اس فیصلے میں ایس آئی آر ترمیم کے بعد ووٹر لسٹ سے خارج کئے گئے افراد کو راشن کی سہولت سے محروم کردیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری۔ تصویر:آئی این این
سپریم کورٹ نے منگل کو اس رِٹ درخواست پر فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا جس میں مغربی بنگال حکومت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا، جس کے تحت خصوصی جامع نظرِثانی (ایس آئی آر) ترمیم کے بعد ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے افراد کو راشن کی سہولت سے محروم کیا جا رہا ہے۔عدالت نے کہا کہ اس معاملے کی سماعت ہائی کورٹ میں کی جا سکتی ہے۔
جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس جوئے مالیا باغچی کی بنچ نے وکیل ایس پرسنا کی جانب سے فوری سماعت کی درخواست مسترد کر دی۔یہ درخواست ایک تنظیم ’پچھم بنگا کھیت مزدور سمیتی‘ نے دائر کی تھی۔بنچ نے آئین کے آرٹیکل ۳۲؍ کے تحت دائر اس درخواست کی قبولیت پر سوال اٹھایا اوردریافت کیا کہ درخواست گزار نے پہلے ہائی کورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا۔
اس پر درخواست گزار کے وکیل نے دلیل دی کہ اس معاملے کے ملک گیر اثرات ہیں کیونکہ مبینہ طور پر کئی ریاستیں ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے افراد کو فلاحی منصوبوں کے فوائد دینے سے انکار کر رہی ہیں۔ درخواست گزار کو اس بات کا خدشہ رہا ہوگا کہ چونکہ ریاست میں حکومت تبدیل ہوچکی ہے،اسلئے ہائی کورٹ کی جانب سے ریاستی حکومت کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں ہوسکے گا۔
اس پر بنچ نے کہا کہ یہ چیلنج اس نظرِثانی کے عمل سے الگ ایک آزاد معاملہ ہے۔عدالت نے درخواست گزار کو یہ کہتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ گرمیوں کی تعطیلات کے بعد وہاں عدالتی کام کاج دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔ خیال رہے کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے دوران ایسے لاکھوں افراد کے نام فہرست سے نکال دیئے گئے تھے جن کے ناموں میںمعمولی سی بھی غلطیاں تھیں۔