Inquilab Logo Happiest Places to Work

شیوسینا (شندے) ۲۰۲۹ء کا الیکشن اپنے دم پر لڑے گی؟

Updated: May 03, 2026, 1:19 AM IST | Mumbai

پارٹی ترجمان سنجے شرساٹ کے بیان سے سیاسی حلقوں میں کھلبلی، کہا ’’ کوئی پارٹی اگر تنہا الیکشن لڑنا چاہے تو ہمارے یہاں اسے روکنے کیلئے کوئی سیاسی نظام موجود نہیں ہے ‘‘

Sanjay Shersat, instead of denying the news, confirmed it (File)
سنجے شرساٹ نے خبر کی تردید کرنے کے بجائے اسے تقویت دی(فائل)

کیا ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا ۲۰۲۹ء کا الیکشن اپنے دم پر یعنی مہایوتی سے الگ ہو کر لڑے گی؟ اگر پارٹی کے ترجمان اور ریاستی وزیر سنجے شرساٹ کی بات مانیں تو ایسا ممکن ہے۔ سنیچر کو سنجے شرساٹ نے میڈیا کے سامنے یہ کہہ کر تہلکہ مچا دیا کہ ’’ شیوسینا (شندے) ۲۰۲۹ء کا الیکشن اپنے دم پر لڑ سکتی ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’ ہر کسی کو اپنی پارٹی کو آگے بڑھانے کا حق حاصل ہے۔‘‘ حالانکہ سنجے شرساٹ’ سامنا‘ اخبار میں کئےگئے ایک دعوے کا جواب دے رہے تھے۔ 
  یاد رہے کہ شیوسینا (ادھو) کے ترجمان اخبار ’سامنا‘ میں ایک مضمون شائع ہوا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ بی جے پی آئندہ الیکشن اپنے دم پر لڑنے کی تیاری کر رہی ہے۔ بی جے پی کی گاڑی اب بھر چکی ہے۔ اس میں چڑھنے کیلئے جگہ نہیں بچی ہے۔ یہ گاڑی اب شندے کی شیوسینا اور اجیت پوار کی این سی پی کو ٹھوکر مار کر آگے بڑھنے کی کوشش میں ہے۔‘‘ اخبار آگے لکھتا ہے ’’ اجیت پوار کی پارٹی ختم ہونےکے دہانے پر ہے جبکہ شیوسینا (شندے) کے اراکین اسمبلی بھی بی جے پی میں شامل ہونے والے ہیں۔‘‘ اسی تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے جب میڈیا نے سنجے شرساٹ سے سوال کیا تو انہوں نے کہا ’’ ہر ایک پارٹی خود کو مضبوط کرنے اور الیکشن کی تیاری کرنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے اور ایسا کرنا ان کا اختیار ہے۔ اگر دو دوست پارٹیاں کل کو الگ الگ الیکشن لڑنا چاہیں تو انہیں روکنے کیلئے کوئی سیاسی نظام ہمارے یہاں نہیں ہے۔‘‘ 
 جب میڈیا نے واضح سوال کیا کہ’’ کیا شیوسینا (شندے) ۲۰۲۹ء کا الیکشن اپنے دم پر لڑ سکتی ہے؟‘‘ تو انہوں نے کہا کہ یہ سوال ہر کسی پر عائد ہوتا ہے۔ شرساٹ کے مطابق’’ کیا شیوسینا (شندے) اپنے دم پر الیکشن لڑ سکتی ہے؟ ہاں لڑ سکتی ہے۔ کیا بی جے پی اپنے دم پر الیکشن لڑ سکتی ہے؟ ہاں لڑ سکتی ہے۔ کسی کا کسی سے کوئی بونڈ (قرار) نہیں ہوتا ہے۔ ہر پارٹی اپنے طور پر تیاری کرتی ہے اور وہ اپنے دم پر الیکشن لڑنے کیلئے آزاد ہوتی ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ اس میں کوئی غلط بات بھی نہیں ہے۔ ہم نے صرف ایک سیٹ کیلئے اتحادوں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا ہے۔ ‘‘
  سنجے شرساٹ نے  یاد دلایا کہ ۲۰۱۴ء میں شیوسینا ( غیر منقسم) اور بی جے پی الگ الگ الیکشن لڑ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ شیوسینا ( غیر منقسم ) اور بی جے پی اس سے قبل اتحاد توڑ کر ایک دوسرے کا مقابلہ کر چکے ہیں۔ ۲۰۱۴ء میں الیکشن سے چند روز قبل دونوں نے اتحاد کو ختم کرنےاور تنہا الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ اس وقت کانگریس اور این سی پی نے بھی خود کو ایک دوسرے سے الگ کر لیا تھا اور دونوں نے اپنے اپنے دم پر الیکشن لڑا تھا۔ جب نتائج آئے تو معلوم ہوا کہ بی جے پی کو ۱۲۲؍ سیٹیں ملیں، شیوسینا کو ۶۳؍ سیٹیں ملیں جبکہ کانگریس اور این سی پی کے حصے میں بالترتیب ۴۲؍ اور ۴۱؍ سیٹیں آئی تھیں۔ ‘‘ سنجے شرساٹ نے کہا ’’ کوئی کسی کو روک نہیں سکتا ہے اور نہ کوئی کسی کو اتحاد کیلئے مجبور کر سکتا ہے۔‘‘ سنجے شرساٹ کےاس بیان سے مہاراشٹر کی سیاست میں کھلبلی مچی ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے سامنا میں شائع تحریر کی تردید کرنے کے بجائے اس کو تقویت دی ہے۔سنجے شرساٹ کے اس بیانات سے مہایوتی کے اندر جاری کھینچ تان کا اشارہ مل رہا ہے۔ 
  حال ہی میں شیوسینا میں شامل ہونے والے بچو کڑو کے تعلق سے کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے شیوسینا (شندے) میں شامل ہو کر سیاسی خود کشی کر لی ہے۔ اس پر سنجے شرساٹ نے کہا ’’ بچو کڑو کو آئندہ سیاست کی سمت سمجھ میں آ گئی ہے ، اس لئے انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے کانگریس سے ہاتھ ملایا تھا کیا وہ خود کشی نہیں تھی؟ کانگریس کے ساتھ انہوں نے اتحاد نہیں کیا تھا بلکہ اس سے لپٹ گئے تھے۔ مگر کیا ہوا؟‘‘ 
 یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں کئی بار بی جے پی اور شیوسینا (شندے) کے درمیان خاموش چپقلش محسوس کی گئی۔ دونوں ایک دوسرے کو زچ کرتے ہوئے نظر آئے۔کہا جاتا ہے فرضی بابا اشوک کھرات پر اس لئے کارروائی کی گئی کہ اس سے قربت رکھنے والے زیادہ لیڈران ایکناتھ شندے کی پارٹی سے تھے ۔ حال ہی میں ایک ہی معاملے پر دونوں پارٹیوں کے موقف الگ الگ نظر آئے جیسے دھیریندر شاستری کے چھترپتی شیواجی کے تعلق سے دیئے گئے بیان پر دیویندر فرنویس نے ان کا دفاع کیا تھا جبکہ شیوسینا شندے کے گلاب رائو پاٹل نے کہا تھا ’’ دھیریندر شاستری بھوندو ہے اسے کچھ نہیں معلوم ہے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK