درجنوں پولنگ مراکز سے بی ایل اوز کے غائب رہنے سے ووٹرس کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 11:46 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Mumbai
درجنوں پولنگ مراکز سے بی ایل اوز کے غائب رہنے سے ووٹرس کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
الیکشن کمیشن نے شہریوں سے ووٹر لسٹ میں نام کی تصدیق، درستگی، نئے ووٹرس کے اندراج اور دیگر کاموں کے لئے پولنگ مراکز پر آنے کی اپیل کی تھی۔مگر پولنگ مراکز پر بی ایل اوز کی عدم موجودگی کے باعث شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی شہری اپنا قیمتی وقت نکال کر پولنگ مراکز پر پہنچے لیکن بی ایل اوز کے غیر حاضر ہونے کی وجہ سے انہیں بلاوجہ چکر لگا کر لوٹنا پڑا۔
ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی مہم کے تحت سنیچر کو ڈومبیولی اسمبلی حلقے کے تمام پولنگ مراکز پر خصوصی کیمپوں کا انعقاد کیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے شہریوں سے پُرزور اپیل کی تھی کہ وہ ووٹر لسٹ میں اپنے نام کی تصدیق، درستگی اور نئے اندراج کے لئے پولنگ مراکز پر پہنچے۔تاہم زمینی حقیقت اس کے برعکس نکلی۔بیشتر مراکز پر بی ایل اوز غائب پائے گئے۔جو شہری اپنا قیمتی وقت نکال کر مراکز پر پہنچے تھے انہیں گھنٹوں انتظار کے بعد بغیر کسی کام کے مایوس لوٹنا پڑا۔
یہ بھی پڑھئے:لاڈلی بہن اسکیم سے نکالی جانے والی خواتین کیلئے احتجاج
شیو سینا ( ادھو) کے نائب شہری صدر پرمود کامبلے نے زمینی معائنے کے بعد سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسمبلی حلقے کے کُل ۲۸۸؍ پولنگ مراکز میں سے ۷۰؍ سے ۸۰؍ فیصد مراکز پر بی ایل اوز موجود ہی نہیں تھے۔ کامبلے نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر عملے نے آنا ہی نہیں تھا تو عوام کو دھوکے میں رکھ کر یہ کیمپ کس کےلئےلگائے گئے تھے؟ شہریوں کو دھوپ اور گرمی میں بلاوجہ چکر لگوانا ناانصافی ہے اور اس سے عوام کے اندر شدید مایوسی پھیل رہی ہے۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پرمود کامبلے نے اسمبلی ووٹر رجسٹریشن افسر سے فوری تحقیقات اور قصورواروں کیخلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ غیر حاضر تمام بی ایل اوز سے تحریری جواب طلب کیا جائے اور فرائض میں کوتاہی پر کارروائی عمل میں لائی جائے۔ نیز آئندہ ۲۰؍، ۲۶؍ اور ۲۷؍ ستمبر کو منعقد ہونے والے کیمپوں میں مکمل حاضری یقینی بنانے کے لئےسخت نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔