• Mon, 19 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنوبی کوریا کی معروف کافی چین ہولیِز پر سائبر حملہ، ۲۷؍ لاکھ صارفین کی ذاتی معلومات افشاں

Updated: October 19, 2026, 6:06 PM IST | Seoul

کمپنی نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہیکرز نے اس کے رکنیت پروگرام سے متعلق معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کی۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب جنوبی کوریا میں مختلف کمپنیوں اور مالیاتی اداروں پر سائبر حملوں کے واقعات میں اضافے کے باعث صارفین کی نجی معلومات کے تحفظ سے متعلق تشویش بڑھ رہی ہے۔

Cyber Fraud.Photo:INN
سائبرفریب دہی۔ تصویر:آئی این این

جنوبی کوریا کی معروف کافی چین ہولیِز (Hollys) پر سائبر حملے کے نتیجے میں تقریباً ۲۷؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار صارفین کی ذاتی معلومات افشاں ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کمپنی نے پیر کے روز اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہیکرز نے اس کے رکنیت پروگرام سے متعلق معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کی۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب جنوبی کوریا میں مختلف کمپنیوں اور مالیاتی اداروں پر سائبر حملوں کے واقعات میں اضافے کے باعث صارفین کی نجی معلومات کے تحفظ سے متعلق تشویش بڑھ رہی ہے۔
کمپنی کی ویب سائٹ پر جاری اطلاع کے مطابق، ہیکرز نے ۳؍ستمبر سے ۷؍ اکتوبر کے درمیان اس کے نظام میں غیر مجاز طور پر داخل ہو کر تقریباً۲۷؍  لاکھ۶۰؍ ہزار صارفین کی ذاتی معلومات چوری کیں۔ افشاں ہونے والی معلومات میں صارفین کی تاریخِ پیدائش، موبائل فون نمبر، رہائشی پتے اور ای میل پتے شامل ہیں۔ ان معلومات کے افشا ہونے سے صارفین کو ممکنہ طور پر جعلی پیغامات، دھوکہ دہی پر مبنی رابطوں اور ذاتی معلومات کے غلط استعمال جیسے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ٹائیگر شروف حقیقی زندگی کے ہیرو بن کر ابھرے، زخمی ڈرائیور کو خود اسپتال پہنچایا

ہولیِز نے اپنے بیان میں کہا کہ ابتدائی جانچ کے مطابق افشاں ہونے والا ڈیٹا موجودہ مرکزی صارف ڈیٹا بیس کا حصہ نہیں تھا، بلکہ رکنیت کی خدمات میں پہلے کی گئی تبدیلیوں کے دوران استعمال ہونے والی عارضی ڈیٹا فائلوں سے متعلق تھا۔ تاہم، کمپنی نے واضح کیا کہ واقعہ کی مکمل نوعیت، متاثرہ معلومات کی مقدار اور ممکنہ نقصانات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔کمپنی نے صارفین کی تشویش پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ معلومات کے تحفظ کو یقینی بنانے اور اس واقعہ کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی  تاہم، فی الحال تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ ہیکرز نے حاصل کردہ معلومات کو کس حد تک استعمال کیا اور اس واقعے کے مزید کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
 ہولیِز پر سائبر حملے کا واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی کوریا کے کئی مالیاتی اداروں میں بھی صارفین کی ذاتی معلومات افشاں ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مالیاتی نگران اداروں کے مطابق، جمعہ تک ۱۶؍ مالیاتی اداروں میں تقریباً ایک لاکھ معاملات میں ذاتی معلومات افشاں ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق، حالیہ واقعات میں صارفین کے نام، ای میل پتے اور فون نمبر جیسی معلومات متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ اسی ماہ کے آغاز میں کے بی کوکمن بینک اور شنہان بینک سمیت متعدد مالیاتی اداروں میں بھی صارفین اور دیگر حساس معلومات کے افشاں ہونے کے واقعات سامنے آئے تھے۔ جنوبی کوریا کے مالیاتی خدمات کمیشن نے بتایا کہ متعلقہ ادارے ان واقعات کی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا معلومات افشاں ہونے کے مزید معاملات بھی پیش آئے ہیں۔ کمیشن کے مطابق، دستیاب معلومات کی بنیاد پر بینک کھاتوں کے نمبر، کریڈٹ کارڈ نمبر اور دیگر انتہائی حساس مالیاتی معلومات افشا ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان نے زمبابوے کو ۹؍ وکٹ سے شکست دی، سیریز میں ناقابل تسخیر برتری

ہولیِز جنوبی کوریا کی معروف کافی چینز میں شامل ہے اور ملک بھر میں اس کی تقریباً ۵۳۰؍ شاخیں کام کر رہی ہیں۔ اس کمپنی کی ملکیت کے جی گروپ کے پاس ہے، جس کے کاروبار کا دائرہ فولاد سازی، گاڑیوں کی تیاری اور رسد کی خدمات سمیت متعدد شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ہولیِز کے معاملے نے ایک مرتبہ پھر اس سوال کو اہم بنا دیا ہے کہ صارفین کی بڑی تعداد کا ڈجیٹل ڈیٹا رکھنے والی کمپنیاں سائبر حملوں سے نمٹنے اور ذاتی معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے کس حد تک مؤثر اقدامات کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، صارفین کے نام، فون نمبر، تاریخِ پیدائش اور ای میل پتے جیسی معلومات غلط ہاتھوں میں جانے سے جعلی پیغامات، دھوکہ دہی اور شناخت کے غلط استعمال جیسے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ نامعلوم ذرائع سے موصول ہونے والے پیغامات، مشکوک روابط اور ذاتی معلومات طلب کرنے والی ای میلز سے محتاط رہیں۔ ہولیِز کے واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی اس سائبر حملے کے حقیقی دائرۂ کار اور صارفین پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آ سکیں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK