• Thu, 01 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوڈان : دار فورمیں بچوں کی بڑی تعداد شدید غذائی قلت کا شکار، امدادی کارروائی میں سہولت کا مطالبہ

Updated: January 01, 2026, 4:43 PM IST | Agency | Khartoum

یونیسف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کیتھرین رسل کے مطابق جب شدید غذائی قلت اس حد تک پہنچ جائے تو وقت انتہائی قیمتی ہوتا ہے، ہر گزرتا دن بچوں کو مزید کمزور کرتا جا رہا ہے۔

UNICEF workers in Darfur are seen smiling. Picture: INN
دارفور میں یونیسف کے کارکن سر گرم نظر آر ہے ہیں۔ تصویر: آئی این این
سوڈان کی ریاست شمالی دارفور میں بچوں کی بڑی تعداد غذائی قلت کا شکار ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس پر اقوام متحدہ نے تشویش ظاہر کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے جنگ زدہ علاقے میں حالات پر قابو پانے کیلئے انسانی امداد کی رسائی میں سہولت دینے کیلئے کہا ہے۔
یونیسف کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق ام بورو نامی علاقے میں نصف سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جن میں بعض کی حالت نازک ہے۔ ۱۹؍ سے۲۳؍ دسمبر کے درمیان کئے گئے جائزے سے اندازہ ہوا ہے کہ ہر ۶؍ میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت میں مبتلا ہے جس کا بروقت علاج نہ ہو تو چند ہی ہفتوں میں زندگی ختم ہو سکتی ہے۔
۵۰۰؍بچوں کے اس جائزے میں۵۳؍ فیصد ایسے تھے جن میں شدید نوعیت کی غذائی قلت پائی گئی جن میں ۱۸؍ فیصد انتہائی اور ۳۵؍فیصد درمیانی درجے کی غذائی قلت کا شکار تھے۔ یہ دنیا میں غذائی قلت کی بلند ترین شرح میں سے ایک ہے۔یونیسف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا ہے کہ جب شدید غذائی قلت اس حد تک پہنچ جائے تو وقت انتہائی قیمتی ہوتا ہے۔ ام بورو کے بچے اپنی زندگیوں کی جنگ لڑ رہے ہیں اور انہیں فوری مدد کی ضرورت ہے۔ ہر گزرتا دن بچوں کو مزید کمزور کرتا جا رہا ہے اور انہیں ایسی وجوہات سے نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے جن کا مکمل طور پر انسداد ممکن ہے۔
ادارے نے بتایا ہے کہ مقامی آبادی میں عوام کی بڑی تعداد بے گھر خاندانوں پر مشتمل ہے جو اکتوبر کے آخر میں الفاشر کی لڑائی سے جان بچا کر یہاں آئے۔ ان میں بہت سے بچوں کو خسرہ یا دیگر بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکے نہیں لگائے گئے جس کے سبب وہ خاص طور پر خطرے میں ہیں۔عدم تحفظ کی بڑھتی ہوئی صورتحال نے انسانی امداد تک رسائی کو بری طرح محدود کر دیا ہے اور علاقے میں جاری لڑائی کے باعث انتہائی ضروری انسانی خدمات کی فراہمی میں مہلک تاخیر ہو رہی ہے۔ یونیسف کے مطابق شمالی دارفور سوڈان میں غذائی قلت کے بحران کا مرکز ہے جہاں صرف رواں سال نومبر تک ہی تقریباً۸۵؍ ہزار بچے شدید غذائی قلت کے علاج کیلئے طبی مراکز میں داخل کرائے گئے۔ 
یونیسف کے پاس بچوں میں غذائی قلت دور کرنے کیلئے درکار اشیاء کا ذخیرہ موجود ہے مگر بحران کی شدت کے پیش نظر جامع صحت اور غذائیت کی خدمات فوری طور پر درکار ہیں۔
یونیسف نے تنازع کے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں فوری، محفوظ اور بلا رکاوٹ امدادی رسائی مہیا کی جائے تاکہ ضروری امداد تنازع میں پھنسے بچوں اور ان کے خاندانوں تک پہنچ سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK