• Sat, 31 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سکندر کھیر نے اپنی صلاحیتوں کے دم پر نام کمایا ہے

Updated: October 31, 2026, 1:18 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ہندوستانی فلمی دنیا میں بعض فن کاروں کو وراثت میں ایسا ماحول ملتا ہے جہاں اداکاری، فلم سازی اور فن کی باتیں روزمرہ زندگی کا حصہ ہوتی ہیں، لیکن اس ماحول میں پرورش پانے کے باوجود اپنی الگ شناخت قائم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ سکندر کھیر کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔

A fine actor, Sikandar Kher. Photo: INN
ایک عمدہ اداکار سکندر کھیر۔ تصویر: آئی این این

ہندوستانی فلمی دنیا میں بعض فن کاروں کو وراثت میں ایسا ماحول ملتا ہے جہاں اداکاری، فلم سازی اور فن کی باتیں روزمرہ زندگی کا حصہ ہوتی ہیں، لیکن اس ماحول میں پرورش پانے کے باوجود اپنی الگ شناخت قائم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ سکندر کھیر کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ وہ معروف اداکارہ کرن کھیر کے بیٹے اور اداکار انوپم کھیر کے سوتیلےبیٹےہیں۔ ایک طرف انہیں فلمی دنیا کے تجربات اور مشاہدات سے قریب رہنے کا موقع ملا، تو دوسری طرف اپنے نام اور کام کے بل پر ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کا چیلنج بھی درپیش رہا۔

سکندر کھیر کی پیدائش ۳۱؍ اکتوبر۱۹۸۴ءکولکھنؤ،اتر پردیش میںہوئی۔ان کی والدہ کرن کھیر ہندوستانی سنیما کی معروف اداکارہ ہیں،جب کہ ان کے حیاتیاتی والدگوتم بیری کاروباری شخصیت ہیں۔ کرن کھیر اور گوتم بیری کی شادی ختم ہونے کے بعد کرن نے۱۹۸۵ء میںاداکار انوپم کھیر سے شادی کی۔ اس وقت سکندر کم عمر تھے اور انوپم کھیر ان کی پرورش میں اہم کردار ادا کرنے لگے۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی میں بھی مسلمانوں کیخلاف فارم ۷؍ کا استعمال

سکندر کھیر نے فلمی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے اداکاری کی تربیت حاصل کی۔ انہوں نے انوپم کھیر کے ادارے ’ایکٹر پریپئرز‘ سے وابستہ ہوکر اداکاری کی باریکیاں سیکھیں۔ اس سے پہلے وہ یش چوپڑا کی فلم ’دل تو پاگل ہے‘ اور سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’دیوداس‘ میں معاون ہدایت کار کی حیثیت سے بھی کام کرچکے تھے۔ ان تجربات نے انہیں فلم بنانے کے عمل، ہدایت کاری اور اداکاروں کے کام کو سمجھنے کا موقع دیا۔ ۲۰۰۸ءمیں ہنسل مہتا کی فلم ’وُڈ اسٹاک ولا‘ سے ان کا باقاعدہ فلمی سفر شروع ہوا۔اس فلم میں انہوں نے ایک ایسے نوجوان کاکردار ادا کیا جو ایک پیچیدہ صورت حال میں پھنس جاتا ہے۔ فلم کو بہت بڑی تجارتی کامیابی نہیں ملی، لیکن سکندر کی اداکاری کو توجہ حاصل ہوئی۔ اسی سال وہ فلم ’سمر۲۰۰۷ء‘ میں بھی نظر آئے۔

۲۰۱۰ءمیں سکندرکھیر نے آشوتوش گواریکر کی فلم ’کھیلیں ہم جی جان سے‘ میں کام کیا۔۲۰۱۲ءمیں وہ عباس مستان کی تھرلر فلم ’پلیئرز‘ میںنظر آئے، جب کہ۲۰۱۳ءکی فلم ’اورنگ زیب‘ ان کے کریئر کی اہم فلموں میں شامل ہوئی۔سکندر کھیر کے کریئرمیں ۲۰۲۰ءمیں ریلیزہونے والی ویب سیریز ’آریہ‘ ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ رام مادھوانی کی تخلیق کردہ اس کرائم ڈراما سیریز میںسشمتا سین نے مرکزی کردار ادا کیا، جب کہ سکندر نے دولت کا کردار نبھایا۔

۲۰۲۲ءمیںسکندر کھیر فلم ’مونیکا، او مائی ڈارلنگ‘ میں نظر آئے۔ وسان بالا کی ہدایت کاری میں بننے والی اس کرائم کامیڈی تھرلر میں راج کمار راؤ، ہما قریشی اور رادھیکا آپٹے نے اہم کردار ادا کیے۔ سکندر نے نشی کانت ادھیکاری کا کردار ادا کیا۔ فلم میں سازش، قتل اور بلیک میلنگ کے واقعات کو ایک منفرد انداز میں پیش کیا گیا، اور ان کی اداکاری نے کہانی میں اپنا حصہ ڈالا۔۲۰۲۴ءمیں وہ ہدایت کار دیو پٹیل کی فلم ’منکی مین‘ میں بھی نظر آئے۔ یہ بین الاقوامی ایکشن تھرلر فلم تھی جس میں دیو پٹیل نے مرکزی کردار ادا کرنے کے ساتھ ہدایت کاری بھی کی۔اسی سال وہ فلم ’دکان‘ میں بھی دکھائی دیے، جو سروگیسی کےموضوع پر مبنی تھی۔ ان پروجیکٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ روایتی ہندی فلموں کے ساتھ نئے موضوعات اور مختلف انداز کی کہانیوں میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK