Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کا آبنائے ہرمز میں ’’نئے قواعد‘‘ کا اعلان، کشیدگی میں اضافہ

Updated: May 02, 2026, 10:10 PM IST | Tehran

ایران کے پاسداران انقلاب نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں اپنی ساحلی پٹی پر ’’نئے قواعد‘‘ نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایت سے جوڑا جا رہا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ تقریباً ۲؍ ہزار کلومیٹر ساحلی علاقے پر کنٹرول بڑھائے گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی جاری ہے اور حالیہ جنگ بندی کے باوجود خطے میں عدم استحکام برقرار ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایران کے طاقتور فوجی ادارے پاسداران انقلاب نے خلیج فارس اور اہم عالمی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں اپنی ساحلی حدود پر ’’نئے قواعد‘‘ نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس نے پہلے سے کشیدہ خطے میں مزید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق، پاسداران انقلاب کی بحری شاخ نے اعلان کیا کہ وہ تقریباً ۲؍ ہزار کلومیٹر طویل ایرانی ساحلی پٹی پر اپنی نگرانی اور کنٹرول کو مزید مضبوط کرے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ پانی ایران کے معزز عوام کے لیے روزی اور طاقت کا ذریعہ ہے اور خطے کے لیے سلامتی اور خوشحالی کا باعث بنے گا۔‘‘ اگرچہ ان ’’نئے قواعد‘‘ کی مکمل تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئیں، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف سیکوریٹی بلکہ تجارتی اور جغرافیائی حکمت عملی کے حوالے سے بھی اہم ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز بحران عالمی معیشت کا گلا گھونٹ رہا ہے: انتونیو غطریس

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے ارد گرد کشیدگی عروج پر ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ کسی بھی قسم کی پابندی یا کنٹرول عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتا ہے۔ ایران نے اس سے قبل ۲۸؍ فروری کو شروع ہونے والے امریکی اسرائیلی حملوں کے جواب میں اس اسٹریٹجک گزرگاہ پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد خطے میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا، جس نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کی۔ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے ۸؍ اپریل کو ایک عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد ۱۱؍ اور ۱۲؍ اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے۔ تاہم، ان مذاکرات میں کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا، جس سے صورتحال غیر یقینی کا شکار رہی۔
بعد ازاں، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر یکطرفہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا، لیکن اس کے لیے کوئی واضح ٹائم فریم مقرر نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود، خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے برقرار رہی ہے۔ ۱۳؍ اپریل کے بعد سے امریکہ نے مبینہ طور پر اس آبی گزرگاہ میں ایرانی سمندری ٹریفک کو نشانہ بناتے ہوئے ایک قسم کی بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے، جس سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سنگا پور: آبنائے ہرمز کھلنے پر بھی عالمی بحران جاری رہے گا: وزیراعظم کی تنبیہ

تجزیہ کاروں کے مطابق پاسداران انقلاب کا یہ نیا اعلان خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایک ماہر نے کہا کہ ’’آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا مطلب صرف فوجی برتری نہیں بلکہ عالمی توانائی سپلائی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت بھی ہے۔‘‘ تاہم، یہ بھی واضح ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی طاقتیں پہلے ہی مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی برادری کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا یہ ’’نئے قواعد‘‘ خطے میں استحکام لائیں گے یا مزید تنازعات کو جنم دیں گے۔ فی الحال، صورتحال غیر یقینی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید وضاحت اور ردعمل سامنے آنے کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK