ایران امریکہ کا معاہدہ نیتن یاہو کیلئے غیر معمولی سیاسی اور تزویراتی جھٹکا ہے۔ اس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن اور خطے کا جیو پالیٹیکل نقشہ بدل جائیگا۔ نیتن یاہو غزہ کی نسل کشی کی وجہ سے پہلے ہی معتوب تھے، اب امریکہ بھی ان سے منہ موڑنے لگا ہے۔
میٹنگ۔ تصویر:آئی این این
اسرائیل اور امریکہ نے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ جو مشترکہ جنگ ایران پر مسلط کی تھی اس کے اختتام تک آتے آتے دونوں کے درمیان نہ ہم آہنگی دکھائی دے رہی ہے اور نہ اشتراک۔چار ماہ سے بھی کم عرصے میں صورتحال ناقابل تصور حد تک کیسے بدل گئی؟ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ دونوں نے متفقہ طور پر کیا تھا۔ جنگ بندی کا فیصلہ صرف ایک فریق نے کیوں کیا؟جنگ بندی اور عبوری امن معاہدے کے لئے ہفتوں سے جاری مذاکرات امریکہ تن تنہا کیوں کررہا ہے؟ ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو ان مذاکرات کی میز تک پھٹکنے کیوں نہیں دیا؟ بنجامن نیتن یاہو کے اصرار کے باوجود ٹرمپ نے فرانس میں مفاہمتی یادداشت سائن کرنے سے قبل اس کا مسودہ اسرائیلی وزیر اعظم کو دکھانے تک سے کیوں انکار کردیا؟
نیتن یاہو کے بقول جو ٹرمپ ’’وہائٹ ہاؤس کی تاریخ میں اسرائیل کے عظیم ترین دوست‘‘ہوا کرتے تھے وہ اچانک دشمنوں کی طرح سلوک کیوں کرنے لگے؟دراصل ٹرمپ کو جنگ کی دلدل میں پھنسنے کے بعد جیسے ہی یہ احساس ہوا کہ نیتن یاہو نے چٹکیوں میں ایران کی فتح یابی کا سبز باغ دکھا کر انہیں الو بنادیا،ویسے ہی وہ جنگ بندی کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے لگے۔ ٹرمپ کو سمجھ آگیا کہ اگر جنگ فوراً بند نہیں ہوئی، خطے میں امن اور استحکام قائم نہیں ہوا تو ان کی عالمی ساکھ اور سیاسی بقا دونوں داؤ پر لگ جائیں گے۔ اس کے برعکس نیتن یاہو کے اقتدار اور سیاسی بقا کا دارومدار جنگ کے جاری رہنے پر ہے۔ دونوں لیڈروں کے مفادات نہ صرف مختلف بلکہ ایک دوسرے سے متضاد اور متصادم بھی ہوگئے ہیں۔
ایران کے ساتھ مفاہمت اور امن معاہدہ کرنے کیلئے ٹرمپ کی بیتابی کی جو وجہ تھی نیتن یاہو کی اس معاہدہ کی اتنی شدید مخالفت کی بھی وجہ وہی ہے: الیکشن۔نومبر میں امریکہ میں وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں جو ٹرمپ اور ان کی ریپبلیکن پارٹی کے لئے بے حد اہمیت کے حامل ہیں۔ گیس اور تیل کی قیمتوں میں ہوئے اضافہ کے نتیجہ میں امریکی عوام کے دلوں میں جنگ کے خلاف بڑھتی برہمی سے ٹرمپ کو یہ ادراک ہوگیا کہ اگر معاہدہ میں تاخیرہوئی تو الیکشن میں ان کی ریپبلیکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت کھو دے گی۔
نیتن یاہو کا معاملہ ٹرمپ سے الٹا ہے کیونکہ ان کے اقتدار کی کھیتی بے گناہوں کے خون سے سیراب ہوتی ہے۔نیتن یاہو جو ۱۹۹۶ء میں پہلی باروزیر اعظم منتخب ہوئے تھے اسرائیل کی سیاست پر ۳۰؍ برسوں سے چھائے ہوئے ہیں۔اس مقام تک وہ لاشوں کی سیاست کرکے پہنچے ہیں۔ پچھلے ۳۰؍برسوں سے نیتن یاہو نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کو بھی کنٹرول کررہے ہیں۔ نیتن یاہو کے اصرار پر ہی ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں وہ جوہری معاہدہ پھاڑ کر پھینک دیا جو ان کے پیش رو بارک اوبامہ نے ایران کے ساتھ ۲۰۱۵ء میں کیا تھا۔ یاد رہے کہ JCPOAایک مضبوط اور مربوط بین الاقوامی معاہدہ تھا جس پر امریکہ اور ایران کے علاوہ روس، چین، برطانیہ، فرانس اورجرمنی نے بھی دستخط کئے تھے۔
ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس میں دوبارہ قدم رکھتے ہی نیتن یاہو کے اس ایک حکم پر عمل آوری کی کوششیں شروع کردیں جوپچھلی بار وہ نہیں بجالائے تھے: ایران کے خلاف فوج کشی۔لیکن ایرانیوں نے امریکہ اور اسرائیل جیسی طاقتوں کی مشترکہ محاذ آرائی کو اپنے حوصلہ اور شجاعت، سفارتی بصیرت اور عسکری حکمت عملی سے جب پوری طرح پسپا کردیا تب ٹرمپ کو ہوش آیا کہ اسرائیل کی ناز برداریاں اٹھاتے اٹھاتے وہ امریکہ کا بیڑہ غرق کررہے ہیں۔ یورپی اور عرب اتحادیوں نے اور چین اور روس جیسے حریف ممالک نے بھی انہیں باور کرادیا کہ ایک ملک کے اشاروں پر ناچتے ہوئے انہوں نے پوری دنیا کو بہت مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ اسی آگہی کی وجہ سے ٹرمپ نے اپنی انا کو پس پشت رکھ کر ایران کی شرائط پر سمجھوتہ کرنا گوارا کرلیا۔ٹرمپ کی نیتن یاہو سے بڑھتی ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ لبنان میں جارحیت جاری رکھ کر اسرائیلی فوج اس ایران معاہدہ کا جنازہ نکالنے پر تلی ہے جو اتنی مشقت کے بعد طے پایا ہے۔اسی جھلاہٹ میں ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نیتن یاہو اور اسرائیل پر بار بار حملے کررہے ہیں اور انہیں گالیاں تک دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’ایٹھا‘‘ کا ٹیزر جاری: وِٹھابائی نارائنگاؤںکر کے روپ میں شردھا کپور کی شاندار تبدیلی
ٹرمپ تو جو منہ میں آیا بکنے کے لئے بدنام ہیں۔وینس نے اسرائیل اور نیتن یاہو کے متعلق جو بیانات دیئے ہیں وہ بین الاقوامی سیاسی اور سفارتی حلقوں میں موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ اسرائیل میں امن معاہدہ پر ہورہی لعنت ملامت پر وینس نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت کے وزراء کواس طاقتور ملک کے خلاف ہرگز نہیں بولنا چاہئے جو دنیا میں اسرائیل کا واحد دوست بچا ہے۔ وینس یہیں نہیں تھمے انہوں نے نیتن یاہو کویہ بھی یاد دلادیا کہ اسرائیل کے دو تہائی جنگی سازو سامان امریکیوں کے پیسوں سے امریکیوں کے ہاتھوں سے بنائے جاتے ہیں۔ ٹائم میگزین کے مطابق وینس نے اسرائیل کو وارننگ دے دی کہ ٹرمپ کے ایران معاہدہ کو تسلیم کرلینے میں ہی اس کی بھلائی ہے۔ اسرائیل کو اس طرح کی وارننگ اس سے قبل شاید ہی کسی امریکی عہدے دار نے دی ہو۔ نیتن یاہو کی مشکل یہ ہے کہ ایران جنگ کے متعلق جو خواب وہ اسرائیل کے لوگوں کو کئی دہائیوں سے دکھارہے تھے وہ چار ماہ میں چکناچور ہوچکے ہیں۔ جنگ کا کوئی ہدف پورا نہیں ہوا۔ٹرمپ نہ ایران کے ایٹمی اور بیلسٹک میزائل کے پروگرام کو بندکراسکے اور نہ ہی ایران میں بغاوت کرواکے سیاسی نظام کو بدل سکے۔ ہیبرو یونیورسٹی آف یروشلم کے ذریعہ کئے گئے تازہ سروے نے بھی نیتن یاہو کی پریشانیاں بڑھادی ہیں۔ ۹۲؍ فیصد اسرائیلیوں کا ماننا ہے کہ ایران نے جنگ جیت لی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈ کپ: گھانا کے خلاف بغیر گول کے ڈرا نے انگلینڈ کی تشویش بڑھائی
سوئٹزر لینڈ میں امریکہ اور ایران کے لیڈروں کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لئے مذاکرات کا پہلا راؤنڈ اتوار کو انجام پذیر ہوگیا۔ ایران نے جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں آنے کی اجازت دے دی اور امریکہ نے ایران کو تیل کی فروخت کی۔ نیتن یاہو کی تمام تر مذموم سازشوں کے باوجود امن معاہدہ پرعمل در آمد کیلئے پیش رفت جاری ہے۔ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے وہ نیتن یاہو کیلئے ایک بہت بڑا سیاسی اور تزویراتی جھٹکا ہے۔ اس معاہدہ کی وجہ سے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن بلکہ خطے کا جیو پالیٹیکل نقشہ ہی بدل جائے گا۔ نیتن یاہو اسرائیلی فوج کے ذریعہ غزہ میں کی گئی نسل کشی کی وجہ سے پہلے ہی ساری دنیا میں معتوب ہوچکے تھے۔ اب امریکہ بھی ان سے منہ موڑنے لگا ہے۔ نیتن یاہو اس وقت رسوا بھی ہورہے ہیں اور تنہا بھی۔