مظاہرہ کرنے والے طلبہ کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام آر ایس ایس کا ہے اور جامعہ ملیہ جیسی عظیم درسگاہ میں کسی فرقہ وارانہ تنظیم کو پروگرام کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟
EPAPER
Updated: April 29, 2026, 9:48 AM IST | Agency | New Delhi
مظاہرہ کرنے والے طلبہ کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام آر ایس ایس کا ہے اور جامعہ ملیہ جیسی عظیم درسگاہ میں کسی فرقہ وارانہ تنظیم کو پروگرام کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟
دنیا بھر میں اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے لیے مشہور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منگل کو اس وقت ہنگامہ آرائی ہوئی، جب آر ایس ایس کے ایک پروگرام کے خلاف بائیں بازو سے وابستہ آئیسا سمیت طلبہ کے مختلف گروپوں نے شدید طور پر مخالفت کی۔ا س دوران کیمپس کے باہر سخت سیکوریٹی کے انتظامات کیے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق شعبہ انجینئرنگ کے آڈیٹوریم میں صبح ساڑھے ۱۰؍ بجے سے پروگرام بعنوان ’’یووامہا کمبھ سیوا سمرپن کے سو سال اور راشٹر نرمان میں یوواؤںکی بھومیکا‘‘ کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا۔ جیسے ہی پروگرام شروع ہوا، طلبہ کے ایک بڑے طبقے نے آڈیٹوریم کے باہر احتجاج کرنا شروع کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے:امید ہے کہ حماس غیر مسلح ہوجائے گا: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
ا ن طلبہ کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام آر ایس ایس کا ہے، جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسی عظیم درسگاہ میں فرقہ واریت پر مبنی کسی تنظیم کو کیسے پروگرام کی اجازت دی جا سکتی ہے؟احتجاج کے دوران حالات پر امن رہے ۔ ایک جانب پروگرام جاری رہا، دوسری جانب طلبہ احتجاج کرتے رہے۔ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ وہ آر ایس ایس کا پروگرام دو گھنٹے تک روکنے میں کامیاب رہے۔طلبہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے کیمپس میں آر ایس ایس سے منسلک پروگرام کی اجازت دینا متنازع ہے اور اس سے اقلیتی برادری کے طلبہ میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ سکتا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ اس سے کچھ عرصہ قبل اے بی وی پی کے کارکنوں نے لڑکیوں کے گارگی کالج میں زبردستی گھس کر ہنگامہ کیا تھا۔ گارگی کالج دہلی یونیورسٹی کا لڑکیوں کا ایک کالج ہےجہاں اے بی وی پی باقاعدگی سے اس کالج میں اپنی سرگرمیاں انجام دینے کی کوشش کرتی ہے۔ اس واقعہ کے بعد گارگی طلبہ نے راہل گاندھی سے ملاقات کی اور انہیں اس واقعہ کی جانکاری دی۔