Inquilab Logo Happiest Places to Work

چڑھاوا چوری کیس:ٹرسٹ میں شامل افراد الزام ایک دوسرے پر تھوپنے کی کوشش کررہے ہیں

Updated: July 08, 2026, 9:42 AM IST | Agency | New Delhi

ایک دوسرے پر الزام تھوپنے کی کوششیں، چمپت رائےکا خط، ایس آئی ٹی جانچ کے بعد ’’سب بتانے‘‘ کا اعلان کیا۔

Protests.Photo:PTI
احتجاج۔ تصویر:پی ٹی آئی

ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ پر بنائی رام مندر میں  چڑھاوا  چوری کے معاملے نے بھگوا خیمہ کو آپس میں ہی جوتم پیزار کی کیفیت  میں مبتلا کردیا ہے۔ ٹرسٹ میں شامل افراد الزام ایک دوسرے پر تھوپنے کی کوشش کررہے ہیں اوراس کیلئے لیٹر بازی عروج پر ہے۔سب سے پہلے ٹرسٹ کے سربراہ نرتیہ گوپال داس کا کھلا خط سامنے آیا جس میں چڑھاوا چوری کی مذمت کرتے ہوئے خاطیوں کیلئے سخت سزا کی مانگ کی گئی اور خود کو بری الذمہ قراردیاگیا۔دوسرا خط ٹرسٹ کے خزانچی سوامی گووند دیوگیری نے پیر کو لکھا اور دعویٰ کیا کہ خزانچی ہونے کے باوجود مندر کے مالی معاملات سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔اب منگل کو ٹرسٹ کے سابق جنرل سیکریٹری چمپت رائے نےاپنا استعفیٰ منظور ہونے کے بعد اپنے ایک بھکت کو خط لکھا ہے جو منظر عام پر لایاگیاہے۔انہوں  نے بھی خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے  ایس آئی ٹی کی جانچ مکمل ہونے تک خاموش رہنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ جانچ رپورٹ آنے کے بعد وہ سب کچھ بتائیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے:سنگاپور پرتعیش زندگی گزارنے کیلئے مسلسل چوتھے سال سب سے مہنگا شہر قرار دیا گیا

انہوں نے کہا ہے کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی حتمی رپورٹ پیش ہونے کے بعد وہ تمام الزامات کا نکتے وار جواب دیں گے۔ چمپت رائے کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایس آئی ٹی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات جاری رکھتے ہوئے مالی ریکارڈ کی جانچ اور ملزمین سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ انہوں نے ایک عقیدت مند کے نام خط میںچمپت رائے نے  اپنی عوامی زندگی کا دفاع کرتے ہوئے  کہا  ہےکہ وہ اکتوبر۱۹۹۱ء سے ایودھیا میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور۴۵؍ برس تک پرچارک کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق ’’میری پوری زندگی ایک کھلی کتاب رہی ہے۔‘‘ انہوں نے اعلان کیا کہ جانچ مکمل ہونے کے بعد وہ تفصیل  سے جواب دیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK