ریلی میں شریک کسانوں، گھریلو ملازمین، طلبہ، ٹرانس جینڈر کارکنوں، سیاسی ورکروںاور مختلف طبقات کے افراد نے بے روزگاری، مہنگائی، خواتین کی حفاظت، تعلیم اور سماجی انصاف کے موضوعات بھی اٹھائے۔
EPAPER
Updated: November 02, 2026, 11:36 AM IST | Agency | New Delhi
ریلی میں شریک کسانوں، گھریلو ملازمین، طلبہ، ٹرانس جینڈر کارکنوں، سیاسی ورکروںاور مختلف طبقات کے افراد نے بے روزگاری، مہنگائی، خواتین کی حفاظت، تعلیم اور سماجی انصاف کے موضوعات بھی اٹھائے۔
رام لیلا میدان میں اتوار کو ہزاروں چھوٹے بڑے رنگ برنگے جھنڈے لہراتے نظر آئے۔ ’ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ‘ کے نعروں سے علاقہ گونج رہا تھا۔ مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف انڈیا اتحاد کی ریلی میں شرکت کیلئے ملک کے مختلف حصوں سے لوگ دارالحکومت پہنچے ۔ کسانوں، مزدوروں اور گھریلو ملازمین سے لے کر طلبہ، ٹرانس جینڈر کارکنوں اور سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں تک، اس میں مختلف طبقوں کے لوگ شامل ہوئے۔ ان کے خدشات اور مطالبات مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں سے کہیں آگے تھے۔ بے روزگاری، مہنگائی، خواتین کی حفاظت، منی پور کا بحران، تعلیم تک رسائی اور پسماندہ طبقات کے حقوق جیسے مسائل بھی ریلی کے دوران گفتگو کا حصہ بنے۔
انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق چھتیس گڑھ پردیش کانگریس کی رکن کرونا کُرے کے مطابق، انتخابی جمہوریت سے متعلق خدشات کو عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کی مشکلات سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا، کیونکہ اقتدار میں آنے والے نمائندے ہی ان پالیسیوں کا تعین کرتے ہیں جن کا اثر لوگوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر کروڑوں اہل ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کردیے گئے ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تمام لوگ غیر قانونی تارکین وطن ہیں؟ کیا وہ ہندوستانی شہری نہیں ہیں جن کے حق رائے دہی کا تحفظ ہونا چاہیے؟‘‘ ان کا کہنا تھا کہ بے روزگاری، خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم اور نظام انصاف سے متعلق مسائل پر بھی سیاسی جوابدہی ضروری ہے۔ جھارکھنڈ کے گملا کی رہنے والی اور دہلی کے جنوب مشرقی علاقے جسولا کی ایک کچی بستی میں مقیم گھریلو ملازمہ گڈی ٹِرکی نے بتایا کہ بوتھ لیول آفیسران کے گھر آئے تھے اور انہوں نے اپنے آبائی گاؤں سے تعلق ثابت کرنیوالے دستاویزات پیش کرنے کو کہا تھا۔ ان کے کاغذات میں کچھ خامیوں کی وجہ سے یہ عمل مزید پیچیدہ ہوگیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا، ’’ہم کسی دوسرے ملک سے تو نہیں آئے ہیں۔ پھر ہم جیسے لوگوں کو اپنی اہلیت ثابت کرنے کیلئے اتنی پریشانی کیوں اٹھانی پڑ رہی ہے؟‘‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل خاص طور پر پسماندہ طبقوں کے لوگوں کے لیے مشکل ہے، کیونکہ ان میں سے اکثر کے پاس سرکاری کارروائیوں کو سمجھنے اور مکمل کرنے کے لیے نہ تو مناسب تعلیم ہے اور نہ ہی زبان پر عبور۔ انہوں نے کہا، ’’ہم پڑھے لکھے نہیں ہیں، ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آتی۔ ہم گھروں میں کام کرتے ہیں۔ ہماری بات کون سنتا ہے؟‘‘
یہ بھی پڑھئے:اپوزیشن نے احتجاج کو دوسری جنگ آزادی قرار دیا
طلبہ تنظیموں کے نعروں میں بھی جوابدہی کا مطالبہ واضح طور پر سنائی دے رہا تھا۔ شاہجہاں پور سے آنے والے نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یوآئی) کی یوپی یونٹ کے اراکین نے ایک ہی نعرہ بلند کیا، ’’ووٹ چور، گدی چھوڑ!‘‘ انہوں نے گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ہریانہ سے تعلق رکھنے والے کانگریس لیڈر راجیش چودھری نے جمہوریت کے بنیادی اصول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین عوام کا ہے اور اسی سے اسے اختیار حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال نے یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ کیا شہریوں کی مناسب نمائندگی ہو رہی ہے اور کیا اقتدار میں بیٹھے لوگ عوام کے سامنے جوابدہ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بے روزگاری، مہنگائی، خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم اور تعلیمی نظام کی خامیوں پر حکومت کو جوابدہ ہونا چاہیے۔
منی پور کے ضلع کاکچنگ سے آئے بوبو نے کہا کہ ایس آئی آر کی کارروائی ختم کرنے کا مطالبہ حکومت کو جوابدہ بنانے کی وسیع تر جدوجہد سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکز کو مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق سوالات سے اسی طرح بچ نکلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، جس طرح اس نے منی پور میں نسلی تشدد کے بعد لوگوں کے خدشات اور مدد کیلئے کی جانے والی اپیلوں کو نظرانداز کیا تھا۔ ان کے مطابق، ۳؍ سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود منی پور کا بحران برقرار ہے اور اسکا حل نظر نہیں آرہا ہے۔ نوئیڈا کی ۲۹؍ سالہ ٹرانس جینڈر کارکن سمرن شرما نے کہا کہ انتخابی فہرستوں سے ٹرانس جینڈر افراد کے نام خارج ہونے سے اس طبقے کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں، جو پہلے ہی سماجی قبولیت اور معاشی تحفظ کیلئے جدوجہد کر رہا ہے۔ سمرن نے بتایا کہ وہ۱۲؍ سال قبل اپنے خاندان سے الگ ہوگئی تھیں۔ ان کے مطابق، دہلی میں انکے والد کا نام بھی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے غائب ہے۔
نمائندگی اور روزگارپر طلبہ نے کیا کہا؟
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی۲۲؍ سالہ طالبہ روبی، جو’ایم ایس ایف ‘سے وابستہ ہیں، نے بتایا کہ وہ اور انکے دوست کئی ہفتوں سے ایس آئی آر کی کارروائی میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل سی جے پی کی جانب سے منعقدہ مارچ کے دوران انہیں کناٹ پلیس میں حراست میں بھی لیا گیا تھا۔ کیرالہ سے آنے والے طلبہ، جن میں ایم ایس ایف اور دیگر تنظیموں کے ارکان شامل تھے، نے بھی مظاہرے میں شرکت کی۔ ان میں سے کچھ طلبہ نے بیٹ مین کے ماسک پہن رکھے تھے۔ روبی نے انتخابی حقوق سے متعلق خدشات کو نوجوانوں کے مستقبل کی پریشانیوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ تعلیم تک رسائی کا نتیجہ روزگار سمیت بہتر مواقع کی شکل میں سامنے آنا چاہیے، نہ کہ صرف تعلیمی اداروں میں داخلے کے اعداد و شمار تک محدود رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’صرف تعلیم فراہم کرنا کافی نہیں، تعلیم کا معیار بھی اہم ہے۔ نوجوانوں کو اپنا مستقبل بنانے کے لیے مواقع ملنے چاہئیں۔‘‘
امیٹھی سے دہلی کے رام لیلا میدان آنے والی ۶۸؍سالہ خاتون نے کیا کہا؟
یوپی کے امیٹھی سے تعلق رکھنے والی اور ’جے کسان آندولن‘ کی حامی۶۸؍ سالہ حشمت نے بتایا کہ کسانوں کے مسائل احتجاج کے ذریعے اٹھانے کیلئے میں نے اپنی جیب سے ٹرین کا کرایہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’کسان ملک کا پیٹ بھرنے کیلئے بہت محنت کرتے ہیں، لیکن ان کی اپنی مشکلات پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ انہیں اپنی فصل کی مناسب قیمت حاصل کرنے، بڑھتی زرعی لاگت اور روزمرہ اخراجات پورے کرنے کیلئے مسلسل جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔‘‘