نان کریمی لیئر سرٹیفکیٹ کی شرط سے طلبہ پریشان

Updated: August 24, 2021, 8:33 AM IST | saadat khan | Mumbai

گیارہویں جماعت میں داخلے کیلئے پہلے کالج میں داخلہ کے وقت اوبی سی زمرے کے طلبہ نان کریمی لیئر سرٹیفکیٹ جمع کرتےتھے مگر امسال آن لائن درخواست کے وقت ہی اس سرٹیفکیٹ کی تفصیلات طلب کی جارہی ہے جس کی وجہ سے متعدد طلبہ اور سرپرست پریشان ہیں

Students can be seen filling out the 11th class form in the cybercafe.Picture:Inquilab
طلبہ کو سائبر کیفے میں ۱۱؍ویں جماعت کا فارم پُر کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر انقلاب

گیارہویں جماعت کے آن لائن داخلےکی کارروائی کیلئے اوبی سی،این ٹی ، وی جے این ٹی اور ایس بی ایس طلبہ سے نان کریمی لیئر سرٹیفکیٹ کی تفصیلات درج کرنےکیلئے کہا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ان زمرےمیں آنےوالے بالخصوص وہ طلبہ پریشان ہیں جن کے پاس نان کریمی لیئر سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔ سرٹیفکیٹ نہ ہونے سے یہ طلبہ مخصوص زمرےمیں داخلے کیلئے درخواست نہیں کر پا رہے ہیں۔متذکرہ سرٹیفکیٹ بنانےمیں کئی ہفتے لگ جاتےہیں۔گزشتہ سال تک اس طرح کی شرط نہیںتھی۔ کالج میں داخلے کے وقت  اس سرٹیفکیٹ کی ضرورت پڑتی تھی لیکن امسال سے آن لائن فارم پُرکرتےوقت ہی سرٹیفکیٹ کی تفصیلات طلب کی جارہی ہے ۔ اس ضمن میں بی جے پی کےسابق رکن اسمبلی نریندر پوار نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ اُدھو ٹھاکرے اور وزیر تعلیم ورشا گائیکواڈ کو مکتوب روانہ کیا ہے۔ ساتھ ہی اس شرط کو فوراً منسوخ کرنےکا مطالبہ اور آندولن کرنے کا اشارہ دیاہے۔
 نریندرپوارکے مطابق’’ ممبئی سمیت ریاست کےدیگر اضلاع میںگیارہویں جماعت کے داخلے کیلئے آن لائن فارم پُرکرنےکی کارروائی جاری ہے۔ فارم پُرکرنےکیلئےطلبہ سے نان کریمی  لیئر سرٹیفکیٹ کی تفصیلات طلب کی جارہی ہے جس سے اوبی سی، ایس بی سی ، وی جے این ٹی اور این ٹی طبقے کے طلبہ کانقصان ہورہاہے۔ ان طبقے کےجن طلبہ کے پاس نان کریمی لیئر سرٹیفکیٹ نہیں ہے وہ پریشا ن ہیں۔ سرٹیفکیٹ بنانےمیں کم از کم ۲۰؍تا ۲۵؍دن لگ جاتےہیں جبکہ داخلہ فارم پُرکرنےکی مدت ۳۰؍اگست کو ختم ہورہی ہے ۔مجبوراً ان زمرے کے طلبہ اوپن کیٹیگری میں داخلہ لے رہے ہیں جو ان کے ساتھ ناانصافی ہے۔‘‘
 مہاراشٹراسٹیٹ شکشک پریشدممبئی کے صدر شیوناتھ دراڈے نے کہاکہ ’’امسال گیارہویں جماعت میں داخلے کیلئے آن لائن فارم پُر کرنے والے طلبہ کیلئے نان کریمی لیئر سرٹیفکیٹ کی تفصیلات درج کرنا لازمی کر دیا گیا ہے جبکہ گزشتہ سال تک ایسانہیں تھا۔ آن لائن ایڈمیشن کی کارروائی مکمل ہونے کےبعد جب طلبہ کالج میں داخلہ کنفرم کرو انےجاتے تھے، اُس وقت یہ سرٹیفکیٹ جمع کروانا ہوتا تھا مگر امسال سے آن لائن فارم پُرکرتے وقت اس سرٹیفکیٹ کی تفصیلات طلب کی جارہی ہے جس سےمذکورہ طبقے کے طلبہ کا نقصان ہورہاہے ۔ اوبی سی اور ایس بی ایس وغیرہ کی سرٹیفکیٹ ہونے کےباوجود ان کا داخلہ اوپن کیٹیگری میں ہورہاہے لہٰذا اوبی سی اور سماجی انصاف کے وزیر سے  مطالبہ ہےکہ مذکورہ سرٹیفکیٹ بنانےکیلئے طلبہ کو مہلت دی جائے تاکہ ان کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔‘‘
 اوبی سی مہاسنگھ کے جنرل سیکریٹری پرویز انصاری نے کہاکہ ’’اس طرح کی شکایتیں ہرسال داخلے کے وقت سامنے آتی ہیں۔ ایسا لگتاہےکہ دانستہ طورپر پسماندہ طبقے کے طلبہ کو ملنےوالی سہولیات سے محروم رکھنےکیلئےایسی شرائط رکھی جاتی ہیں کہ طلبہ اور ان کے والدین پریشان ہوں۔  نان کریمی لیئر سرٹیفکیٹ بنانےمیں متعدد دشواریاں آتی ہیں ،وقت بھی ضائع ہوتاہے ۔ اس لئے حکومت کو چاہئے کہ کسی بھی طرح کی شرط عائد کرنے سے قبل اس کے رموز پر غورکیاجائے تاکہ کسی طرح کی پریشانی طلبہ کو نہ اُٹھانی پڑے۔‘‘
  ناگپاڑہ پر واقع سیم کمپیوٹر کے مالک اشفاق انصاری کےبقول ’’ہمارے سائبر کیفےمیں مذکورہ  زمرے کے کئی طلبہ ہر روز آن لائن فارم پُر کرنے آتےہیں۔ نان کریمی لیئر سرٹیفکیٹ نہ ہونے سے وہ تذبذب میں مبتلاہوتےہیں۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتاہے کہ وہ کیاکریں ۔ مجبوراً وہ کاسٹ سرٹیفکیٹ وغیرہ کی تفصیلات درج کرکے فارم پُر کر رہےہیں اور نان کریمی لیئر سرٹیفکیٹ بنانےکی کارروائی پوری کرنےکیلئے  بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔ اس طرح کے سرٹیفکیٹ کیلئے حکومت کو چاہئے کہ وہ طلبہ کو کچھ وقت مہیاکرے۔‘‘
  اس تعلق سے استفسار کیلئےڈائریکٹر آف سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن پونےڈی جی جگتاپ سےانقلاب نے رابطہ کیاتو انہوں نے میٹنگ میں ہونے کی وجہ سے بعدمیں بات کرنےکی درخواست کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK