Updated: May 02, 2026, 10:05 PM IST
| Allahabad
الہ آباد ہائی کورٹ نے سنبھل میں ایک نجی دعویٰ شدہ زمین پر باقاعدہ اجتماعی نماز کی اجازت اور پولیس تحفظ کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ مذہب پر عمل کا حق نجی جگہ کو مستقل عوامی عبادت گاہ میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ درخواست گزار نے گفٹ ڈیڈ کی بنیاد پر ملکیت کا دعویٰ کیا تھا، تاہم ریاست نے زمین کو عوامی استعمال کی قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ آئینی حقوق امن عامہ، اخلاقیات اور سماجی ہم آہنگی سے مشروط ہیں، اور کسی بھی سرگرمی کے عوامی اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
الہ آباد ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این
الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں سنبھل ضلع کی ایک زمین پر باقاعدہ اجتماعی نماز ادا کرنے کی اجازت اور پولیس تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے، اور اس کے ساتھ ہی مذہبی آزادی کے دائرہ کار پر واضح رہنمائی بھی فراہم کی ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس سرل سریواستو اور جسٹس گریما پرشاد پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سنایا، جس میں ایک درخواست گزار کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کو خارج کر دیا گیا۔ درخواست گزار نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ گاؤں اکونا میں واقع زمین کا مالک ہے اور اسے وہاں نماز ادا کرنے سے غیر قانونی طور پر روکا جا رہا ہے۔ اس نے اپنی ملکیت کے ثبوت کے طور پر ۱۶؍ جون ۲۰۲۳ء کی ایک رجسٹرڈ گفٹ ڈیڈ پیش کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: اسٹرانگ روم کی حفاظت کیلئے ممتا خود پہنچیں!
درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ اسے اور دیگر نمازیوں کو نماز ادا کرنے سے روکنا آئین کے آرٹیکل ۱۹، ۲۵، ۲۶، ۲۷؍ اور ۲۸؍ کے تحت حاصل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم، اتر پردیش حکومت نے اس دعوے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ زمین ریونیو ریکارڈ میں عوامی استعمال کے لیے درج ہے اور درخواست گزار ملکیت ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ مذہب پر عمل کا حق مطلق نہیں ہے بلکہ یہ امن عامہ، اخلاقیات اور صحت جیسے عوامل سے مشروط ہوتا ہے۔ بنچ نے کہا کہ ’’نجی املاک کو ذاتی اور محدود مذہبی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن جب یہ سرگرمی باقاعدہ اور منظم اجتماعی شکل اختیار کر لے اور اس میں باہر کے افراد شامل ہونے لگیں تو یہ ریگولیٹری دائرے میں آ جاتی ہے۔‘‘
عدالت نے مزید کہا کہ ’’آئین مذہبی آزادی کی حفاظت کرتا ہے، لیکن یہ آزادی دوسروں کے حقوق اور سماجی ہم آہنگی کے ساتھ متوازن ہونی چاہیے۔‘‘ ریاستی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ اس زمین پر پہلے صرف مخصوص مواقع جیسے عید کے دن نماز ادا کی جاتی تھی، لیکن اب درخواست گزار اسے مستقل اجتماعی عبادت گاہ میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ عدالت نے اس نکتے کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ انتظامیہ کو کسی ممکنہ خرابی کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بنچ نے کہا کہ ’’جہاں کسی سرگرمی سے امن عامہ متاثر ہونے کا امکان ہو، ریاست کو پیشگی کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔ اصل سوال سرگرمی کی مذہبی نوعیت نہیں بلکہ اس کے عوامی اثرات ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بیف لے جانے کا ثبوت نہ ہونے پر گاڑی ضبط کرنا غیر قانونی ہے: ہائی کورٹ
عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ درخواست میں ٹھوس شواہد، مخصوص واقعات یا حکام کے خلاف واضح الزامات کی کمی ہے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ’’سرکاری زمین عام استعمال کے لیے ہوتی ہے، اور کوئی فرد یا گروہ اسے مستقل یا خصوصی مذہبی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کا حق دعویٰ نہیں کر سکتا۔‘‘ عدالت نے مزید وضاحت کی کہ حتیٰ کہ اگر زمین کو نجی بھی تسلیم کر لیا جائے، تب بھی درخواست گزار اس بنیاد پر ریلیف کا حقدار نہیں بنتا کیونکہ وہ موجودہ محدود عبادت کے طریقے کو برقرار رکھنے کے بجائے ایک نئی اجتماعی سرگرمی شروع کرنا چاہتا ہے۔
آخر میں عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ درخواست گزار کوئی قابل نفاذ قانونی حق ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، اس لیے درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ بنچ نے کہا کہ ’’یہ عدالت اس بنیاد پر ریلیف نہیں دے سکتی، خاص طور پر جب معاملہ امن عامہ اور سماجی ہم آہنگی سے متعلق ہو۔‘‘ یہ فیصلہ مذہبی آزادی اور عوامی نظم و نسق کے درمیان توازن کے حوالے سے ایک اہم عدالتی نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو مستقبل میں اسی نوعیت کے معاملات میں رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔