دیوالی تہوار کی آمد کے ساتھ ہی کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی )اور چھوٹے تاجروں و پھیری والوں کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ تہوار
EPAPER
Updated: November 02, 2026, 11:21 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Dombivli
دیوالی تہوار کی آمد کے ساتھ ہی کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی )اور چھوٹے تاجروں و پھیری والوں کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ تہوار
دیوالی تہوار کی آمد کے ساتھ ہی کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی )اور چھوٹے تاجروں و پھیری والوں کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ تہوار کے موقع پر روزگار اور کاروبار کے بہتر مواقع کی امید لگائے بیٹھے چھوٹے دکانداروں کے لئے میونسپل انتظامیہ کی اچانک کارروائی ایک نئی مصیبت بن کر سامنے آئی ہے۔ متبادل جگہ فراہم کئے بغیر کی جانے والی اس کارروائی کیخلاف پھیری والوں کا صبر جواب دے گیا اور انہوں نے میونسپل افسران کا گھیراؤ کرکے غم و غصے کا اظہار کیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر راتھ روڈ کے علاقے میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب میونسپل کارپوریشن کے جی وارڈ کے اینٹی انکروچمنٹ دستہ نے اسسٹنٹ کمشنر جے رام شندے کی زیر نگرانی مہم شروع کی۔ متبادل جگہ دیئے بغیر کارروائی پر بپھرے ہوئے تقریباً ۱۵۰ ؍پھیری والے جن میں مرد و خواتین دونوں شامل تھے، ببن کامبلے کی قیادت میں موقع پر جمع ہوگئے اور انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر کو گھیرے میں لیا۔ ہاکروں کا مؤقف تھا کہ اعلیٰ حکام کی واضح ہدایت ہے کہ دیوالی کے پیش نظر پھیری والوں کو چند روز کے لئے کوئی عارضی میدان یا خالی جگہ دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ ۹؍ ماہ سے ریلوے اسٹیشن کی مقررہ ۱۵۰ ؍میٹر حدود سے باہر ہی کاروبار کر رہے ہیں لہٰذا متبادل انتظام کئے بغیر ان کے روزگار پر شب خون نہ مارا جائے۔مظاہرے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر جے رام شندے اور پھیری والوں کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔جب اسسٹنٹ کمشنر نے اعلیٰ حکام کی جانب سے کسی بھی قسم کی ہدایت موصول ہونے کی تردید کی تو پھیری والے مزید مشتعل ہوگئے۔ ببن کامبلے نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے افسر پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا اور سوال اٹھایا کہ احکامات کے باوجود حقیقت چھپانے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟ مشتعل ہجوم کے پے در پے چبھتے ہوئے سوالات کے سامنے اسسٹنٹ کمشنر مکمل طور پر لاجواب نظر آئے جبکہ موقع پر موجود عملہ بے بس تماشائی بنا رہا۔ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہنے والے اس ہنگامے نے انتظامی سطح پر افراتفری پھیلا دی۔دوسری جانب اس واقعے نے میونسپل انتظامیہ کی مجموعی کارکردگی اور شفافیت پر بھی گہرے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جی وارڈ میں پھیری والا ہٹاؤ دستے کی سربراہی ایک ایسے صفائی ملازم بھگوان پاٹل کے سپرد کی گئی ہے جو ماضی میں جے پربھاگ میں تعیناتی کے دوران پھیری والوں سے ہفتہ وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔