• Sun, 13 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاراشٹر کے تبدیلیٔ مذہب قانون کی آئینی حیثیت کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج

Updated: September 12, 2026, 10:05 PM IST | Mumbai

مہاراشٹر کے نئے قانونِ آزادیٔ مذہب ۲۰۲۶ء کی آئینی حیثیت کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے درخواست گزار نے اسے بنیادی حقوق اور شخصی آزادی کے منافی قرار دیا ہے۔ درخواست میں قانون کی مبہم دفعات، مذہب کی تبدیلی کیلئے پیشگی نوٹس اور سخت سزاؤں پر اعتراض کرتے ہوئے اس کے نفاذ پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Bombay High Court. Photo: INN.
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این۔

مہاراشٹر میں حال ہی میں نافذ کئےگئے فریڈم آف ریلیجن ایکٹ ۲۰۲۶؍ (قانونِ آزادیٔ مذہب) کی آئینی حیثیت کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ حکومت کو زبردستی، دھوکے یا لالچ کے ذریعے کرائے جانے والے تبدیلیٔ مذہب کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے کا پورا حق حاصل ہے، لیکن اس نئے قانون کی کچھ دفعات اس کے بنیادی مقصد سے کہیں آگے نکل جاتی ہیں اور شہریوں کے حقوق پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہ درخواست ایک۷۰ ؍ سالہ عالم دین مولانا حلیم اللہ فاروق احمد خان کی جانب سے ایڈوکیٹ متین شیخ کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ قانون آئین ہند کے تحت حاصل بنیادی حقوق جیسے انسانی وقار، پرائیویسی، انفرادی آزادی، ضمیر کی آزادی، مذہبی آزادی اور سیکولرازم کے خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس بنیاد پر قانون کو من مانے پن، غیر واضح الفاظ اور غیر ضروری مداخلت کا سبب قرار دیتے ہوئے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ڈرافٹ لسٹ جاری ہونے کے ۱۲؍ دن بعد بھی انوملی پر ووٹروں کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا

واضح رہے کہ جولائی میں مہاراشٹر اس طرح کا قانون نافذ کرنے والی ملک کی ۱۲؍ ویں ریاست بن چکا ہے۔ اس قانون کے تحت زبردستی، لالچ، دھوکے یا شادی کے ذریعے کرائے جانے والے تبدیلیٔ مذہب کو قابلِ دست اندازی جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس میں ایسی بین المذاہب شادیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جہاں اس طرح کی نیت کا الزام ہو، خاص طور پر اگر فریقین کے خاندانوں کی طرف سے کوئی اعتراض اٹھایا گیا ہو۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون میں ترغیب(Allurement) اور غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب کی جو تعریفیں دی گئی ہیں وہ انتہائی مبہم اور غیر واضح ہیں، جس کی وجہ سے انتظامیہ کو بے تحاشا اختیارات مل جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عام رفاہی کاموں، تعلیمی و انسانی خدمات اور مذہبی سرگرمیوں کو بھی بلاوجہ جرم قرار دے دیئے جانے کا اندیشہ ہے، جس سے مذہب کی تبلیغ اور آزادیِ اظہار پر برا اثر پڑے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ڈاکٹروں کو دواخانوں میں اپنا کیوآر کوڈ لگانا لازمی

تاہم، درخواست میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ صرف الگ الگ مذہب سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ریاست کو دو بالغ افراد کی باہمی رضامندی، شادی یا مرضی سے مذہب کی تبدیلی پر کڑی نظر رکھنے یا مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔ زندگی کا ساتھی چننا اور اپنے عقیدے کا فیصلہ کرنا یہ ہر فرد کا ذاتی آزادی اور آئینی حق ہے۔ اس قانون کی سب سے متنازع دفعات میں سے ایک یہ ہے کہ مذہب تبدیل کرنے کا ارادہ رکھنے والے شخص کو متعلقہ حکام کو ۶۰؍ دن پہلے نوٹس دینا ہوگا۔ درخواست گزار کے مطابق یہ شرط شہریوں کی بنیادی آزادی پر غیر ضروری اور سخت پابندی عائد کرتی ہے۔ اس کے علاوہ قانون میں سخت سزائیں اور ناقابلِ ضمانت دفعات شامل کی گئی ہیں، جس سے لوگوں کو بلاوجہ ہراساں کئے جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ درخواست کے آخر میں کہا گیا ہے کہ جب کوئی شخص اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرتا ہے تو قانون کا کام صرف یہ دیکھنا ہے کہ یہ فیصلہ بغیر کسی دباؤ کے ہوا ہے یا نہیں، حکومت کو کسی فرد کے ذاتی عقائد یا فیصلے کی وجوہات کی جانچ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس کی بنیاد پر درخواست گزار نے فی الحال اس قانون کے نفاذ اور عمل درآمد پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK