Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایودھیا: مجوزہ مسجد منصوبہ مسلم برادری کی عدم دلچسپی کی وجہ سے محدود کر دیا گیا

Updated: July 10, 2026, 5:01 PM IST | Lucknow

ایودھیا تنازع کے سپریم کورٹ فیصلے کے تحت تعمیر ہونے والی مجوزہ مسجد کا منصوبہ مالی وسائل کی کمی اور مسلم برادری کی عدم دلچسپی کے باعث نمایاں طور پر محدود کر دیا گیا ہے۔ اب فاؤنڈیشن نے اسپتال اور لائبریری کے بجائے صرف ایک چھوٹی مسجد تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

The site in Ayodhya where permission has been given to build a mosque. Photo: INN
ایودھیا میں واقع وہ جگہ جہاں مسجد تعمیر کرنے کی اجازت ملی ہے۔ تصویر: آئی این این

ایودھیا تنازع پر سپریم کورٹ کےتاریخی فیصلے کے تحت تجویز کردہ مسجد منصوبہ اب اپنی اصل منصوبہ بندی کے مقابلے میں بہت چھوٹا کر دیا گیا ہے، کیونکہ مسلم برادری کی جانب سے اس منصوبے کی مالی معاونت میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں دکھائی گئی۔ یہ بات منصوبے کے ذمہ دار عہدیداروں نے بدھ کو بتائی۔ اتر پردیش کے شہر ایودھیا کئی دہائیوں سے ہندوستان کے مذہبی تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ ۱۹۹۲ء میں یہ شہر اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن گیا تھا جب ایک ہندو ہجوم نے۱۶؍ویں صدی کی بابری مسجد کو شہید کر دیا، جس کے بعد ملک بھر میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں تقریباً ۲؍ہزار افراد ہلاک ہوئے، جن کی اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: جموں کشمیر: متنازع موا د کی تلاش، اسکولوں کو تمام کتابوں کی اسکریننگ کا حکم

۲۰۱۹ءمیں ہندوستان کی سپریم کورٹ نے متنازع مقام ہندو فریق کے حوالے کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ مسلمانوں کو مسجد کی تعمیر کیلئے زمین فراہم کرے، جبکہ مسجدی کمپلیکس کی تعمیر کے اخراجات مسلم برادری کے عطیات سے پورے کئےجائیں۔ اسی مقصد کیلئے انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن (IICF) قائم کی گئی تھی مگر فاؤنڈیشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ عطیات توقعات سے بہت کم ملنے کی وجہ سے پانچ ایکڑ اراضی پر مجوزہ بڑے منصوبے کو ترک کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق اس مقام پر ایک مسجد، ۳۰۰؍ بستروں پر مشتمل جدید کثیرالخصوصی اسپتال اور ایک لائبریری تعمیر کی جانی تھی۔ فاؤنڈیشن کے چیئرمین ظفر احمد فاروقی نے اس کی وجہ مالی وسائل کی کمی کو قرار دیتے ہوئے کہا، ’’مسلم برادری کی جانب سے واضح طور پر دلچسپی کا فقدان ہے اور جو عطیات موصول ہوئے ہیں وہ ناکافی ہیں۔ اب ہم پہلے سے کہیں چھوٹی مسجد تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: کانگریس نے وزیر تعلیم کا استعفیٰ اور این ٹی اے کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا

دوسری جانب مسجد کا منصوبہ تعطل کا شکار ہے، جبکہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنے اہم انتخابی وعدوں میں شامل عظیم الشان رام مندر کی تعمیر مکمل کر لی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے۲۰۲۴ءکے عام انتخابات سے چند ماہ قبل اس مندر کا باضابطہ افتتاح کیا تھا۔ فاؤنڈیشن کے سیکریٹری اطہر حسین نے بتایا کہ اب ایک’’چھوٹی مسجد‘‘تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے، جس پر تقریباً۳؍ کروڑ سے ۵؍کروڑ روپے تک لاگت آئے گی، جبکہ اب تک صرف ڈیڑھ کروڑ روپے کے عطیات جمع ہو سکے ہیں۔ ادھر رام مندر بھی ان دنوں عطیات میں مبینہ خردبرد کے الزامات کی وجہ سے تنازع کا شکار ہے، جس کے بعد منگل کو اس کی انتظامیہ میں تبدیلیاں کی گئیں۔ رام مندر میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ اتر پردیش میں آئندہ سال کے اوائل میں متوقع اسمبلی انتخابات سے قبل اپوزیشن کیلئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کا ایک نیا موقع بن گیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK