اسپین ، فرانس ، پر تگال اور یونان غیر معمولی گرم لہروں کی زد میں

Updated: July 18, 2022, 12:23 PM IST | Agency | Madrid

جنگلا ت میں بار بار آگ لگ رہی ہے۔ پیاس سے حلق سوکھ رہا ہے ، شہری بے ہوش تک ہورہےہیں ، ہزاروں ایکڑ پر محیط جنگل راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ آگ بجھانے والے بھی دن رات کام کررہےہیں، آرام نہیں کررہےہیں، تھک گئے ہیں ۔ آگ کے بعد ایک بڑی تعداد محفوظ علاقوں کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوگئی۔ اسپین میںجنگلا ت کی آگ آبادی کے قریب آگئی

Attempt to put out fires with the help of helicopters in Spain.Picture:AP/PTI
اسپین میں ہیلی کاپٹر کی مدد سے آگ بجھانے کی کوشش ۔ ( اےپی / پی ٹی آئی)۔ تصویر: آئی این این

یورپ کے مختلف ممالک میں شدید گرمی ہے۔ اسی دوران فرانس اور اسپین کے جنگلات میں آتشزدگی سے ہزاروں افراد اپناگھر  بارچھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ ایک بڑی تعداد پیاس کی وجہ سے  بے ہوش بھی ہورہی ہے۔   میڈیارپورٹس کے مطابق  اتوار کی صبح فرانس کے علاقے کروندے سے۱۲؍ ہزار۲۰۰؍ افراد نے نقل مکانی کی۔ حکام نے بتایا کہ ایک ہزار فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی۔حالیہ ہفتوں کے دوران فرانس، پرتگال اور اسپین میں ہزاروں ایکڑ پر محیط جنگلات میں آگ لگی ۔ یورپی ممالک میں گرم لہروں سے بچنے کیلئے الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ گرمی کی شدت میں اضافے کے بعد سے جنگلات میں زیادہ آگ لگ رہی ہے۔اسپین میں اتوار کو درجۂ حرارت ۴۵ء۷؍ ڈگری رہا، اس دوران فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف تھے۔پرتگال کی وزارت صحت کے مطابق۷؍ سے ۱۳؍ جولائی  کے درمیان گرم لہروں سے سے۲۳۸؍ افراد لقمۂ اجل بن  گئے ہیں۔
 سورج آگ اگل رہا ہے ، شعلے اٹھ رہے ہیں
  اسپین میں  ان دنوں سورج آگ اگل رہا ہے، جگہ جگہ جنگلات سے شعلے اٹھ رہے ہیں  ۔ ایسے میں عام شہری پیاس سے بے ہوش ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اسپین   میں ماحولیاتی تبدیلیوں، خشک سالی اور انتہائی کم بارش کے نتیجے میں  ان دنوں اتنی زیادہ گرمی  ہے کہ درجۂ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ رہےہیں ۔ اسپین کے مختلف حصوں میں اس وقت گرمی کی لہر اتنی شدید ہے کہ وہاں بے شمار مقامات پر جنگلوں میں آگ لگ چکی ہے اور خشک سالی بھی پہلے ہی سے اتنی ہے کہ اس ملک کو اس کا ماضی میں کبھی تجربہ ہی نہیں ہوا تھا۔ ایسے میں جنگلوں میں لگی آگ بجھانے میں مصروف کارکن بری طرح تھک چکےہیں۔ 
 آگ مقامی آبادی کے قریب پہنچ گئی
 میڈرڈ سے جنوب مغرب کی طرف چند گھنٹے کی دوری پر واقع صوبے ایکسٹرے مادورا میں کاساس دے میراویتے نامی علاقے میںلگنے والی جنگلاتی آگ مقامی آبادی کے گھروں کے قریب تک پہنچ گئی  ہے۔  ایک بڑی تعدا د یہ علاقہ چھوڑ چکی ہے۔   علاقہ چھوڑ  نے والے  سکتے میں تھے،کیونکہ جنگلاتی آگ کے شعلے ان کے گاؤں اور گھروں کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔ وہاں آگ بجھانے کی کوشش کرنے والے کارکن گزشتہ کئی دن سے مصروف ہیں۔ وہ رات میں بھی آرام نہیں کر رہے ہیں۔ اس علاقے میں جنگلاتی آگ کم از کم ۴؍ ہزار ہیکٹر رقبے کو راکھ کاڈھیر بنا چکی ہے۔ اسی طرح لادریار کے علاقے میں بھی سیکڑوں باشندوں کو اپنے گھروں کو چھوڑنا پڑا۔ ہسپانوی ریڈ کراس میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر متاثرین کی مدد کرنے والوں میں وکٹور ڈومینگیز بھی شامل ہیں۔ انہوں نے لادریار سے مقامی آبادی کے انخلاءمیں بھی حصہ لیا۔
 پورا ہفتہ صبر آزمارہا 
 وکٹور ڈومینگیز نےبتایا کہ ہمارے لئے یہ پورا ہفتہ ہی صبر آزما اور تھکا دینے والا ہے۔ درجہ حرارت انتہائی زیادہ ہوتا  ہےاور ہوا کا رخ مسلسل بدلتا رہتا ہے۔ فائر بریگیڈ کارکن آگ بجھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ہسپانوی صوبے ایکسٹرے مادورا میں کئی مقامات پر امدادی کاموں میں حصہ لینے والے وکٹور ڈومینگیز نے بتایا کہ کبھی کبھی ہم خود کو بہت بے بس محسوس کرتے ہیں، اس لئے کہ ہم موسم اور اس کی شدت پر تو اثر انداز ہو نہیں سکتے۔ موسم بدلنے ہی پر جنگلات میں لگی آگ  پر قابو  پایا جا سکتا ہے۔ ورنہ ہوا کا رخ بدلتے رہنے سے آگ پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اسپین کو اس وقت شدید گرمی کی جس طویل لہر کا سامنا ہے، وہ اپنی نوعیت کی دوسری لہر ہے اور۴۶؍ ڈگری سینٹی گریڈ تک درجۂ حرارت کے ساتھ کئی دن بلکہ ایک ہفتے تک بھی جاری رہ سکتی ہے۔ شدید گرمی کی ایسی پہلی طویل لہر گزشتہ ماہ جون میں آئی تھی۔ اس کی وجہ سے بھی بہت سے مقامات  پر جنگلوں میں آگ لگ گئی تھی۔جنوبی یورپی ملک اسپین یورپی یونین کا رکن بھی ہے اور اقتصادی طور پر ترقی یافتہ بھی لیکن وہاں پر گزشتہ چند برس سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی وجہ سے خاص طور پر موسم گرما اتنا شدید رہنے لگا ہے کہ  ترقی کی رفتا ر رک گئی ہے۔ یہ ملک موسمیاتی  اعتبارپر تقریبا ًشمالی افریقہ کا کوئی ملک  جیسا ہوگیا ہے۔موسم گرما کی شدت میں مسلسل اضافےکا نتیجہ ہے کہ اسپین میں بہت زیادہ گرمی اب ہر سال کم از کم ۱۳۰۰؍ شہریوں کی جان لے لیتی ہے۔
 محفوظ علاقے بھی محفوظ نہیں
 اسپین میں  جھلسادینے والی گرمی کی لہر نے سیرا دے لا کُولیبرا نامی محفوظ قدرتی علاقے کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ وہاں۳۰؍ ہزار ہیکٹر رقبے پر پھیلے ہوئے جنگلات آتشزدگی کی وجہ سےتباہ ہو چکے ہیں۔اس محفوط قدرتی علاقے کا شدید گرمی کی وجہ سے اتنا نقصان اس لئے بھی ناقابل تلافی اور انتہائی افسوس ناک ہے کہ مجموعی طور پر یہ علاقہ اپنے زرعی شعبے اور پرکشش سیاحتی مقامات کیلئے بھی بہت مشہور ہے ۔ اب یہاں ہزاروں ہیکٹر قدرتی رقبہ راکھ ہو چکا ہے۔  پرتگال اور اسپین کے ساتھ ساتھ یونان میں فائر فائٹرز جنگل کی آگ سے لڑ رہے ہیں جس سے  اس ہفتے کے آغاز سے ہی ہزاروں ہیکٹر اراضی تباہ اور کئی فائر فائٹرز ہلاک ہوچکے ہیں ادھرجنوب مغربی فرانس کےکروندے علاقے میں آرکاچون کے ایک اہلکار رونن لیوسٹک نے اتوار کو بتایا کہ `آگ اب تک قابو میں نہیں آئی ہے اس علاقے کے فائر فائٹرز نے جنگل میں لگی دو  مقامات کی آگ بجھانے کی کوششیں کیں ۔ اس کے باوجود منگل سے اب تک آگ نے۹؍ ہزار ہیکٹر کو اپنی  زدمیں لے لیا۔ماہرین کے مطابق سنیچر کو فرانس کے جنوب میں درجہ حرارت۳۵؍ ڈگری  سینٹی گریڈ اور ۴۰؍سینٹی گریڈ کے درمیان رہا جبکہ  آج (پیر کو) گرمی کا نیا ریکارڈ قائم ہونے کی توقع ہے۔فرانسیسی حکام نے یورپ کے سب سے اونچے پہاڑ مونٹ بلانک پر چڑھنے کے خواہشمند کوہ پیماؤں سے کہا ہے کہ غیر معمولی گرمی اور `خشک سالی کے سبب بار بار چٹانیں گر رہی ہیں،  لہٰذا وہ   اپنا سفر ملتوی کر دیں۔
 یہ ہدایت اس وقت آئی جب اٹلی کے سب سے بڑے الپائن گلیشیئر کے ایک حصے نے مہینے کے آغاز میں راستہ بند کردیا تھا ۔ اس وقت  برف اور چٹان پہاڑ سے نیچے گرنے اور۱۱؍ افراد کی ہلاکت کے بعد حکام نے اس تباہی کیلئے موسمیاتی تبدیلی کو ذمہ دار ٹھہرایاتھا۔ 
 پر تگال کی صورتحا ل 
 پرتگال میں موسمیاتی ادارے نے۴۲؍ سینٹی گریڈ درجہ حرارت کی پیش گوئی کی ہے اور اگلے ہفتے تک۴۰؍ ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے آنے کی توقع نہیں ہے۔ادھر شہری دفاع نے جمعرات کو جولائی کا درجہ حرارت ریکارڈ۴۷؍ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے بعد اتوار کو درجہ حرارت میں معمولی کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کے شمال میں ایک آخری بڑی آگ پر قابو پانے کی کوشش کی۔شہری دفاع کے سربراہ آندرے فرنینڈس نے نیوز بریفنگ کے دوران خبردار کیا کہ آگ لگنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی پریشان کن ہفتے کا اختتام ہے۔یہ بات انہوں نے شمالی پرتگال میں آگ بجھانے والے ایک ہوائی ٹینکر کے گر کر تباہ ہونے کے بعد کہی جس میں اس کا پائلٹ ہلاک ہو گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK