بین الاقوامی تنظیم سیو دی چلڈرن نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں تقریباً تین برس سے جاری جنگ کے باعث ۸۰؍ لاکھ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہوچکے ہیں، جبکہ ملک میں اسکولوں کی بندش کی مدت دنیا میں سب سے طویل قرار دی جا رہی ہے۔
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 4:29 PM IST | Agency | Khartoum
بین الاقوامی تنظیم سیو دی چلڈرن نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں تقریباً تین برس سے جاری جنگ کے باعث ۸۰؍ لاکھ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہوچکے ہیں، جبکہ ملک میں اسکولوں کی بندش کی مدت دنیا میں سب سے طویل قرار دی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی تنظیم سیو دی چلڈرن نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں تقریباً تین برس سے جاری جنگ کے باعث ۸۰؍ لاکھ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہوچکے ہیں، جبکہ ملک میں اسکولوں کی بندش کی مدت دنیا میں سب سے طویل قرار دی جا رہی ہے۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ ۸۰؍ لاکھ سے زیادہ بچے، جو تعلیمی عمر کے بچوں کی تقریباً نصف تعداد بنتے ہیں۔۴۸۴؍ دن سے کسی بھی کلاس روم میں قدم نہیں رکھ سکے۔سیو دی چلڈرن نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ یہ اسکولوں کی بندش کا دنیا کا طویل ترین دورانیہ ہے، جو کووڈ۱۹؍ کے دوران اسکول بند رہنے کے دنوں سے بھی تجاوز کرچکا ہے۔تنظیم کے مطابق سوڈان کو دنیا کے بدترین تعلیمی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا ہے، جہاں بڑی تعداد میں اسکول بند ہوچکے ہیں، جبکہ کئی اسکول جنگ کے دوران متاثر ہوئے یا انہیں پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ دارفور کا علاقہ جس کا بیشتر حصہ ریپڈ سپورٹ فورسز کے کنٹرول میں ہے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں ریاست شمالی دارفور میں ۱۱۰۰؍سے زائد اسکولوں میں سے صرف ۳؍ فیصد فعال ہیں۔اسی طرح ریاست مغربی کردفان میں اس وقت صرف ۱۵؍ فیصد اسکول کام کر رہے ہیں، جبکہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث بڑی تعداد میں اساتذہ اپنی ملازمتیں چھوڑ چکے ہیں۔واضح ہوکہ سوڈان گزشتہ تین برس سے فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری جنگ کی تباہ کاریوں کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد ہلاک، لاکھوں بے گھر اور صحت و تعلیم کے بیشتر بنیادی ڈھانچے تباہ ہوچکے ہیں۔