Updated: May 02, 2026, 10:10 PM IST
| Washington
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خلیج فارس میں ایرانی جوابی حملوں سے متعدد امریکی فوجی اڈوں کو غیر معمولی نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کم از کم ۸؍ ممالک میں ۱۶؍ تنصیبات متاثر ہوئیں، جن میں سے کچھ ’’عملی طور پر ناقابل استعمال‘‘ ہو چکی ہیں۔ حملوں میں ریڈار سسٹمز، کمیونیکیشن انفراسٹرکچر اور اعلیٰ قیمتی اہداف جیسے ای ۳؍ سینٹری بوئنگ کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم خلیجی ریاستوں کی جانب سے سرکاری سطح پر نقصان کی تفصیلات محدود ہیں، جس کے باعث صورتحال پر مختلف زاویوں سے بحث جاری ہے۔
ایرانی حملوں سے امریکی فوجی اڈوں میں ہونے والی تباہی کی ایک تصویر۔ تصویر: ایکس
سی این این کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے کیے گئے جوابی حملوں نے خلیج فارس میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نمایاں نقصان پہنچایا ہے، جس نے خطے میں سیکوریٹی کے توازن اور فوجی حکمت عملی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، کم از کم ۸؍ مختلف ممالک میں واقع ۱۶؍ امریکی فوجی تنصیبات ان حملوں سے متاثر ہوئیں۔ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بعض اڈے اس حد تک متاثر ہوئے کہ وہ ’’عملی طور پر ناقابل استعمال‘‘ ہو گئے ہیں، جو امریکی فوجی موجودگی کے لیے ایک غیر معمولی چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق ’’ان حملوں کا پیمانہ اور درستگی اس سے پہلے امریکی اڈوں پر دیکھی جانے والی کسی بھی کارروائی سے مختلف تھی۔ یہ حملے تیز رفتار، انتہائی نشانہ بند اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس تھے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: اسرائیل، عرب امارات،کویت، قطر کو جدید ہتھیاروں کی فروخت کو منظوری
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایران نے خاص طور پر اعلیٰ قدر اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے جدید طیارے جیسے ای ۳؍ سینٹری بوئنگ شامل ہیں، جن کی مالیت کروڑوں ڈالر بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کمیونیکیشن اور ریڈار سسٹمز پر حملوں نے ان اڈوں کی دفاعی صلاحیت کو بھی متاثر کیا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ بڑے گنبد نما ڈھانچے، جنہیں ’’ریڈومز‘‘ کہا جاتا ہے اور جو سیٹیلاائٹ کمیونیکیشن کے لیے ضروری ہوتے ہیں، کو شدید نقصان پہنچا۔ ایک علاقے میں ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں تقریباً تمام ریڈومز تباہ ہو گئے، جس سے ڈیٹا ٹرانسمیشن اور نگرانی کے نظام بری طرح متاثر ہوئے۔
امریکی کانگریس کے ایک معاون نے ان اہداف کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’ریڈار سسٹمز انتہائی مہنگے اور پیچیدہ ہوتے ہیں، اور انہیں تبدیل کرنا آسان نہیں ہوتا، اسی لیے یہ حملے کے لیے اہم اور مؤثر اہداف بن جاتے ہیں۔‘‘ رپورٹ کے مطابق یہ حملے اس وسیع تر تنازع کے دوران ہوئے جس میں ایران نے اپنے خلاف کارروائیوں کے جواب میں علاقائی سطح پر ردعمل ظاہر کیا۔ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا تھا کہ اس کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کا دائرہ خطے تک پھیل سکتا ہے اور امریکی اڈے بھی اس سے محفوظ نہیں رہیں گے۔
تاہم، اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ خلیجی ریاستوں نے ان حملوں سے ہونے والے نقصان کے بارے میں سرکاری سطح پر زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ اس خاموشی نے ماہرین کے درمیان مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے، جبکہ کچھ تجزیہ کار اسے سفارتی حساسیت اور علاقائی توازن برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ ان حملوں نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے کردار پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔ ایک طرف یہ موجودگی اتحادی ممالک کے لیے سیکوریٹی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف یہی اڈے ممکنہ اہداف بھی بن سکتے ہیں، جس سے مقامی آبادی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آخرکار ڈونالڈ ٹرمپ کو’’امن کا نوبیل انعام ‘‘ملنے کی امید، کمیٹی کی ۲۸۷؍ نامزدگی
سی این این کے مطابق، ’’یہ صورتحال خلیجی اتحادیوں کے لیے ایک مشکل توازن پیدا کرتی ہے، امریکی موجودگی سیکوریٹی فراہم بھی کرتی ہے اور خطرہ بھی بڑھاتی ہے۔‘‘ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس رپورٹ میں پیش کیے گئے دعوے بنیادی طور پر میڈیا ذرائع اور نامعلوم اہلکاروں کے حوالے سے ہیں، جبکہ سرکاری تصدیق محدود ہے۔ اس لیے ماہرین اس صورتحال کو احتیاط سے دیکھنے اور مزید تصدیق شدہ معلومات کا انتظار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔