بی جے پی میں سرپھٹول ،مدھیہ پردیش کے شہر دتیا میں شدید ہنگامہ آرائی ، پتھرائو ، پولیس سے جھڑپیں، کئی گھنٹے تک ہائی وے جام، کئی اعلیٰ پولیس افسران زخمی
EPAPER
Updated: July 12, 2026, 8:20 AM IST | Bhopal
بی جے پی میں سرپھٹول ،مدھیہ پردیش کے شہر دتیا میں شدید ہنگامہ آرائی ، پتھرائو ، پولیس سے جھڑپیں، کئی گھنٹے تک ہائی وے جام، کئی اعلیٰ پولیس افسران زخمی
ایم پی کے چمبل خطہ میں واقع دتیا ضلع کے ضمنی اسمبلی انتخاب میںبی جے پی کی جانب سے آشوتوش تیواری کو امیدوار نامزد کئے جانے کے بعد ریاست کے سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کے حامیوں نے پورا دتیا سر پر اٹھالیا۔ انہوں نے نہ صرف پرتشدد احتجاج کیا بلکہ پتھرائو بھی کیا اور ہائی وے بھی جام کردیا۔ یہ جام تقریباً ۱۲؍ گھنٹوں تک جاری رہا جس کی وجہ سے نیشنل ہائی وے ۴۴؍ پوری طرح سے ٹھپ پڑ گیاتھا۔ اتنا ہی نہیں ان حامیوں نے کئی پولیس افسران اور اہلکاروں کو اپنے پتھرائو کے ذریعے زخمی بھی کردیا۔سنیچر کو یہ احتجاج پرتشدد رخ اختیار کرگیا، جس کے بعد انتظامیہ نے امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ضلع میں دفعہ۱۶۳؍ نافذ کر دی ہے۔
احتجاج کے دوران جمعہ کی دیر رات اور سنیچر کی علی الصباح دتیا کے مختلف علاقوں میں پتھراؤ، چکہ جام اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے واقعات پیش آئے۔ پولیس کے مطابق مظاہرین کی جانب سے کئے گئے پتھراؤ میں ضلع ایس پی اور سب ڈویژنل آفیسر سمیت ۸؍ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض مظاہرین کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر انتظامیہ نے ضلع بھر میں اضافی پولیس فورس تعینات کر دی ہے۔ دتیا میں واقع بی جے پی ضلع دفتر کے باہرسیکوریٹی سخت کر دی گئی ہے۔اس کے علاوہ حساس علاقوں میں پولیس کی مسلسل گشت جاری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نپٹا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق ٹکٹ کی تقسیم سے ناراض ضلع صدر رگھوویر سرن سمیت متعدد مقامی لیڈروں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ڈاکٹر نروتم مشرا کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کے طور پر چند بلدیاتی کونسلروں نے بھی اپنے استعفے پارٹی قیادت کو سونپ دیے ہیں۔ واضح رہے کہ بی جے پی نے جمعہ کو دتیا اسمبلی ضمنی انتخاب کیلئے آشوتوش تیواری کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔ سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کو بھی ٹکٹ کا مضبوط دعویدار سمجھا جا رہا تھا اور انہوں نے نامزدگی کی تیاری بھی مکمل کر لی تھی لیکن پارٹی کی جانب سے آشوتوش تیواری کو امیدوار بنادیا گیا۔ یاد رہے کہ نروتم مشرا اس سیٹ سے ۲۰۲۳ء کے اسمبلی الیکشن میں کانگریس لیڈر راجندر بھارتی سے ۷؍ ہزار سے زائد ووٹوںسے ہار گئے تھے لیکن اس سال اپریل میں راجندر بھارتی کو دہلی کی عدالت سے فریب دہی کے ایک کیس میں ۳؍ سال کی سزا سنائے جانے کے بعد یہ سیٹ خالی ہو گئی ۔ اس سیٹ پر اب ضمنی الیکشن کے تحت ۳۰؍ جولائی کو پولنگ ہو گی۔نروتم مشرا،جو مسلم مخالف بیانات اور متنازع نقطہ نظر کی وجہ سے کافی متنازع ہیں، کوپارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا اور اسی وجہ سے ڈاکٹر مشرا کے حامی اپنا آپا کھوبیٹھے اور مسلسل احتجاج کرنے لگے ۔