شیوپال یادو کی اکھلیش یادو اور بھائی رام گوپال یادو پر تنقید

Updated: June 15, 2022, 12:13 PM IST | Agency | Etawah

مہابھارت کے حوالے سے شیوپال نے ایک بار پھر خود کو پانڈو اور اپنے بھائی بھتیجے کو کورو بتایا اور کہا کہ جیت پانڈو کی ہو گی

Shivpal Yadav.Picture:INN
شیوپال یادو۔ تصویر: آئی این این

پرگتی شیل سماج وادی پارٹی(پی ایس پی) کے صدر شیوپال سنگھ یادو نے ایک بار پھر اشاروں اشاروں میں اپنے بھائی پروفیسر رام گوپال یادو اور بھتیجے اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ مہابھارت کی جنگ ایک غلطی کی وجہ سے ہوئی تھی جس نے کوروؤں کے وجود ہی کو ختم کردیا تھا۔ اپنے انتخابی حلقے جسونت نگر کے چوبے میں منعقدہ ایک مذہبی تقریب میں پیر کی رات شرکت کرتے ہوئے شپوپال نے خود کو بھگوان رام کے چھوٹے بھائی بھرت اور وشنو اوتار بھگوان کرشن کے کردار سے جوڑتے ہوئے کہا کہ بحران سے کوئی بچ نہیں سکا ہے۔ چاہے وہ عام شخص ہو یا پھر بھگوان کی طرح مانی جانی والی کوئی عظیم شخصیت۔بحران تو بھگوان رام پر بھی آیا۔ بھگوان رام کا راج تلک ہونے جارہا ہے لیکن کیکیئی کی وجہ ان کو۱۴؍سال کیلئے بن باس کی سزا دے دی گئی۔ اکھلیش یادواوررام گوپال یادو کا نام لئے بغیر پی ایس پی سربراہ نے مہابھارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کوروؤں اور پانڈوؤں کے درمیان مہا بھارت کی جنگ نہیں ہوتی لیکن ایک غلطی کی وجہ سے جنگ کے حالات بن گئے۔پانڈوؤں کو جوا نہیں کھیلنا چاہئے تھا اور اگرقمار بازی کرنی ہی تھی تو دریودھن سے کھیلنا چاہئے تھا۔  انہوں نے کہا کہ پانڈو تو صرف پانچ گاؤں مانگ رہے تھے، اگر پانڈؤں کو۵؍گاؤں مل گئے ہوتے تو جنگ نہیں ہوتی لیکن کوروؤں اور پانڈوؤں کے درمیان جب جنگ ہوئی تو کرشن پانڈوؤں کے حامی بنے اور جنگ پانڈوؤں نے جیت لی۔شیوپال نے کہا کہ’’  اُس وقت کورو سب سے زیادہ طاقت ور تھے لیکن بھگوان کرشن کے پانڈوؤں کے رتھ بان بننے سے مہابھارت کی جنگ پانڈوؤں نے جیت لیا۔‘‘  خیال رہے کہ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے جب شیوپال سنگھ یادو نے رامائن اور مہا بھارت کا ذکر کرتے ہوئے  اکھلیش اور رام گوپال  یادو پر نشانہ سادھا ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی بارمہا بھارت کا ذکر کرتے ہوئے اپنی بات کرچکے ہیں۔ اس طرح کی گفتگو میں وہ خود کو پانڈو اور اپنے بھائی بھتیجے کو کورو بتانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس بات کا بھی اشارہ کرتے ہیں کہ ان کی مانگ پانڈو کی طرح بہت مختصر ہے لیکن اگر ان کی بات نہیں مانی گئی تو کوروؤں کی طرح ان لوگوں کا وجود بھی ختم ہوجائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK