اقلیتی طلبہ کی اسکالر شپ اسکیم بند کرنے کے فیصلےکی شدید مذمت

Updated: November 28, 2022, 11:15 AM IST | Iqbal Ansari | Thane/Mumbai

اقلیتی امور کے سابق وزیر عارف نسیم خان نے اسے گجرات الیکشن کے پیش نظر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ اور غیرسرکاری تنظیم کے رضاکاروں کی بھی شدید تنقید

 A large number of students used to fill the form for the scholarship scheme..Picture:INN
اسکالرشپ اسکیم کیلئے بڑی تعداد میں طلبہ کا فارم بھرا جاتا تھا۔۔ تصویر :آئی این این

 مرکز کی بی جےپی حکومت  کے ذریعےاقلیتی طبقے کے غریب طلبہ (پہلی تا آٹھویں جماعت) کو اسکالر شپ کے تحت مالی امداد نہ دینے کے فیصلہ پر  اقلیتی طبقے  کے لیڈروں نے شدید لفظوں میں مذمت کی ہے اور اسے گجرات الیکشن میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا قدم قرار دیا ہے۔  یہ اسکالر شپ اسی سال سے بند کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ 
’’گجرات الیکشن میں سیاسی فائدہ حاصل کی کوشش ‘‘
 اس  بارے میں اقلیتی امور کے سابق ریاستی  وزیر اور کانگریس لیڈر محمد عارف نسیم خان ( جو فی الحال گجرات میں الیکشن کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں) سے فون پر رابطہ قائم کرنے  پر انہوں نے  انقلاب کو بتایا کہ ’’کانگریس کی سرکار نے اقلیتی طبقے کے غریب بچوں کو مفت تعلیم دینے کا قانون بنایا  تھا تاکہ یہ بچے بنیادی تعلیم سے محروم نہ رہے لیکن گجرات الیکشن میں فرقہ وارانہ ماحول بناکر سیاسی فائدہ اٹھانے کیلئے بی جے پی حکومت کی جانب  سے یہ پینترا استعمال کیا جارہا ہے۔ گجرات میں چنا ؤ کو ذہن میں رکھ کر ہی  یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہم اس کی شدید مذمت کرتے  ہیں۔‘‘
’’بی جے پی چھوٹی سے چھوٹی سہولت بھی چھین رہی ہے ‘‘
  اس سلسلے میں بھیونڈی اور گوونڈی میں اسکالر شپ کا فارم مفت میں پُر کرنے کا نظم کرنے والے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نمائندۂ انقلاب کو بتایا کہ ’’ حکومت نے اقلیتوں کو دی  جانے والی چھوٹی سے چھوٹی مدد بھی چھیننا شروع کر دیا ہے۔پری میٹرک اسکالر شپ اقلیتی طبقے  کے طلبہ  سےچھیننا بھی اسی الزام کی تصدیق کرتا ہے۔‘‘ انہوںنے مزید کہا کہ مرکزی حکومت یہ نعرہ تو دیتی ہے کہ سب کا ساتھ  سب کا وکاس  اوربیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ  لیکن کام اس کے خلاف ہی کیا جاتا ہے۔ ہم حکومت کے اس اصل چہرے کو بے نقاب کریں گے اور حکومت سے غریب طبقوں کے بچوں کو دی جانے والی اسکالر شپ بحال کرنے کا مطالبہ کریں گے ۔  اس سلسلے میں اسکالر شپ کا ممبرا  اور دیگر علاقوں مفت فارم پُر کرنے کا کئی برسوں سے نظم کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’ملی تحریک‘ کے جنرل سیکریٹری ابوفیصل چودھری نے بتایا کہ’’اس فیصلہ سے غریب طلبہ کو شدید دھچکا لگے گا کیونکہ  لاکھوں طلبہ کو آر ٹی ای کوٹے کے تحت پرائیویٹ اسکولوں میں مفت تعلیم کی سہولت نہیں ملتی ہے اور اسی لئے حکومت نے پری میٹرک اسکالر شپ دینے کا سلسلہ شروع کیا تھا تاکہ غریب بچوں کو مالی مدد دی  جائے اور وہ اسی مدد سے گھر کے قریبی پرائیویٹ اسکولوں میں معیاری تعلیم حاصل کر سکیں۔‘‘  انہوںنے مزید کہا کہ اس اسکالرشپ  کے لئے کئی بیوہ خواتین ، سنگین بیماریوں میں مبتلا مریضوںاور انتہائی غریب سرپرستوں نے دوڑ دھوپ کر کے انکم سرٹیفکیٹ بنوایا تھا  اور اس کی مدد سے فارم پُر کیا تھالیکن اب ا ن کی تمام محنت اور دوڑ دھوپ حکومت کے اس فیصلہ سے بےکار ہو جائے گی۔  
اقلیتی طبقوں کو تعلیم سے محروم کرنے کی سازش
 ابوفیصل چودھری نے یہ  الزا م بھی لگایا کہ مرکزی کے اس فیصلہ سے یہ صاف نظر آتا ہے کہ سب کا ساتھ اور سب کا وکاس کا نعرہ دینے والی حکومت اقلیتی طبقے کے غریب طلبہ کو تعلیم سے محروم کرنا چاہتی ہے کیونکہ جس آر ٹی ای   کے تحت تعلیم دینے کی بات کی جارہی ہے وہ صرف پہلی جماعت میں اور وہ بھی کلاس کی کل سیٹ کا ۲۵؍ فیصد کوٹہ ہوتا ہےاور وہ بھی ہر اسکول پر نافذ نہیں کیاجاتا ہے۔اس کے علاوہ دوسری سے آٹھویں کے بچے آر ٹی ای میں شامل نہیں کئے جاتے ۔ اس طرح جب غریب طلبہ کو سرکاری امداد نہیں ملے گی تو وہ اسکول کی فیس ادا نہیں کر پائیں گے نتیجتاً  وہ اپنی پڑھائی کا سلسلہ منقطع کرنے پر مجبور ہو  جائیں گے۔ اس طرح لاکھوں کی تعداد  غریب اقلیتی  طلبہ  تعلیم سے محروم ہوسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK