عدالت نے کہا کہ وہ طلبہ جن کا پس منظر مجرمانہ نہ ہو اور جو نابالغ ہوں، ان کیخلاف مظاہرے میں حصہ لینے پر کوئی بھی جابرانہ کارروائی نہ کی جائے
EPAPER
Updated: July 29, 2026, 7:39 AM IST | New Delhi
عدالت نے کہا کہ وہ طلبہ جن کا پس منظر مجرمانہ نہ ہو اور جو نابالغ ہوں، ان کیخلاف مظاہرے میں حصہ لینے پر کوئی بھی جابرانہ کارروائی نہ کی جائے
سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے پر گرفتار یا حراست میں لئے گئے ان تمام طلبہ کو منگل کو رہا کرنے کا حکم دیا جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے اور جو نابالغ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے مرکزی حکومت اور آسام، بہار، مغربی بنگال، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر نیز کیرالا حکومتوں سے جواب طلب کیا ہے۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملک گیر طلبہ کے مظاہروں کے دوران طلبہ اور پولیس اہلکاروں کو آئی چوٹوں کے الزامات کی منصفانہ اور آزادانہ تحقیقات ضروری ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں عبوری ہدایات کا ایک سلسلہ جاری کرتے ہوئے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ اپنے ایک سابق جج کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے سکتی ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ پولیس جارحیت کے الزامات والی عرضیوں کے ساتھ ساتھ زخمی پولیس اہلکاروں اور میڈیاکی طرف سے دائر عرضیوں پر سماعت کر رہی تھی۔ عدالت نے مظاہرین کی ذاتی معلومات اور ڈیجیٹل ڈیٹا کو محفوظ رکھنے نیز ایسی معلومات کو فی الحال عام نہ کرنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ہی، بغیر کسی مجرمانہ پس منظر والے طلبہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں حصہ لینے پر کوئی بھی تادیبی یا جابرانہ کارروائی نہ کی جائے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ان واقعات سے جڑے تمام سی سی ٹی وی اور ڈرون فوٹیج، کیمرہ ریکارڈنگ، وائرلیس ریکارڈ اور پی سی آر لاگ کو محفوظ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔