• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چندر پور میونسپل کارپوریشن میں شیوسینا(ادھو )نے بی جے پی کا ساتھ دیا

Updated: February 10, 2026, 11:23 PM IST | Chandrapur

چندرپور میونسپل کارپوریشن میں گزشتہ کئی دنوں سے جاری اقتدار کی کشمکش کا منگل کو ڈرامائی طور پر خاتمہ ہوگیا۔ منگل کی صبح تک یہ بات ہو رہی تھی کہ شیو سینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے حکم دیا ہے کہ’ کسی بھی حالت میں بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھیں‘، تاہم ٹھاکرے گروپ نے دوپہر میں بی جے پی سے ہاتھ ملا کر سب کو حیران کر دیا۔

Sangeeta Khandekar
سنگیتا کھانڈیکر

 چندرپور میونسپل کارپوریشن میں گزشتہ کئی دنوں سے جاری اقتدار کی کشمکش کا منگل کو ڈرامائی طور پر خاتمہ ہوگیا۔ منگل کی صبح تک یہ بات ہو رہی تھی کہ شیو سینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے حکم دیا ہے کہ’ کسی بھی حالت میں بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھیں‘، تاہم ٹھاکرے گروپ نے دوپہر میں بی جے پی سے ہاتھ ملا کر سب کو حیران کر دیا۔ کانگریس لیڈر وجے وڈیٹیوار اور شیو سینا (ادھو) گروپ کے درمیان غلط فہمیاں اور بی جے پی کی شیو سینا (ادھو) گروپ کو میئر کے عہدے کی ’’پیشکش‘‘ نے چندر پور میں ایک نئی سیاسی مساوات کو جنم دیا ہے۔ کئی جوڑ توڑ اور آپسی کشمکش کے درمیان چندرپور میونسپل کارپوریشن کے میئر کے عہدے کیلئے منگل کو انتخاب ہوا۔ مقابلہ بی جے پی کی سنگیتا کھانڈیکر اور کانگریس کی ویشالی مہاڈولے کے درمیان تھا۔ اس سخت مقابلے میں بی جے پی کی سنگیتا کھانڈیکر نے بازی ماری لی۔ کانگریس امیدوار ویشالی مہاڈولے کو ۳۱ ؍جبکہ سنگیتا کھانڈیکر کو ۳۲ ؍ووٹ ملے۔ سنگیتا کھانڈیکر صرف ایک ووٹ سے میئر منتخب ہوئی ہیں۔ ونچت بہوجن اگھاڑی کے دو کارپوریٹر ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہے۔ جبکہ اے آئی ایم آئی ایم نے بھی اس الیکشن میں غیر جانبدارانہ موقف اختیار کیا جس کا نتیجہ پر فیصلہ کن اثر پڑا۔
وڈیٹیوار اور شیوسینا لیڈر سندیپ گُرہے کی ملاقات بے نتیجہ رہی
 منگل کی صبح کانگریس لیڈر وجے وڈیٹیوار اورشیوسینا(ادھو) کے ضلعی سربراہ سندیپ گُرہے کے درمیان میٹنگ ہوئی ۔ اس میٹنگ میں  شیوسینانے میئر کے عہدے کا مطالبہ کیا لیکن وڈیٹیوار پانچ سالہ دور میں ایک بار بھی میئر کا عہدہ دینے کو تیار نہیں تھے۔ اس سے ناراض ہوکر سندیپ گُرہے اچانک میٹنگ چھوڑ کر چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد، مقامی بی جے پی لیڈر کشور جورگیوار نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ شیوسینا نے بی جے پی کی حمایت کی ہے۔
اقتدار میں شراکت کا فارمولا کیا ہے؟
 بی جے پی اور ادھو گروپ کے درمیان اقتدار کی تقسیم کے لیے ڈھائی سال کا فارمولہ طے کیا گیا ہے۔ پہلے ڈھائی سال بی جے پی کا میئر رہے گا، اگلے ڈھائی سال ادھو گروپ کا میئر رہے گا۔ جبکہ ادھو گروپ کے پرشانت دانو ۵؍ سال تک ڈپٹی میئر رہیں گے ۔ پہلے اور چوتھے سال کیلئے چیئرمین کا عہدہ ادھو گروپ کو دیا گیا ہے۔بتادیں کہ چندر پور میونسپل کارپوریشن میں ۲۷؍ سیٹوں کی مضبوط اکثریت ہونے کے باوجود کانگریس کو اقتدار سے دور رہنا پڑا ہے۔ بی جے پی کے پاس ۲۳؍ اور  ادھو گروپ کے پاس ۶؍ سیٹیں تھیں۔ جورگیوار نے کہا’’ہمارے لیڈر میئر کا عہدہ چھوڑنا نہیں چاہتے تھے لیکن شہر کی ترقی اور مستحکم اقتدار کیلئے ہم نے ٹھاکرے گروپ کے مطالبے کو مان لیا۔‘‘ اس حیران کن اتحاد پر سندیپ گُرہے نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نےترقی کیلئے بی جے پی کا ساتھ دیا ہے۔ وجے وڈیٹیوار ہمیں کسی صورت بھی میئر کا عہدہ دینے کے لیے تیار نہیں تھے ۔ اس کے برعکس کشور جورگیوار اور سدھیر منگنٹی وار ہمارے ساتھ رابطے میں تھے اور ہمیں باعزت طور حصہ دیا۔‘‘
 وجے وڈیٹیوار کی میڈیا میں وضاحت
 ادھو گروپ کے ضلعی سربراہ سندیپ گُرہے کے وجے وڈیٹیوار کے ساتھ میٹنگ سے واک آؤٹ کرنے کے بعد، وجے وڈیٹیوار نے میڈیا کے سامنے اپنا ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’ہمارے پاس ۳۱؍ کارپوریٹر ہیں۔ ہم نے اُدھو شیو سینا کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ پیش کیا تھا۔ اس کے علاوہ اگر ممکن ہو تو ہم انہیں ڈپٹی میئر کا عہدہ دینے کی تیاری میں تھے لیکن شیوسینا اپنے موقف پر اڑی ہوئی تھی کہ انہیں میئر کا عہدہ چاہئے۔ ہم اس پر بات کر ہی رہے تھے لیکن بات نہیں بنی تو کیا ہوا اب ہم اپوزیشن میں بیٹھیں گے ۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ادھو سینا کو بی جے پی کی طرف سے لالچ دیا جا رہا ہے، بی جے پی نے ادھو سینا کو پیشکش کی، ہم نے بھی پہل کی تھی جس کی وجہ سے ہماری تعداد ۳۱؍ ہو گئی ہے، لیکن، اکثریت کے اعداد ۳۴؍ ہے، اس میں سے تین کی ضرورت تھی، ہم نے اسٹینڈنگ کمیٹی اور ڈپٹی میئر کے عہدے دینے پر اتفاق کیا لیکن انہوں نے کہا کہ ان کے پاس بی جے پی کا آفر ہے اور وہ بی جے پی سے بات کریں گے ،یہ کہہ کر سندیپ گُرہے چلے گئے۔ بتا دیں کہ سنجے راؤت نے منگل کی صبح میڈیا سےکہا تھا کہ اُدھو ٹھاکرے کا یہ موقف ہے کہ وہ کسی بھی صورت بی جے پی کی مدد نہیں کریں گے۔
سپکال کا خریدوفروخت کا الزام 
 کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے اس اتحاد پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چندر پور میں ادھوسینا کی بی جے پی کی حمایت مہاراشٹر کی سیاست کو متاثر کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ونچت کے دو کارپوریٹر بھی  ادھوگروپ کے ساتھ بی جے پی میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ کانگریس اندرونی گروپ بندی کا شکار ہے۔ سپکال نے براہ راست الزام لگایا کہ چندر پورمیں بڑی ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے اورپیسے کے زور پر سیاست کی جارہی ہے۔

shiv sena Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK