سابق امریکی صدر اوباما نے ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس تزئین و آرائش کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہصدام حسین نے چیزکیک فیکٹری کھولی ، ساتھ ہی عبدال الصید کا دفاع کیا، اس کے جواب میں ٹرمپ نے سابق صدر کو ’’ انتہائی نا اہل‘‘ صدر قرار دیا۔
EPAPER
Updated: October 25, 2026, 6:02 PM IST | Washington
سابق امریکی صدر اوباما نے ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس تزئین و آرائش کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہصدام حسین نے چیزکیک فیکٹری کھولی ، ساتھ ہی عبدال الصید کا دفاع کیا، اس کے جواب میں ٹرمپ نے سابق صدر کو ’’ انتہائی نا اہل‘‘ صدر قرار دیا۔
سابق امریکی صدر براک اوباما نے ڈونالڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش کا مذاق اڑاتے ہوئے سونے سے بھری سجاوٹ کا موازنہ ’’صدام حسین نے چیزکیک فیکٹری کھولی‘‘ سے کیا۔ انہوں نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر بھی تنقید کی اور ڈیموکریٹک امیدواروں ایمی ایکٹن اور عبدال الصید کے لیے مہم چلائی۔سابق امریکی صدر براک اوباما نے، جب وہ اوہائیو اور مشی گن کی اہم ریاستوں میں ڈیموکریٹک امیدواروں کے لیے مہم چلا رہے تھے، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے ریپبلکن اتحادیوں پر تنقید کی جسے انہوں نے ظلم اور بدتہذیبی قرار دیا۔ انہوں نے اوہائیو کی گورنر امیدوار ڈاکٹر ایمی ایکٹن اور مشی گن سینیٹ امیدوار عبدال الصید کا ان کے ریپبلکن مخالفین کے حملوں کے خلاف دفاع کیا۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: سائبر حملوں، غذائی قلت کا خدشہ، شہریوں کو ۳؍ دن کا راشن رکھنے کی ہدایت
ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس کی جاری تزئین و آرائش کے انتخاب پر طنزیہ حملہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے ’’وائٹ ہاؤس کو ایسا بنا دیا ہے جیسے عراق کے سابق صدر صدام حسین نے چیزکیک فیکٹری کھول دی ہو۔‘‘ اوہائیو میں وسط مدتی انتخابات کے لیے انتخابی مہم سے خطاب کرتے ہوئے اوباما نے کہا، ’’مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے نوٹ کیا ہے یا نہیں، لیکن وہ گھر کی تزئین و آرائش پر بہت توجہ مرکوز کیے ہوئے لگتا ہے۔ وہ ایک بال روم بنا رہا ہے جو وہائٹ ہاؤس سے بڑا ہے۔ روز گارڈن کو پختہ کر دیا، ساؤتھ لان پر ہیلی کاپٹر پیڈ لگا دیا، اور ہر جگہ سونا ہے! سونے کا کیا چکر ہے؟ ہر چیز - مزید سونا!‘‘طنز کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا ، ’’اس نے وائٹ ہاؤس کو ایسا بنا دیا ہے جیسے صدام حسین نے چیزکیک فیکٹری کھول دی ہو۔ بس ہر جگہ سونا۔‘‘انہوں نے ہجوم سے خوب تالیاں اور قہقہے بٹورے۔
اوباما نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا بھی مذاق اڑایا۔ انہوں نے کہا، ’’سینکڑوں امریکی زخمی ہوئے ہیں۔ ہم نے میزائلوں کا ذخیرہ ختم کر دیا ہے، اور ایران کے پاس اب آبنائے ہرمز پر ویٹو پاور ہے۔ اس دوران، آپ کے پاس وزیر دفاع ہے جو اپنی فوجوں کی جبڑے کی لکیروں اور ٹیسٹوسٹیرون لیول جیسے اہم معاملات پر پوری طرح توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔‘‘اوباما نے ان ناقدین کی مذمت کی جو، ان کے بقول، الصید کے نام یا مسلم عقیدے کو استعمال کر کے ان پر حملہ کر رہے تھے۔ اوباما نے ڈیٹرائٹ کے ایک بھرے ہوئے ہائی اسکول جمنازیم میں ان دعووں کو مسترد کر دیا کہ الصید ایک بنیاد پرست ہیں، کہتے ہوئے، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ الصید نے۲۰۱۲ء میں دوبارہ انتخاب کے بعد ان پر تنقید کی تھی کہ انہوں نے اپنے تمام ترقی پسند انتخابی وعدے پورے نہیں کیے۔
یہ بھی پڑھئے: میرا نام ہمیشہ سے الہان عمر رہا ہے: کانگریس وومن نے ٹرمپ کو گھٹیا شخص قرار دیا
’انتہائی نااہل صدر‘: بدعنوان کہے جانے پر ٹرمپ کا بارک اوباما پر حملہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کوسابق صدر بارک اوباما کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’انتہائی نااہل صدر‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ اوباما نے ایران کو اربوں ڈالر دے کر اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی راہ فراہم کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اوباما نے پہلے ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم چلائی، لیکن وہ ہار گئیں۔ اس کے بعد انہوں نے کملا ہیرس کی حمایت کی، مگر وہ بھی ناکام رہیں۔ اب اوباما ایک ایسے امیدوار کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں جنہیں ٹرمپ نے ’مسلم برادرہڈ کا جہادی‘ قرار دیا اور ان پر یہود، سیاہ فام امریکیوں، امریکیوں اور خود ٹرمپ سے نفرت کرنے کا الزام لگایا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ امیدوار بھی شکست سے دوچار ہوں گے۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا، ’’اوباما انتہائی نااہل صدر تھے! انہوں نے ایران کو اربوں ڈالر دیے اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی راہ فراہم کی۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’اوباما نے کہا تھا کہ بدعنوان ہیلری کلنٹن جیت جائیں گی۔ انہوں نے ان کی انتخابی مہم بھرپور انداز میں چلائی، لیکن وہ ہر لحاظ سے ہار گئیں۔ اس کے بعد انہوں نے کملا ہیرس کی بھرپور انتخابی مہم چلائی، لیکن وہ بھی ہار گئیں۔ اب وہ مسلم برادرہڈ کے ایک جہادی کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں، جو یہودیوں، سیاہ فام افراد، امریکیوں اور ٹرمپ سے نفرت کرتا ہے۔ وہ بھی ہار جائے گا۔‘‘ٹرمپ نے اپنے بیان میں مشی گن سے سینیٹ کے امیدوار عبدال السید کو بھی نشانہ بنایا، جن کی حمایت میں اوباما نے انتخابی مہم چلائی تھی۔ ٹرمپ نے انہیں ’جعلی ڈاکٹر‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ ایسا کلینک چلاتے ہیں جسے امریکہ کا بدترین کلینک سمجھا جاتا ہے۔مشی گن میں اپنی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے لکھا کہ انہوں نے ریاست میں بڑے فرق سے کامیابی حاصل کی، آٹوموبائل صنعت کو دوبارہ فروغ دیا، ایئر فورس کا اڈہ واپس لائے اور دیگر شعبوں میں بھی پیش رفت کی۔ انہوں نے روزگار کے مواقع میں اضافے کا دعویٰ بھی کیا۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ مشی گن کے عوام ایک ایسے متکبر امیدوار کو منتخب نہیں کرنا چاہتے جو کھلی سرحدوں کا حامی ہو، جعلی ڈاکٹر ہو اور جہادی ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مزید معلومات سامنے آنے کے ساتھ اس امیدوار کی ساکھ مزید خراب ہوتی جائے گی۔