بلڈ بینکوں میں خون کی شدید قلت ، مریضوں اور متعلقین کی پریشانیاں دوچند

Updated: July 18, 2021, 1:44 AM IST | saeed ahmed khan | Mumbai

ممبئی و مضافات کے بلڈ بینکوں میں خون کا اسٹاک نہ ہونےسے متعدد مریضوںکاآپریشن نہیں ہوپارہاہے،کے ای ایم اسپتال میں زیر علاج چھوٹے بھائی کیلئےزخمی بڑے بھائی نےخون کا عطیہ دیا، ممبئی کے بلڈبینکوںمیںچنددنوںکا ہی خون محفوظ ہے،اسپتالوں کے انتظامیہ کی جانب سے متعلقین پراز خود خون کا انتظام کرنے کادباؤ

Adnan, who was injured in a road accident, needs blood every day.Picture:Inquilab
سڑک حادثے میںزخمی ہونے والے عدنان کو روزانہ خون کی ضرورت پڑرہی ہے۔(تصویر،انقلاب)

: کوروناوباء اور لاک ڈائون کے سبب گزشتہ ڈیڑھ سال سے شہر ومضافات میں بلڈڈونیشن کیمپ کے کم منعقد ہونےاورکوروناکا ٹیکہ لگو ا نے پرخون کا عطیہ دینے کی مشکوک پابندی سےممبئی اور مضافات کے ۵۵؍بلڈ بینکوں میںصرف ۳۵۰۰؍ یونٹ کاذخیرہ رہ گیاہے۔خو ن کا موجودہ ذخیرہ ممبئی کی صرف ۴؍دنوں کی ضرورت پوری کرسکتاہے۔ خون کی زبردست کمی سے مریض اور متعلقین کی پریشانیاں دوچند ہوچکی ہیں۔ اسپتالوں کے انتظامیہ کی جانب سے خون کا انتظام کرنے کے دبائوسےمتعلقین خون کیلئے دور دراز علاقوںکا چکر لگارہےہیں۔ خو ن نہ ملنے سے متعدد مریضوں کا آپریشن وقت پرنہیں ہوپارہاہے۔متعلقین خون کا عطیہ دےکر مریضوں کیلئے خون کا انتظام کررہےہیں۔
 واضح رہےکہ لاک ڈائون کی وجہ سےمحدود بلڈ ڈونیشن کیمپ ہورہےہیں ۔  اس کے علاوہ تعلیمی اداروں اور کارپوریٹ آفسوں کے بندہونے سے بھی خون کا عطیہ دینےوالے کم ہوگئے ہیں۔ لاک ڈائون سے آبائی وطن منتقل ہونے والوںسے بھی خون کا ذخیرہ کم ہوگیاہے۔ ساتھ ہی کوروناکا ٹیکہ لگوانےوالے بھی احتیاطً خون کا عطیہ نہیں دے رہےہیں۔ ان وجوہات کی بناءپر ممبئی کے بلڈ بینکوں میںخون کااسٹاک کم ہوگیاہے۔ علاوہ ازیں کووِڈ کے کیس میں کمی کے بعد دیگر امراض کے علاج اور آپریشن کئے جانے سے بھی خون کی ضرورت بڑھ گئی ہے ۔جبکہ خون کا ذخیرہ کم ہے۔
 حسینی باغ کے انصاری عرفات نے بتایاکہ ’’ہمارے محلے کے ۹۸؍ سالہ قاری صاحب دماغ کے مرض میں مبتلاہیں۔انہیں علاج کیلئے صابو صدیق اسپتال داخل کیاگیاہے۔جمعہ کی صبح ۱۰؍بجے ان کا آپریشن ہوناتھا لیکن اسپتال میں خون کا انتظام نہ ہونے سے ان کا آپریشن شام ۵؍بجے ہوا۔ ان کے آپریشن کیلئے۶؍پیکٹ اے پازیٹیو خون کی ضرورت تھی۔ اسپتال والوںنے ہمیں خون کا انتظام کرنےکیلئے کہاتھا۔ ہم نے جے جے ،نائر ، بامبے اور دیگر اسپتالوںاور بلڈبینک میں خون کیلئے دوڑ بھاگ کی مگر کہیں بھی خون نہیں ملا۔ بعدازیں ہم نےاسپتال کے آرایم او سے خون کا انتظام کرنےکی درخواست کی، آر ایم او نے کہاکہ ہم خون کا انتظام نہیں کرسکتے،پھر ہم نے میڈیکل سوشل ورکر شعیب ہاشمی سے رابطہ کیا ۔ انہوں نے بڑی بھاگ دوڑکرکے دہیسر ، چمبور اور نائر اسپتال سے مذکورہ ۶؍پیکٹ کا انتظام کیاتب جاکر شام ۵؍بجے قاری صاحب کاآپریشن ہوا۔‘‘
 ملت نگر، بھیونڈی کے۲۴؍سالہ فردین انصاری نے بتایاکہ ’’۱۳؍  جولائی، دوپہر۳؍بجے میں اپنے چھوٹے بھائی عدنان انصاری ( ۲۳) کے ساتھ بائیک پر مانکولی سے بھیو نڈی لوٹ رہاتھا۔ منی پنجاب ،بائی پاس کے قریب ایک ٹریک والے نے ہماری بائیک کو ٹکر ماردی جس سے ہم دونوں بھائی زخمی ہوگئے۔ عدنان کو پیر میں زیادہ جبکہ مجھے ہاتھ میں معمولی چوٹ آئی تھی ۔ میں کسی طرح عدنان کو مانکولی کے لوٹس اسپتا ل لے گیا۔ جہاں ڈاکٹروںنے چند گھنٹوںمیں ۱۵؍ہزارروپے کا بل بنادیا۔ میںنے ڈاکٹروںسے کہاکہ میں اتنی رقم نہیں اداکرسکتا۔ وہاں سے عدنان کو میں نور اسپتال لے گیا۔ نور اسپتال والوںنے عدنان کو نائر اسپتال لے جانےکا مشورہ دیا۔ اسی دن ڈیڑھ بجے رات میں عدنان کو لے کر نائر اسپتال پہنچا جہاں ڈاکٹرو ںنے اس کی حالت دیکھ کر ایک مشین کے کام نہ کرنے کا عذر پیش کرکے ہمیں کے ای ایم اسپتال جانےکا مشورہ دیا۔خیر کسی طرح میںنے عدنان کو کے ای ایم اسپتال میں داخل کروایا۔جہاں اس کا علاج جاری ہے مگر یہاں خون کی قلت سے علاج میں پریشانی ہورہی ہے ۔ ہر روز اسے ۲؍بو تل خو ن چڑھایاجارہاہے۔ لیکن بلڈ بینک میں خو ن نہ  ہونے سے جمعہ کو ایک ہی بو تل خون چڑھایاگیاجبکہ سنیچرکو بلڈبینک والے نے ایک بھی خون کی بوتل نہیں دی۔حالانکہ میں خود بھی زخمی ہوں لیکن عدنان کی پریشانی دیکھ کر میں اپنی تکلیف بھول گیاہوں۔ سنیچر کو متعدد بلڈبینکوںمیں خون کیلئے دوڑبھاگ کرنے کےبعد میں جے جے بلڈبینک گیا۔ جہاں میں نےاپنے خون کاعطیہ دے کر عدنان کیلئے ایک بوتل خون حاصل کیا، تاکہ عدنان کو کم ازکم ایک بو تل خون تو چڑھ سکے۔ ‘‘
 ناگپاڑہ کی ۳۶؍سالہ آفرین شیخ نےبتایاکہ ’’میری چھوٹی بہن زرین شیخ آنتوںکی بیماری میں مبتلاہے۔ اسے علاج کیلئے جمعہ کو جنوبی ممبئی کے ایک اسپتال میں داخل کیاگیا ۔ ڈاکٹروں نے تمام تشخیص کے بعد سنیچر اور اتوار کی نصف شب ساڑھے ۳؍بجے اچانک کہاکہ ابھی اس کا آپریشن کرنا ضروری ہے ۔ آپریشن کیلئے ۲؍پیکٹ خون کا انتظام کرناہے۔ اسپتال میں خون کا انتظام نہیں تھا۔رات کو ۴؍بجے ہم سب سے پہلے جے جے بلڈبینک گئے وہاںخون نہیں ملا۔بعدازیں مسینا، پرنس علی خان، اور قلابہ کےکئی اسپتالوںکا چکر لگایا مگر کہیں خون نہیں ملا۔ اس کےبعد شہر کے تقریباً بیسوں بلڈبینک سےفو ن پر رابطہ کیامگر خون نہیں ملا۔ اتوارکی صبح ہم نے اپنے فیملی ڈاکٹر سے رابطہ کیا۔ انہوںنے ہمیںالزابیتھ اسپتال سے ۲؍بوتل خون کا انتظام کرکے دیاتب جاکر اتوار کی دوپہر میں میری بہن کا آپریشن ہوا۔ لیکن خون کا انتظام کرنے میں بڑی پریشانی ہوئی ۔

covid-19 Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK