Inquilab Logo Happiest Places to Work

باب المندب اور آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں نمایاں کمی، تیل کی ترسیل پر خدشات بڑھ گئے

Updated: August 06, 2026, 7:03 PM IST | New Delhi

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث باب المندب اورآبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے، جس سے عالمی تجارت، تیل کی سپلائی اور سپلائی چین پر نئے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

Strait Of Hormuz.Photo:INN
آبنائے ہرمز۔ تصویر:آئی این این

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث باب المندب اورآبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے، جس سے عالمی تجارت، تیل کی سپلائی اور سپلائی چین پر نئے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ بحری ٹریکنگ اور شپنگ انڈسٹری کے اعداد و شمار کے مطابق، حالیہ ہفتوں میں ان دونوں اہم بحری راستوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں واضح کمی آئی ہے۔ کئی بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے سیکوریٹی خدشات کے باعث اپنے جہازوں کے راستے تبدیل کر دیے ہیں یا سفر مؤخر کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:استنبول میں محمد صلاح کا شاندار خیرمقدم، سیکڑوں مداحوں نے والہانہ استقبال کیا


ماہرین کے مطابق، آبنائے ہرمز  دنیا میں خام تیل کی ترسیل کے لیے سب سے اہم سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی طرح  باب المندب  بحیرہ احمر کو خلیجِ عدن اور بحرِ ہند سے ملاتا ہے اور یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ شپنگ کے متبادل راستے اختیار کرنے سے سفر کا دورانیہ اور لاگت دونوں بڑھ رہی ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر مال برداری کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو خام تیل، ایندھن، خوراک، الیکٹرانکس اور دیگر درآمدی اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ہندوستان سمیت ایشیائی ممالک پر اس کے اثرات زیادہ محسوس کیے جا سکتے ہیں کیونکہ یہ ممالک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک مشرقِ وسطیٰ سے تیل اور گیس درآمد کرتے ہیں۔ بحری راستوں میں رکاوٹ یا تاخیر کی صورت میں درآمدی لاگت بڑھنے کے ساتھ مہنگائی میں اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:دنیا کی ۵۷؍ فلمیں جنہوں نے ایک ارب ڈالر کا کاروبار کیا


تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی کم ہو جاتی ہے اور بحری سلامتی بہتر بنتی ہے تو جہازوں کی آمدورفت معمول پر آ سکتی ہے۔ تاہم، موجودہ حالات میں عالمی شپنگ کمپنیاں احتیاطی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں، جس کے باعث عالمی سپلائی چین پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK