۵۰؍ زخمی، دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ ٹرین کی بوگیاں الٹ گئیں،دھماکے کے بعد علاقے میںفائرنگ بھی ہوئی ۔
بم دھماکہ۔ تصویر:آئی این این
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ایک مشتبہ خودکش حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم ۳۰؍افراد کی موت اور ۵۰؍زخمی ہوگئے جبکہ ٹرین کی بوگیاں الٹ گئیں ۔ پولیس حکام اور ریسکیو ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ریلوے ٹریک کے قریب موجود ایک ٹرین کو نشانہ بنایا گیا جس کے باعث ٹرین پٹری سے نیچے اترگئی۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور ٹریک کے ارد گرد کھڑی کئی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔حملہ اس وقت ہوا جب ٹرین فوجی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو لے کر شہر سے گزر رہی تھی۔ واقعے کے فوراً بعد سیکوریٹی فورسیز کی بھاری نفری اور امدادی ٹیموں کی ایمبولینس جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دی گئیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ابتدائی تحقیقات اور پولیس کے بیانات کے مطابق یہ ایک خودکش حملہ تھا۔ پولیس حکام نے ابتدائی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ چمن پھاٹک کے قریب ٹرین کو ریلوے ٹریک کے پاس نشانہ بنایا گیا ہے ۔ دھماکے کے فوراً بعد پورے علاقے میں شدید فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں مصروف ٹیموں اور مقامی لوگوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا تاہم سیکوریٹی فورسیز نے پوزیشنیں سنبھال کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ریسکیو ذرائع نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس افسوس ناک حادثے میں اب تک ۳۰؍افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ ۵۰؍افراد شدید طور پر زخمی ہیں ۔ ریسکیو حکام کے مطابق اب تک ۸؍ لاشوں کو سول اسپتال کوئٹہ منتقل کیا جاچکا ہے اور باقی جاں بحق ہونے والوں اور تمام زخمیوں کو بھی فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں پہنچا دیا گیا ہے ۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت انتہائی نازک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واقعے کے حوالے سے وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ایک بیان میں حملے کی مذمت کی اور کہا کہ ایسے حملے قومی عزم کو کمزور نہیں کرسکتے۔ محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین چمن پھاٹک کے قریب دھماکے کی زد میں آئی جس کے نتیجے میں انجن سمیت تین کوچز پٹری سے اتر گئے جبکہ دو کوچز الٹ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیکوریٹی فورسیز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر راحتی آپریشن شروع کر دیا ہے ۔ کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور صورت حال سے نمٹنے کیلئے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو طلب کر لیا گیا ہے۔ریلوے حکام نے بتایا کہ پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو دھماکے کے بعد کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا۔