• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے سی پی پر جنسی ہراسانی کا الزام لگانے والی خاتون صحافی کو سپریم کورٹ سے عبوری راحت

Updated: October 15, 2026, 9:04 PM IST | New Delhi

دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کی کوریج کے دوران ایک خاتون صحافی نے اے سی پی وویک بھگت پر مبینہ جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا۔ صحافی کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے ان کی شکایت پر ایف آئی آر درج نہیں کی، جبکہ پولیس افسر کی شکایت پر ان کے خلاف ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے جمعرات کو خاتون صحافی کو عبوری تحفظ فراہم کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت یا جبری کارروائی سے روک دیا۔

Woman journalist (right), ACP Vivek Bhagat (left). Image: X
خاتون صحافی (دائیں)، اے سی پی وویک بھگت ( بائیں)۔ تصویر: ایکس

سپریم کورٹ نے جمعرات کو اس خاتون صحافی کو عبوری راحت فراہم کی جس کے خلاف اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس وویک بھگت کی شکایت پر مبینہ طور پر ذات پات پر مبنی توہین آمیز ریمارکس دینے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوئے مالیا باغچی پر مشتمل بنچ نے ہدایت دی کہ خاتون صحافی کے خلاف کوئی سخت یا جبری کارروائی نہ کی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ تحفظ مخصوص معاملے اور متعلقہ افراد تک محدود رہے گا۔ سینئر وکیل اندرا جیسنگ نے خاتون صحافی کی جانب سے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے کہا کہ ان کی موکل نے احتجاج کے دوران پولیس افسر کے مبینہ نامناسب رویے اور جنسی ہراسانی کے خلاف شکایت کی تھی، لیکن پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔ اس کے برعکس، پولیس افسر کی شکایت پر خاتون صحافی کے خلاف ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کردی گئی۔ جیسنگ نے اس کارروائی کو انتقامی قرار دیتے ہوئے خاتون صحافی کے لیے فوری تحفظ کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: روی کشن کی راہل گاندھی پر تنقید، ’کہنی باز وزیراعظم‘ بننے کا خواب دیکھنے والا کہا

اندرا جیسنگ نے عدالت سے یہ بھی اپیل کی کہ احتجاجی مقامات پر جنسی ہراسانی یا بدسلوکی کی شکایت کرنے والی خواتین صحافیوں کے معاملات کی جانچ کے لیے ایک آزاد کمیٹی تشکیل دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف شکایات کی تحقیقات میں غیر جانب داری یقینی بنانے کے لیے ایسا نظام ضروری ہے جو متعلقہ پولیس محکمے سے آزاد ہو۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب شکایت خود پولیس کے ایک افسر کے خلاف ہو تو اسی محکمے کے ذریعے تحقیقات کرانے سے غیر جانب داری پر سوالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ خاتون صحافی کے الزامات کو سنجیدگی سے لیا جارہا ہے، تاہم تمام خاتون صحافیوں کے خلاف قانونی کارروائی پر عمومی پابندی عائد کرنا بہت وسیع حکم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاجی مقامات پر آزاد صحافیوں اور سوشل میڈیا کے لیے ویڈیوز بنانے والوں کے درمیان فرق کرنا بعض اوقات مشکل ہوتا ہے۔ اس کے باوجود کسی کے ساتھ نامناسب سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ حکومت کا مؤقف سنے بغیر کوئی وسیع ہدایت جاری نہ کی جائے۔
عدالت نے فوری طور پر تمام خاتون صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی درخواست قبول نہیں کی، بلکہ اپنا حکم مخصوص خاتون صحافی اور عدالت کے سامنے پیش کیے گئے معاملے تک محدود رکھا۔ جسٹس باغچی نے واضح کیا کہ عبوری تحفظ درخواست میں بیان کردہ واقعے اور متعلقہ افراد تک ہی رہے گا۔ اس طرح خاتون صحافی کو جبری کارروائی سے عارضی راحت مل گئی، لیکن ان کے خلاف درج مقدمہ ختم نہیں ہوا اور نہ ہی پولیس افسر کے خلاف عائد الزامات کو ثابت شدہ قرار دیا گیا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے میڈیا کارکنوں کے تحفظ کے وسیع تر معاملے پر بھی توجہ دی۔ بنچ نے اشارہ دیا کہ تسلیم شدہ صحافیوں، آزاد صحافیوں اور سوشل میڈیا پر مواد تیار کرنے والوں کے لیے تحفظ کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ خواتین صحافیوں کی شکایات کی آزادانہ جانچ کے لیے کمیٹی کی تجویز بھی اسی بحث کا حصہ رہی۔

یہ بھی پڑھئے: دھولیہ میں گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں کا احتجاج

اس تنازع کا آغاز ۳؍  اکتوبر کو نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران ہوا تھا۔ خاتون صحافی نے الزام لگایا کہ مظاہرین کو حراست میں لینے کے دوران اے سی پی وویک بھگت نے ان کے ساتھ نامناسب جسمانی رویہ اختیار کیا۔ دوسری جانب، بھگت نے اپنی شکایت میں الزام لگایا کہ خاتون صحافی اور دیگر افراد نے ان کے خلاف ذات پات پر مبنی توہین آمیز ریمارکس دیے اور سرکاری ڈیوٹی میں رکاوٹ ڈالی۔ ان الزامات کی بنیاد پر خاتون صحافی اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ خاتون صحافی کی جنسی ہراسانی سے متعلق شکایت کو دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے حوالے کیا گیا ہے اور اس کی جانچ جاری ہے۔ اس شکایت پر ایف آئی آر درج نہ ہونے کا معاملہ بھی عدالت میں اٹھایا گیا۔ سپریم کورٹ کی عبوری راحت فی الحال خاتون صحافی کو جبری کارروائی سے تحفظ فراہم کرتی ہے؛ دونوں فریقوں کے الزامات کی صداقت اور تحقیقات کے نتائج کا فیصلہ بعد کی قانونی کارروائی میں ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK