برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے استعفیٰ کیوں دیا؟ جن معیارات پر کسی وزیراعظم کی کارکردگی کو پرکھا جاتا ہے ان پر اسٹارمر کافی حد تک پورا اتر رہے تھے، مثلاً مہنگائی۔
کیئر اسٹارمر۔ تصویر:آئی این این
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے استعفیٰ کیوں دیا؟ جن معیارات پر کسی وزیراعظم کی کارکردگی کو پرکھا جاتا ہے ان پر اسٹارمر کافی حد تک پورا اتر رہے تھے، مثلاً مہنگائی۔ ان کے اقتدار کے پہلے سال میں افراط زر ۲ء۲؍ فیصد سے بڑھ کر ۳ء۸؍ فیصد ہوگیا تھا مگر ایران جنگ اور مابعد حالات کے باوجود یہ فیصد ۲ء۸؍ ہی رہا، اس سے زیادہ نہیں ہوا۔ یہ طے شدہ ہدف سے اب بھی زیادہ ہے مگر جس سطح تک پہنچ سکتا تھا اس سے اب بھی کم ہے۔ اسٹارمر نے عہد کیا تھا کہ جی ۷؍ ملکوں میں ان کی معیشت سب سے تیز رفتار ہوگی۔ جنگ اور ٹرمپ کے ٹیرف کی وجہ سے اس عہد کا پورا کیا جانا مشکل تھا۔ اس کے باوجود برطانوی معیشت مضبوط ہوئی اور اگر سب سے تیز رفتار نہیں ہوسکی تب بھی گزشتہ بارہ مہینوں میں جی ۷؍ میں دوسرے نمبر پر ضرور رہی۔ اسٹارمر چاہتے تو استعفیٰ نہ دینے پر بضد رہ سکتے تھے مگر اس بار دباؤ کچھ زیادہ تھا۔ انہوں نے پارٹی کے اراکین ِپارلیمان سے صلاح مشورہ کیا، فیصلہ کیا، بادشاہ کو آگاہ کیا اور پھر باقاعدہ اعلان کر دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ برطانیہ اب پہلے جیسا نہ ہونے کے باوجود اب بھی اپنی اقدار کا پاسدار ہے۔ اسٹارمر کہہ سکتے تھے کہ اُن کی قیادت میں لیبر پارٹی کو ۱۴؍ سال بعد دوبارہ اقتدار ملا ہے۔ کسی ملک میں اعلیٰ قیادت اتنی جلدی جلدی نہیں بدلتی۔ اس کے باوجود برطانیہ میں سیاسی عدم استحکام نہیں ہے۔ اعلیٰ قیادت عوامی مقبولیت کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتی ہے۔ اسٹارمر کو بھی عوامی مقبولیت میں تنزلی کا سامنا تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کارکردگی بہتر نہیں تو ابتر بھی نہیں تھی، پھر بھی عوامی رائے اسٹارمر کے خلاف کیوں ہوئی جس کے پیش نظر پارٹی کو سوچنا پڑا کہ اگر لیڈرشپ نہ بدلی گئی تو لیبر کو اقتدار سے ہٹنا پڑے گا؟
اس کی وجہ ایپسٹین فائلز بھی ہے اور دائیں بازو کی جماعت ’’ریفارم یو کے‘‘ کی بڑھتی مقبولیت بھی جس کے پیش نظر لیبر پارٹی محسوس کرتی ہے کہ اگر اسے روکا نہیں گیا تو پارلیمانی انتخابات میں پارٹی کو بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ اسٹارمر کے استعفے کی وجہ مقامی انتخابات بھی ہیں جن میں لیبر پارٹی کو ۱۴۹۶؍ کونسل سیٹوں اور ۱۴؍ کونسلوں کا نقصان ہوا ہے۔ اسی دوران اینڈی برنہم (گریٹر مانچسٹر کے میئر) گزشتہ ہفتے ضمنی پارلیمانی الیکشن میں کامیاب ہوئے ہیں جو لیبر پارٹی کی قیادت کیلئے زیادہ مؤثر سمجھے جاتے ہیں۔ جہاں تک ایپسٹین فائلز کا تعلق ہے ان میں اسٹارمر کا نام نہیں ہے مگر انہوں نے جس پیٹر مینڈلسن کو امریکہ میں برطانیہ کا سفیر مقرر کیا تھا اُس کا نام آچکا تھا جس کے سبب اپوزیشن پارٹیوں اور خود اُن کی پارٹی میں ناراضگی تھی۔ پُرزور عوامی مظاہرے بھی ہوئے تھے۔ تب ہی اسٹارمر کے چیف آف اسٹاف مورگن میکسوینی اور کمیونی کیشن ڈائریکٹر ٹم ایلن کو بھی استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب اسٹارمر پر استعفے کا دباؤ تھا۔ اسکاٹ لینڈ میں اُن ہی کی پارٹی کے سربراہ انس سرور نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ اسٹارمر کو استعفیٰ دینا ہوگا مگر اُس وقت پارٹی میں اسٹارمر کیلئے حمایت بھی پائی جارہی تھی ا س لئے اسٹارمر کے استعفے کا مطالبہ پس پشت چلا گیا تھا۔ بہرکیف اب وہ مستعفی ہوچکے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اینڈی برنہم ان کے جانشین ہونگے جو زیادہ سے زیادہ ستمبر میں حلف لے سکتے ہیں۔