Updated: September 15, 2026, 10:23 PM IST
| New Delhi
دہلی ہائی کورٹ نے تقریباً آٹھ سال سے یو اے پی اے کے تحت جیل میں قید محمد ثاقب افتخار کو مقدمے کی سست رفتار کارروائی کے پیش نظر ضمانت دے دی۔ عدالت نے ضمانت کے ساتھ سوشل میڈیا پر مواد شیئر کرنے، شہر سے باہر جانے اور این آئی اے کے دفتر میں حاضری سمیت متعدد سخت شرائط بھی عائد کی ہیں۔
دہلی ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این۔
دہلی ہائی کورٹ نے پیرکو، تقریباً آٹھ سال سےیو اے پی اے کے تحت زیرِ سماعت قیدی کے طور پر جیل میں بند ایک شخص کو ضمانت دے دی ہے۔ ضمانت میں سوشل میڈیا پوسٹ یا شیئر اورشہر سے باہر نہ جانے سےمتعلق مختلف قسم کی پابندیاں بھی شامل ہیں۔ عدالت نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ملزم طویل عرصے سے قید میں ہے جبکہ اس کے خلاف مقدمے کی کارروائی مکمل ہونے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔ جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس رویندر دوڈیجا کی بنچ نے ۱۴؍ ستمبر کو دئیے گئے اپنے فیصلے میں محمد ثاقب افتخار کی ضمانت منظور کی، جنہیں ۲۰۱۸ء میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA)، دھماکہ خیز مواد کے ایکٹ اور تعزیراتِ ہند کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ اس کیس میں کل ۱۲۰؍ سرکاری گواہوں میں سے اب تک صرف ۴۰؍ گواہوں کے بیانات ہی قلمبند ہو سکے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقدمہ جلد ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال: اسلامی کلمات کہنے پر مسلم خاتون آئی پی ایس افسر کا تبادلہ
محمد ثاقب کو قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) نے ۲۰۱۸ء میں گرفتار کیا تھا۔ ایجنسی کا الزام تھا کہ وہ حرکت الحربِ اسلام نامی ایک تنظیم کا رکن ہے، جس نے جیشِ محمد کے جنگجوؤں سے ملاقاتیں کیں اور حکومتِ ہند کے خلاف جنگ چھیڑنے کیلئے ہتھیار فراہم کئے۔ اس سے قبل پٹیالہ ہاؤس کورٹ کی سیشن عدالت نے ثاقب کی ضمانت کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس کے بعد انہوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ انہوں نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ اس سازش کا مرکزی حصہ نہیں تھے بلکہ ان کا کردار انتہائی معمولی تھا۔ جبکہ این آئی اے نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ صرف مقدمے میں تاخیر ضمانت کا جواز نہیں بن سکتی۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ گواہوں کے بیانات اور پیش کردہ مواد اگرچہ سنگین ہیں لیکن وہ ثاقب کی قید کو مزید طول دینے کیلئے کافی نہیں ہیں، خاص طور پر جب وہ پہلے ہی ایک طویل عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں۔ سیشن کورٹ کے حکم کو منسوخ کرتے ہوئے عدالت نے ثاقب کی ضمانت منظور کر لی تاہم ان پر کچھ سخت شرائط بھی عائد کی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: برکس قبضے، آبادکار نوآبادیاتی نظام اور دہشت گردی کو مسترد کرے: انور ابراہیم
عدالت نے انہیں اپنا پاسپورٹ جمع کرانے، صرف ایک موبائل یا لینڈ لائن فون استعمال کرنے اور ہر ۱۵؍ دن میں این آئی اے کے لکھنؤ دفتر میں حاضری دینے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ، سوائے دہلی میں مقدمے کی سماعت یا این آئی اے کے دفتر میں پیشی کے وہ اپنے آبائی علاقے ہاپوڑ سے باہر نہیں جا سکتے۔ عدالت نے یہ خاص شرط بھی رکھی ہے کہ وہ سوشل میڈیا یا کسی دوسرے ذریعے سے کوئی بھی ’ملک دشمن مواد‘ شیئر یا پوسٹ نہیں کرسکتے اورانہیں اپنی رہائش یا رابطے کی تفصیلات تبدیل کرنے سے کم از کم ۷؍ دن پہلے حکام کو مطلع کرناہوگا۔