Updated: October 25, 2026, 7:03 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کل ہی ایران پر حملہ کر سکتا ہے یابڑا، خوبصورت معاہدہ کر سکتا ہے،انہوں نے سوال کیا کہ کیا تہران کسی معاہدے کا احترام کرے گا،ساتھ ہی کہا کہ ان کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار نہ کر سکے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: پی ٹی آئی
ایسی رپورٹس کے درمیان کہ امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران پر نئے حملوں پر غور کر رہا ہے، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن کل ہی ایران پر حملہ کر سکتا ہے، یا تہران کے ساتھ ایک ’’بڑا، خوبصورت‘‘ معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ جب ان سے ممکنہ حملے پر غور کے بارے میں پوچھا گیا ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا، ’’ہم اس کے بارے میں سوچ رہے ہیں، اور شاید کل۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’کیا آپ واقعی سوچتے ہیں کہ میں آپ کو بتاؤں گا کہ میں یہ کرنے جا رہا ہوں؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: اوباما کا ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس تزئین و آرائش کا مذاق، ٹرمپ کا پلٹ وار
بعد ازاں یہ تبصرہ کرتے ہوئے کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کیا وہ معاہدے پر قائم رہیں گے، ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کر کے مزید فوجی کارروائی سے بچ سکتا ہے۔ مزید برآں ٹرمپ نے دلیل دی کہ ان کا مقصد ایران کو بالآخر جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنا ہے۔انہوں نے کہا، ’’مجھے اسے مستقل بنانا ہے۔ یہی واحد وجہ ہے کہ میں یہ کر رہا ہوں۔‘‘علاوہ ازیں صدر نے یہ بھی کہا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے آگے کیا ہوتا ہے اس پر کوئی پختہ فیصلہ نہیں کیا، اس کے بجائے انہوں نے فوجی کارروائی اور مذاکرات دونوں کو ممکنہ نتائج کے طور پر پیش کیا۔ٹرمپ نے کہا، ’’مجھے اسے ختم کرنا پڑ سکتا ہے، یا شاید وہ معاہدہ کر لیں۔ لیکن مجھے یقین نہیں ہے۔ کسی بھی طرح، ہم جیتیں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کو ریپبلکن امیدوار کی جانب سے ’مین آف دی سنچری ایوارڈ‘ پیش کیا گیا
واضح رہے کہ حالیہ رپورٹنگ، خاص طور پر نیویارک ٹائمز کی، بتاتی ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئے حملوں کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی فوجی تیاریاں آگے بڑھ رہی ہیں، جس میں ممکنہ طور پر مختصر لیکن شدید جارحیت کے تفصیلی منصوبے ہیں۔،مزید برآں امریکی حکام اور اعلیٰ سطحی غور و خوض سے واقف افراد کا حوالہ دیتے ہوئے، اخبار نے رپورٹ کیا کہ دونوں افواج نے مشقیں تیز کر دی ہیں، بشمول عراقی فضائی حدود سے پروازیں تاکہ حملے کی مشق کی جا سکے۔جبکہ ممکنہ اہداف میں ایران کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، جوہری تنصیبات، اور میزائل اور ڈرون ہتھیاروں کے ذخیرے شامل ہیں۔ذہن نشین رہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ-اسرائیل جنگ، جو فروری میں شروع ہوئی اور مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازع کا باعث بنی، جنگ بندی اور امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے معاہدے کے باوجود حل طلب ہے۔