• Mon, 19 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرانس: طلبہ کا احتجاج لوور میوزیم تک پہنچ گیا، مشہور عجائب گھر کے دروازے بند

Updated: October 19, 2026, 7:02 PM IST | Paris

فرانس میں ہائی اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں، اساتذہ کی کمی اور تعلیم کے گرتے معیار کے خلاف جاری طلبہ تحریک نے پیرس کے مشہور لوور میوزیم کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پیر ۱۹؍ اکتوبر کو طلبہ نے میوزیم کے داخلی راستے بند کردیے، جس کے باعث یہ اپنے مقررہ وقت صبح ۹؍ بجے نہیں کھل سکا۔ مظاہرین نے پولیس کی مبینہ سخت کارروائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تعلیم، روزگار اور باعزت زندگی کے حق کا مطالبہ کیا۔

Police and people can be seen outside the Louvre Museum. Photo: X
لوور میوزیم کے باہر پولیس اور لوگ دکھائی دے رہے ہیں۔ تصویر: ایکس

فرانس میں طلبہ کی جاری تحریک نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے، جہاں آرٹ اور آثارِ قدیمہ کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ نے دنیا کے مشہور ترین عجائب گھروں میں شمار ہونے والے لوور میوزیم کے داخلی راستوں کی ناکہ بندی کردی۔ احتجاج کے باعث میوزیم پیر کی صبح اپنے معمول کے وقت پر عوام کے لیے نہیں کھل سکا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ ملک بھر میں ہائی اسکول طلبہ کی تحریک کی حمایت اور پولیس کی اس کارروائی کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے جمع ہوئے ہیں جسے وہ جبر قرار دیتے ہیں۔خبر رساں ادارے اناطولیہ ایجنسی کے مطابق، اس احتجاج کی قیادت ای کول دو لوور کے طلبہ نے کی، جبکہ فرانس کی قومی فنونِ لطیفہ کی درس گاہ کے طلبہ نے بھی اس میں شرکت کی۔ ای کول دو لوور میوزیم کے احاطے میں قائم ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے، جہاں آرٹ کی تاریخ، آثارِ قدیمہ، بشریات اور عجائب گھر کے انتظام جیسے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ مظاہرین نے میوزیم کے داخلی راستوں کو بند کرکے اپنی تحریک کو ایک ایسے مقام تک پہنچایا جو فرانس کی ثقافتی شناخت اور عالمی سیاحت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ریاض: حوثی حملوں کا خدشہ، کنگڈم سینٹر کے دفاتر بند، ملازمین کو ورک فرام ہوم

روزنامہ لے پیرزیاں کے مطابق، احتجاج کے باعث میوزیم انتظامیہ کو صبح ۹؍ بجے معمول کے مطابق دروازے کھولنے میں دشواری پیش آئی۔ میوزیم کی انتظامیہ نے کہا کہ اس کارروائی کا ادارے کے اپنے معاملات سے براہِ راست تعلق نہیں، بلکہ مظاہرین اسے اپنی تحریک کی آواز بلند کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ فرانسیسی ٹریڈ یونین سی جی ٹی نے احتجاج کی حمایت کی، تاہم اس میں براہِ راست شرکت نہیں کی۔ یونین کے مطابق، میوزیم کم از کم دوپہر تک بند رہنے والا تھا۔ طلبہ کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں احتجاج کو صرف تعلیمی اداروں کے مسائل تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ اسے تعلیم حاصل کرنے، کام کرنے اور باعزت حالات میں زندگی گزارنے کے حق کی جدوجہد قرار دیا گیا۔ میوزیم کے باہر آویزاں ایک پمفلٹ پر درج تھا، ’’ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے فخر ہے کہ ہم دنیا کے سب سے بڑے میوزیم کو بند کررہے ہیں۔‘‘ یہ اقدام اس بات کی علامت بن گیا کہ طلبہ اپنی شکایات کو قومی سطح پر نمایاں کرنے کے لیے ایسے مقامات کا انتخاب کررہے ہیں جہاں احتجاج کو عالمی توجہ حاصل ہوسکے۔

یہ بھی پڑھئے: ’دوبارہ قسمت آزمانا چاہتے ہیں تو شوق سے آزمائیں ‘، عراقچی کا ٹرمپ کو چیلنج

فرانس میں ہائی اسکول طلبہ کی تحریک ستمبر کے وسط میں شروع ہوئی تھی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ متعدد اسکولوں میں اساتذہ کی آسامیاں خالی ہیں، کلاس رومز میں طلبہ کی تعداد ضرورت سے زیادہ ہے اور کئی عمارتیں خستہ حال ہیں۔ طلبہ نے تعلیمی سہولتوں کی کمی اور حکومت کی جانب سے ناکافی اقدامات پر بھی تنقید کی ہے۔ اس تحریک کا آغاز پیرس کے جنوب مشرقی مضافاتی علاقے کریتے کے ایک اسکول سے ہوا، جہاں طلبہ، اساتذہ اور والدین نے تدریسی عملے کی کمی اور محدود وسائل کے خلاف احتجاج کیا۔ بعد میں مظاہرے مارسی، لیون، لیل، نانت، مون پلیے، بورڈو، تولوز اور رین سمیت کئی شہروں تک پھیل گئے۔ احتجاج میں اب مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے اخراجات کے خلاف شکایات بھی شامل ہوگئی ہیں۔ خوراک، توانائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ عوامی خدمات کی صورت حال نے نوجوانوں میں بے چینی بڑھائی ہے۔ طلبہ تنظیموں کا مؤقف ہے کہ تعلیم کے معیار میں کمی اور تعلیمی اداروں میں سہولتوں کی قلت نوجوانوں کے مستقبل پر اثر انداز ہورہی ہے۔ ان کے نزدیک بہتر تعلیمی ماحول صرف کلاس رومز کی مرمت تک محدود نہیں، بلکہ اساتذہ کی دستیابی، مناسب وسائل اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی کے لیے منصفانہ مواقع بھی ضروری ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: فجرِ یمن کارروائی کا ۱۴؍واں روز، حوثیوں سے شدید جھڑپیں

پیرس میں لوور میوزیم کی ناکہ بندی ایسے وقت ہوئی جب فرانس میں ہفتے کے آخر میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر مظاہروں کے دوران کئی شہروں میں تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے تھے۔ یورونیوز کے مطابق، ان واقعات کے سلسلے میں ہفتے کے آخر تک ۲۳۳۰؍  سے زیادہ افراد کو پولیس تحویل میں لیا گیا تھا۔ تاہم، لوور کے باہر ہونے والی طلبہ کی کارروائی کا بنیادی مقصد ہائی اسکول تحریک سے اظہارِ یکجہتی اور پولیس کے رویے کے خلاف احتجاج بتایا گیا ہے۔ اس لیے مختلف مقامات پر ہونے والے پُرامن مظاہروں اور پُرتشدد واقعات کو ایک ہی نوعیت کی کارروائی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ فرانسیسی حکومت نے طلبہ کے مطالبات کا جائزہ لینے اور تعلیمی مسائل پر اقدامات کرنے کا وعدہ کیا ہے، لیکن طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ عملی تبدیلیاں ابھی ناکافی ہیں۔ مظاہروں کے پھیلاؤ نے حکومت کے لیے یہ سوال بھی اہم بنادیا ہے کہ محدود سرکاری وسائل کے درمیان تعلیمی اداروں کی ضروریات کیسے پوری کی جائیں۔ دوسری طرف، پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی نے احتجاج کے حق، عوامی مقامات کے استعمال اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طرزِ عمل پر بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔
لوور میوزیم کی ناکہ بندی نے اس تحریک کو ثقافتی اور بین الاقوامی توجہ کے مرکز میں پہنچا دیا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ طلبہ کی کارروائیاں آنے والے دنوں میں کن مقامات تک پھیلیں گی، لیکن احتجاج سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرانس میں نوجوانوں کے مطالبات اب صرف اسکولوں کی عمارتوں اور اساتذہ کی کمی تک محدود نہیں رہے۔ وہ بہتر تعلیمی مواقع، باعزت زندگی اور اپنی آواز سنے جانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK