• Sun, 25 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز میں اب پہلے جیسی بحری آمدورفت نہیں ہوگی: عباس عراقچی

Updated: October 25, 2026, 7:03 PM IST | Tehran

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد خطے کی صورتِ حال بنیادی طور پر تبدیل ہو چکی ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور اس کے انتظامات اب پہلے جیسے نہیں رہیں گے۔

Strait Of Hormuz.Photo:INN
آبنائے ہرمز۔ تصویر:آئی این این

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد خطے کی صورتِ حال بنیادی طور پر تبدیل ہو چکی ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور اس کے انتظامات اب پہلے جیسے نہیں رہیں گے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں دوبارہ فوجی کارروائیوں کے خدشات اور ایران اورامریکہ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ عراقچی کے مطابق، گزشتہ کئی دہائیوں سے آبنائے ہرمز میں ایران اور عمان نے بحری آمدورفت کی سلامتی یقینی بنانے میں کردار ادا کیا، لیکن حالیہ جنگ نے نئے حالات پیدا کر دیے ہیں۔ 
عراقچی نے یہ بیان اتوار کو تہران میں ایک تقریب کے دوران دیا، جہاں وہ ایرانی سفارت کار کمال خرازی کے نام سے قائم دستاویزی مرکز اور عجائب گھر کے افتتاح میں شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کی ذمہ داری بنیادی طور پر اسی خطے کے ممالک کو خود اٹھانی چاہیے، نہ کہ غیر ملکی فوجی طاقتوں پر انحصار کیا جائے۔ ان کے مطابق، خطے میں موجود غیر ملکی فوجی اڈے میزبان ممالک کو مطلوبہ امن و سلامتی فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور ان کی موجودگی عدم تحفظ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:رادھیکا آپٹے نے خاتون مرکزی کردار والی فلموں کے نہ چلنے پر سوال اٹھائے

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائی کے امکانات پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ دوبارہ شروع ہو یا نہ ہو، ایران کی پالیسیاں تبدیل نہیں ہوں گی۔ عراقچی کے مطابق، ایران کے خلاف پہلے بھی دو مرتبہ فوجی کارروائی کی جا چکی ہے اور ان کے بقول اس سے کوئی مختلف نتیجہ حاصل نہیں ہوا، اس لیے دوبارہ حملے سے بھی صورتِ حال تبدیل نہیں ہوگی۔ ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید کارروائی کے امکان کا ذکر کیا ہے۔ 
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملانے والا ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے یہاں بحری آمدورفت میں رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ حالیہ تنازع کے دوران اس راستے پر پابندیوں اور بحری نقل و حرکت سے متعلق اختلافات نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھایا ہے۔ عراقچی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامات کو خطے کی نئی سلامتی صورتِ حال سے جوڑ رہا ہے۔ تاہم، بحری آمدورفت کے نئے ضابطوں، ان کے عملی نفاذ اور عالمی جہاز رانی پر ممکنہ اثرات کے بارے میں ابھی مزید وضاحت درکار ہے۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس راستے سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں کے لیے مستقبل میں کون سی مخصوص شرائط نافذ ہوں گی۔

یہ بھی پڑھئے:رونالڈو کے ۹۸۲؍ویں گول پر تنازع، کیا گیند حریف کھلاڑی سے ٹکرا کر جال میں گئی؟

عراقچی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے تمام محاذوں پر جنگ اور کشیدگی کا خاتمہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق، اگر ایک علاقے میں لڑائی جاری رہے تو دوسرے علاقوں میں مکمل امن قائم کرنا مشکل ہوگا۔ ایران نے پاکستان، قطر اور دیگر ممالک کی ثالثی کے ذریعے امریکہ کے ساتھ رابطوں اور مذاکرات کی اہمیت بھی اجاگر کی ہے۔  آبنائے ہرمز کے بارے میں عراقچی کا بیان ایران کے اس مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ جنگ کے بعد خطے میں بحری راستوں اور سلامتی کے انتظامات پہلے جیسے نہیں رہیں گے۔ چونکہ یہ گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے، اس لیے اس کے مستقبل سے متعلق فیصلوں پر عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی جہاز رانی کی گہری نظر رہے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK