ایران امریکہ جنگ کے پس منظر میں پاکستانی وزیراعظم کے چین دورے کو معنی خیز قرار دیا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: May 24, 2026, 10:28 AM IST | Beijing
ایران امریکہ جنگ کے پس منظر میں پاکستانی وزیراعظم کے چین دورے کو معنی خیز قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف چار روزہ دورے کیلئے چین پہنچ گئے۔ ایران امریکہ جنگ کے پس منظر میں اس دورے کو کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سنیچر کے روز دورے کے پہلے مرحلے میں چین کے شہر ہانگژو پہنچ گئے ہیں۔ ہانگژو کے شیاؤ شین ایئرپورٹ پر ژجیانگ صوبے کے نائب گورنر شو وینگوانگ، چین کے پاکستان میں سفیر جیانگ زائی ڈونگ اور پاکستان کے چین میں سفیر خلیل ہاشمی نےشہباز شریف کا استقبال کیا۔ پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی بھی موجود ہیں۔حالانکہ پاکستانی حکومت کے جاری کردہ بیان میں اسے دونوں ممالک کے درمیان کاروباری معاہدوں کی خاطر کیا جانے والادورہ قرار دیا جا رہا ہے لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور پوتن کے دوروں کے بعد شہباز شریف کا دورہ ایران جنگ کے پس منظر میں کافی اہم کیونکہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔