پین، مہاڈ، مہسلہ، شری وردھن، مروڈ، سدھا گڑھ، مانگاؤں اور تلہ تعلقہ جات کےتقریباً ۲۱؍ اسکول گزشتہ چند ہفتوں میں بند ہوچکے ہیں۔
EPAPER
Updated: October 24, 2026, 12:44 PM IST | Agency | Raigad
پین، مہاڈ، مہسلہ، شری وردھن، مروڈ، سدھا گڑھ، مانگاؤں اور تلہ تعلقہ جات کےتقریباً ۲۱؍ اسکول گزشتہ چند ہفتوں میں بند ہوچکے ہیں۔
رائے گڑھ ضلع پریشد کے زیر انتظام چلنے والے تقریباً۳۶۰؍ پرائمری اسکول طلبہ کی مسلسل گھٹتی ہوئی تعداد کے باعث بند ہونے کے سنگین خطرے سے دوچار ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق، ان اسکولوں میں طلبہ کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، جس کی وجہ سے گزشتہ چند ہی ہفتوں میں۲۱؍ اسکولوں کو پہلے ہی تالے لگائے جا چکے ہیں۔ان بند کئے گئے اسکولوں میں پین، مہاڈ، مہسلہ، شری وردھن، مروڈ، سدھا گڑھ، مانگاؤں اور تلہ تعلقہ جات کے اسکول شامل ہیں۔
اس ضمن میں محکمہ تعلیم کے ایک افسر نے بتایا کہ پٹ سنکھیا (بچوں کی تعداد) قاعدے کے مطابق کم ہونے کی وجہ سےستمبر کے آخر میں چار سکول بند کر دیے گئے۔ اس کے بعد اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں میں مزید۲۱؍ اسکول بند کردیئے گئے، جس سے یہ تعداد۲۵؍ ہوگئی۔
یہ بھی پڑھئے:رام کدم کے پاس آڈیو کلپ کی تاریخ کہاں سے آئی؟: منوج جرنگے
ضلع کے مزید ۷؍ اسکولوں کی تصدیق ہونا باقی
پرائمری ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ ضلع میں مزید ۷؍ا سکولوں کی تصدیق کر رہا ہے کیونکہ ان کے آن لائن ریکارڈ میں طلباء کی تعداد صفر ہے۔ اس بات کی تحقیقات جاری ہیں کہ آیا یہ اسکول طلبہ کی کمی کی وجہ سے بند ہونے کی حالت میں ہیں یا آن لائن ریکارڈ میں تکنیکی خرابیاں ہیں۔ اسلئے تصدیق کے بعد بند اسکولوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔
اسکول بند ہونے کی اہم وجوہات
دیہی اور نیم شہری علاقوں میں رہنے والے مقامی والدین کا رجحان اب تیزی سے انگریزی میڈیم اور نجی اسکولوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بنیادی سہولیات کی کمی اور نجی اسکولوں کے مقابلے میں کمزور انفرااسٹرکچر کے باعث سرکاری اسکول اپنی اہمیت کھو رہے ہیں، جس کا براہِ راست اثر ان اسکولوں میں نئے داخلوں پر پڑا ہے۔
حکومت کا موقف اور متبادل حکمت عملی
ریاستی حکومت کی یہ پالیسی رہی ہے کہ جن اسکولوں میں طلبہ کی تعداد۲۰؍ سے کم ہے، انہیں قریبی اسکولوں میں ضم کر کےکلسٹر اسکول بنا دیے جائیں۔ اگرچہ حکومت طلبہ کو قریبی اسکول منتقل کرنے پر ٹرانسپورٹ الاؤنس دینے کا وعدہ کرتی ہے، لیکن سماجی تنظیموں اور ماہرینِ تعلیم کی طرف سے اس اقدام کی سخت مخالفت کی جا رہی ہے کیونکہ اس سے غریب اور دیہی علاقوں کے بچوں کا تعلیم کا حق متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں مزید درجنوں اسکولوں کو ہمیشہ کیلئے بند کرنا پڑ سکتا ہے، جو کہ ضلع میں مراٹھی، اردو اور بنیادی سرکاری تعلیم کے مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔