٹ میزائل استعمال کئے گئے، جو جدید دفاعی نظاموں کے بڑے پیمانے پر استعمال کو ظاہر کرتا ہے۔

Photo: PTI.
تصویر: پی ٹی آئی

(۱) مشرق وسطیٰ میں ۸۰۰؍ سے زائد پیٹریاٹ میزائل استعمال کئے گئے: زیلنسکی
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جدید میزائل دفاعی نظاموں کی تقسیم میں نمایاں عدم توازن کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران صرف تین دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں ۸۰۰؍ سے زیادہ پیٹریاٹ میزائل استعمال کئے گئے۔
روس کی جانب سے جاری حملوں کے درمیان گفتگو کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں استعمال ہونے والے پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی تعداد اس مقدار سے بھی زیادہ ہے جو یوکرین کو ۲۰۲۲ء میں روس کے مکمل حملے کے آغاز کے بعد اب تک موصول ہوئی ہے۔ یوکرینی صدر نے یہ معاملہ یوکرین کے شہروں کو درپیش مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے تناظر میں اٹھایا۔
یوکرین کو اب بھی ایرانی ڈیزائن کے شاہد ڈرونز اور روسی میزائل حملوں کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے اس کے فضائی دفاعی نظام پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔ زیلنسکی بارہا مغربی اتحادیوں سے مزید فضائی دفاعی امداد کی اپیل کر چکے ہیں۔
اس تقابل نے ماہرین کے درمیان عالمی دفاعی ترجیحات اور جدید فوجی وسائل کی تقسیم کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف خطوں میں کئی جغرافیائی و سیاسی بحران بیک وقت جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ پر یورپ اور خلیجی خدشات: ہجرت، توانائی اور سلامتی کو خطرہ

(۲) ایران آپریشن سے پہلے خفیہ ہتھیاروں کی پیداوار میں اضافہ: ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آغاز سے قبل امریکی دفاعی کمپنیوں کو تین ماہ پہلے ہی جدید ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ٹرمپ کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ کارروائی کے دوران امریکی افواج کو تکنیکی برتری حاصل رہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ استعمال ہونے والے ہتھیار ایک ’’انتہائی جدید اور خاص درجے‘‘ کے نظام کا حصہ تھے، جنہیں لاک ہیڈ مارٹن، بی اے ای سسٹمز اور ریتھیون جیسی بڑی دفاعی کمپنیوں نے تیار کیا۔ ان بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حملوں کی تیاری آپریشن کے عوامی اعلان سے کافی پہلے شروع ہو چکی تھی۔
اس انکشاف نے آپریشن ’’ایپک فیوری‘‘ کے حجم اور منصوبہ بندی پر نئی بحث کو جنم دیا ہے، جس میں پہلے ہی ہزاروں درست نشانے والے حملے اور بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی شامل بتائی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انکشاف بڑے فوجی آپریشنز کے دوران حکومتی حکمت عملی اور دفاعی صنعت کے درمیان قریبی تعاون کو ظاہر کرتا ہے، اور ساتھ ہی عالمی اسلحہ سازی اور فوجی تیاریوں کے طویل المدتی اثرات کے بارے میں بھی سوالات اٹھاتا ہے۔

(۳) ٹرمپ نے ایران کی مستقبل کی قیادت کیلئے شرائط بیان کر دیں
ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کی مستقبل کی قیادت مغرب کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا چاہتی ہے تو اسے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اپنے رویے میں بنیادی تبدیلی لانا ہوگی۔ جاری تنازع کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے آئندہ لیڈروں کو ’’امریکہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہوگا اور اسرائیل کے ساتھ بھی اچھا رویہ اختیار کرنا ہوگا۔‘‘
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران کے اندر ممکنہ سیاسی تبدیلیوں کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ واشنگٹن کی حکمت عملی کا مقصد تہران کو اپنی علاقائی پالیسیوں اور تزویراتی طرزِ عمل میں تبدیلی پر مجبور کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے بیانات تہران میں اس تاثر کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ بیرونی طاقتیں ایران میں حکومت کی تبدیلی چاہتی ہیں، ایک الزام جو ایرانی حکام اکثر سفارتی فورمز پر لگاتے ہیں۔
یہ تبصرے اس تنازع کے سیاسی پہلو کو بھی اجاگر کرتے ہیں، جہاں فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ایران کی آئندہ قیادت اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن پر بھی بحث جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: فلسطینی باشندے نئی علاقائی جنگ کے متعلق خدشات میں مبتلا، مزید تنازعات میں گِھر جانے سے خائف

(۴) ایرانی ڈرونز کا خلیجی خطے میں امیزون ڈیٹا سینٹرز سے متعلق تنصیبات پر حملہ
اطلاعات کے مطابق ایرانی ڈرونز نے بحرین اور متحدہ عرب امارات میں امیزون کے ڈیٹا سینٹرز سے وابستہ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے، جس سے تنازع کے تکنیکی اور معاشی پہلو مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔ اس حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈجیٹل انفراسٹرکچر اب جدید جنگوں میں ایک نیا ہدف بن سکتا ہے۔
حکام کے مطابق یہ حملے خطے میں امریکی مفادات سے وابستہ تنصیبات کے خلاف ایران کی وسیع تر جوابی کارروائی کا حصہ تھے۔ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے زیرِ انتظام ڈیٹا سینٹرز کو اہم بنیادی ڈھانچہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ دنیا بھر میں کاروباری اداروں اور حکومتوں کیلئے کلاؤڈ کمپیوٹنگ خدمات فراہم کرتے ہیں۔
اگرچہ نقصان کی مکمل تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں، لیکن ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ڈجیٹل انفراسٹرکچر پر حملے عالمی ٹیکنالوجی نیٹ ورکس کیلئے ایک نیا خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔
یہ واقعہ اس بات کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ جدید جنگ اب روایتی فوجی اہداف سے آگے بڑھ کر معاشی اور تکنیکی نظاموں کو بھی نشانہ بنانے لگی ہے۔

(۵) پاسدارانِ انقلاب کا متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈے پر حملے کا دعویٰ
ایرانی پاسداران انقلاب نے متحدہ عرب امارات میں ایک امریکی فوجی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایران کی سرزمین پر حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ ایران نے امریکی میزائل دفاعی نظام THAAD کے ایک اہم ریڈار کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جسے امریکی فضائی دفاعی نیٹ ورک کیلئے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ حملہ اردن میں واقع موافق السالتی ایئربیس پر نصب تھاڈ نظام کے ریڈار پر کیا گیا۔ 
امریکی حکام کے مطابق یہ ریڈار نظام تقریباً ۳۰۰؍ ملین ڈالر مالیت کا تھا اور یہ آنے والے بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگا کر انہیں روکنے کیلئے THAAD انٹرسیپٹر میزائلوں کو ہدف کی معلومات فراہم کرتا تھا۔ 
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بیان میں کہا کہ اس حملے کے بعد خطے میں امریکی میزائل دفاعی نظام کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے اور ایرانی میزائلوں کو ہدف تک پہنچنے میں زیادہ آزادی مل سکتی ہے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق خلیجی خطے میں تعینات تھاڈ نیٹ ورک کے دیگر اجزا کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ 
دوسری جانب امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دفاعی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور خراب ہونے والے نظام کو جلد تبدیل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ 
ایرانی فوجی بیانات کے مطابق اس کارروائی کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ تہران اپنی خودمختاری پر ہونے والے حملوں کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایرانی حکام نے اسے بیرونی طاقتوں کی جانب سے مبینہ جارحیت کے خلاف دفاعی ردعمل قرار دیا۔
علاقائی حکام نے ابھی تک نقصان یا جانی نقصان کی مکمل تصدیق نہیں کی، تاہم اس دعوے نے خلیجی خطے میں تنازع کے پھیلنے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، جہاں کئی امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں۔
سلامتی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے اس تنازع کے دائرہ کار کو نمایاں طور پر وسیع کر سکتے ہیں اور ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران تنازع کے بعد ٹرمپ نے کیوبا پر توجہ مرکوز کرنے کا اشارہ دیا

(۶) آپریشن ’’ایپک فیوری‘‘ کے پہلے ۱۰۰؍ گھنٹوں کی لاگت ۸۲ء۵؍ ارب ڈالر 
وسیع پیمانے پر جاری فوجی مہم ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کے پہلے ۱۰۰؍  گھنٹوں میں تقریباً ۸۲ء۵؍ ارب ڈالر کے فوجی اخراجات سامنے آئے ہیں، جو جدید جنگ کی بے پناہ مالی لاگت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایران کے اہداف کے خلاف کئے جانے والے مربوط حملوں میں بڑی مقدار میں درست نشانے والے ہتھیار، میزائل نظام اور فضائی کارروائیاں شامل رہی ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اخراجات کی تیز رفتار شرح اس مہم کی شدت کو ظاہر کرتی ہے، کیونکہ اس میں استعمال ہونے والے جدید ہتھیار انتہائی مہنگے ہوتے ہیں۔ بعض درست نشانے والے میزائل اور فضائی دفاعی انٹرسیپٹرز کی قیمت فی یونٹ لاکھوں بلکہ بعض اوقات ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
اس مالی حجم نے طویل فوجی تنازعات کے معاشی بوجھ کے بارے میں نئی بحث کو جنم دیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں دفاعی بجٹ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید نوعیت کی جنگیں بہت تیزی سے مالی وسائل اور اسلحہ کے ذخائر کو ختم کر سکتی ہیں، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے آپریشن کتنی دیر تک معاشی اور لاجسٹک دباؤ کے بغیر جاری رکھے جا سکتے ہیں۔

(۷) جنگ کی شدت بڑھنے کے ساتھ امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی
ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں دفاعی شعبے میں پیداوار تیز کرنے کی اپیلیں سامنے آ رہی ہیں۔ حکام اور ماہرین کے مطابق درست نشانے والے میزائل اور دفاعی نظاموں کے بڑے پیمانے پر استعمال سے ذخائر توقع سے زیادہ تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
اس صورتحال کے باعث امریکی حکومت نے بڑی دفاعی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ پیداوار کی صلاحیت میں اضافہ کریں تاکہ استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی کمی پوری کی جا سکے۔ لاک ہیڈ مارٹن، ریتھیون اور بی اے ای سسٹمز جیسی کمپنیاں اس عمل میں مرکزی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین جیسے متعدد عالمی بحرانوں کے دوران فوجی تیاری برقرار رکھنے کیلئے اسلحہ کے ذخائر کا محتاط انتظام ضروری ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جدید جنگیں کس طرح تیزی سے جدید فوجی سازوسامان کو استعمال کر ڈالتی ہیں، جس کے باعث حکومتوں کو فوری جنگی ضروریات اور طویل مدتی تزویراتی تیاری کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے۔

(۸) ایران تنازع تیزی سے پھیل رہا ہے 
متعدد رپورٹس کے مطابق ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری تصادم کئی محاذوں پر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ان رپورٹس میں فوجی کارروائیوں کے بڑھتے ہوئے حجم، سفارتی کشیدگی اور علاقائی سلامتی کے خدشات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس تنازع میں فضائی حملوں، ڈرون کارروائیوں اور جوابی دھمکیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ نیٹ ورک کے حوالے سے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کشیدگی کی رفتار ایک وسیع علاقائی جنگ کے خطرات کو بڑھا رہی ہے۔
رپورٹس میں اس بحران کے انسانی اور سیاسی اثرات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ شہری انفراسٹرکچر اور معاشی نظام بھی اس تنازع سے متاثر ہو رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق صورتحال انتہائی غیر یقینی ہے، جبکہ سفارتی کوششیں مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی فوجی پیش رفت کے ساتھ قدم ملا کر چلنے میں مشکل محسوس کر رہی ہیں۔

(۹) امریکہ نے اسرائیل کو ۱۲؍ ہزار بموں کی ہنگامی فروخت کی منظوری دے دی
امریکہ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران اسرائیل کو ۱۲؍  ہزار بموں کی ہنگامی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت تقریباً ۸ء۱۵۱؍ ملین ڈالر ہے اور اس کیلئے کانگریس کے معمول کے جائزے کے عمل کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔بیان کے مطابق اس معاہدے میں ایک ہزار پاؤنڈ وزنی بی ایل یو ۱۱۰؍ اے بی، عام مقصد کے ۱۲؍ ہزار بم اور ان سے متعلق انجینئرنگ، لاجسٹکس اور تکنیکی معاونت شامل ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے اس فیصلے کو ہنگامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو فوری طور پر اس اسلحے کی ضرورت ہے۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی سیکوریٹی امریکہ کیلئے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق اس فیصلے سے خطے میں جنگ مزید طول پکڑ سکتی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK