شیوراج بھوپال پہنچے، کابینہ کی توسیع فی الحال ملتوی، کسی بڑے اُلٹ پھیر کا امکان

Updated: July 01, 2020, 9:02 AM IST | Inquilab News Network | Bhopal

بی جے پی کی مرکزی قیادت نے شیوراج سنگھ چوہان کی بنائی گئی وزراء کی فہرست مسترد کردی، دو نائب وزیراعلیٰ بنائے جانے کی قیاس آرائیاں بھی تیز مدھیہ پردیش میں کابینہ کی توسیع کا معاملہ ایک بار پھر کھٹائی میں پڑگیا ہے۔ وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان وزیراعظم مودی، وزیرداخلہ امیت شاہ اور دیگر لیڈروں سے سے ملاقات کر کے تین دن بعد واپس آگئے ہیں۔ ان کے ساتھ بی جے پی کے ریاستی صدر وشنودت شرما بھی واپس آگئے ہیں۔

Shivraj Singh Chauhan - Pic : PTI
شیوراج سنگھ چوہان ۔ تصویر : پی ٹی آئی

 مدھیہ پردیش میں کابینہ کی توسیع کا معاملہ ایک بار پھر کھٹائی میں پڑگیا ہے۔ وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان وزیراعظم مودی، وزیرداخلہ امیت شاہ اور دیگر لیڈروں سے سے ملاقات کر کے تین دن بعد  واپس آگئے ہیں۔ ان کے ساتھ بی جے پی کے ریاستی صدر وشنودت شرما بھی واپس آگئے ہیں۔ اس دوران اطلاعات مل رہی ہیں کہ پارٹی اعلیٰ قیادت نے کابینہ میں توسیع کیلئے ان کی جانب سے بنائی گئی فہرست کو مسترد کردیا ہے اور ان کی ’مدد‘ کیلئے ریاست میں دو نائب وزیراعلیٰ بنانے کی بات کہی ہے۔ ’دینک بھاسکر‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش کے سینئر لیڈر نروتم مشرا اور تلسی سلاوٹ کو نائب وزیراعلیٰ بنانے کی بات چل رہی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ شیوراج سنگھ چوہان کی موجودگی میں نروتم مشرا کو بھی دہلی طلب کیاگیا تھا۔ 
 شیوراج سنگھ چوہان کے ساتھ صبح خصوصی طیارے سے ریاستی  جنرل سیکریٹری سوہاس بھگت بھی واپس ہوئے ہیں۔شیوراج چوہان اتوار کی دوپہر  دہلی روانہ ہوئے تھے۔ وہاں سے انہیں پیر کی رات واپس ہونا تھالیکن نہیں آسکے تھے،اسلئے منگل کی صبح لوٹے۔ 
 اس دوران شیوراج چوہان کی دو دنوں تک بی جےپی کے مرکزی لیڈروں سے مختلف امور پر بحث ہوتی رہی،لیکن کابینہ کی توسیع کے سلسلے میں حتمی فیصلہ فی الحال نہیں ہوپایا ہے۔اس کی وجہ سے کابینہ کی توسیع ایک دو دن کیلئے ملتوی ہو گئی ہے۔اس دوران پیر کی دوپہر میں  اچانک دہلی طلب کئے گئے ریاستی وزیر داخلہ نروتم مشرا فی الحال دہلی میں رُکے ہوئے ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ کانگریس کے اراکین کو توڑنے میں ان کی قابل ذکر ’خدمات‘ ہیں جس کا پارٹی نے کچھ اچھا صلہ دینے جارہی ہے۔پارٹی ذرائع  کے مطابق کابینہ کی توسیع  سے جڑی کچھ باتوں پر ابھی بھی بحث چل رہی ہے۔
  اس دوران سیاسی قلابازی دکھاتے ہوئے کانگریس چھوڑ کر بی جے پی کا دامن تھام لینے والے لیڈر  جیوترادتیہ سندھیا  کا بھی منگل کو بھوپال دورہ ملتوی ہوگیا ہے۔ریاست میں مارچ کے سیاسی واقعات کی وجہ سے سینئر لیڈر سندھیا   اور ان کے حامی چھ وزرا سمیت۲۲؍ اراکین اسمبلی نے اسمبلی کی رکنیت  سے استعفیٰ دے کر خود کو زعفرانی رنگ میں رنگ لیا تھا۔
  ان حالات میں اُس وقت کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے۲۰؍ مارچ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیاتھا، بعد ازاں۲۳؍ مارچ کو شیوراج سنگھ چوہان  نے وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا تھا۔اس کے پورے ایک ماہ بعد اپریل میں ۵؍ وزرا کو حلف دلاکر شیوراج سنگھ چوہان نے اپنے کابینہ کی تشکیل کی تھی۔اس کے بعد کابینہ کی توسیع  ہونی تھی لیکن پارٹی میں بغاوت کے خوف سے بی جے پی کوئی فیصلہ نہیں کرپارہی ہے۔
 اسمبلی میں اراکین کی تعداد کے حساب سے ریاست میں زیادہ سے زیادہ۳۵؍ وزیر ہو سکتے ہیں،جن میں وزیراعلیٰ بھی شامل ہیں۔ اس طرح شیوراج سنگھ چوہان  زیادہ سے زیادہ۲۹؍ نئے اراکین کو  وزیر بنا سکتے ہیں۔ ان کے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ  انہیں اپنی پارٹی کے سینئر لیڈروں کے ساتھ ہی ساتھ سندھیا  سے وابستہ لیڈروں کو بھی کابینہ میں شامل کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر بی جے پی کی اعلیٰ قیادت قابو پانے کی کوشش کررہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK