ملک کی سب سے بڑی عدالت نے بھی جوابدہی طے کرنے پر زور دیا،حکومت نے اطمینان دلایا کہ اب وزیراعظم مودی ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں
EPAPER
Updated: May 30, 2026, 7:26 AM IST | New Delhi
ملک کی سب سے بڑی عدالت نے بھی جوابدہی طے کرنے پر زور دیا،حکومت نے اطمینان دلایا کہ اب وزیراعظم مودی ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں
نیٹ-یو جی ۲۶ء کے پرچہ لیک ہونے اورامتحان منسوخ کئے جانے سے متعلق پٹیشنوں پر سماعت کے دوران جمعہ کو سپریم کورٹ نے امتحان کا انعقاد کرنے والی نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) سے سخت سوالات کئے اور اسے یو پی ایس سی سے سبق لینے کی صلاح دی۔جواب میں این ٹی اے نے یہ کہہ کر عدالت کو مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ اب اس معاملے کی نگرانی خود وزیر اعظم نریندر مودی کر رہے ہیں۔
ذمہ داری طے کرنے کی ضرورت
تاہم عدالت نے کہا کہ جب تک ذمہ داری طے نہیں کی جائے گی، مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی بھی اس معاملے میں ذمہ داری طے کرنےاور وزیر تعلیم نیز این ٹی اے کے سربراہ کے استعفیٰ کی مانگ کررہے ہیں۔ جمعہ کو جسٹس پی ایس نرسمہا کی سربراہی والی ۲؍ رکنی بنچ نے کہاکہ’’اصل مسئلہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک حقیقی جوابدہی طے نہیں کی جائے گی۔‘‘ عدالت نے کہا کہ ’’ صرف یہ کہہ دینے سے کہ فلاں ذمہ دار ہوگا، کچھ نہیں ہوگا۔ مؤثر تب ہوگا جب یہ معلوم ہو کہ کس فرد پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ جب تک مخصوص ذمہ دار افراد کی نشاندہی نہیں کی جائے گی، تب تک صرف کمیٹیوں کی میٹنگیں ہوتی رہیں گی۔‘‘
مرکزی حکومت سے ۶؍ ہفتوںمیں حلف نامہ طلب
عدالت نے مرکز سے کہا کہ وہ۶؍ہفتوں کے اندر ایک حلف نامہ داخل کرے، جس میں بتایا جائے کہ آئندہ ہر سال امتحان کے انعقاد اور تکمیل کا عمل کس طرح انجام دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے جولائی کے دوسرے ہفتے میں کیس کی اگلی سماعت کا فیصلہ کیا۔ جسٹس نرسمہا نے کہا کہ این ٹی اے کو یو پی ایس سی جیسے اداروں سے سیکھنا چاہیے، جنہوں نے اتنے بڑے امتحانات کامیابی سے کرائے ہیں اور کبھی ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ’’ہمارے اداروں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ وہ وقتی نظم (ایڈہاک ازم) پر چلتے ہیں۔ کسی ایک بہترین افسر کو تعینات کردیا جاتاہے اور سب اسی پر منحصر ہوتےہیں ،پورے ملک میں یہی عالم ہے جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ادارہ افراد پر منحصر نہ ہوبلکہ ادارے کے اندر خود صلاحیت ہو۔‘‘
اسرو کے سابق چیئر مین سے بھی سوال
عدالت نے اسرو کے سابق چیئرمین کے رادھا کرشنن سے بھی بات کی جو ۲۰۲۴ء میں سپریم کورٹ کی قائم کردہ مانیٹرنگ کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ جسٹس نرسمہا نے سوال کیا کہ ’’اگر کمیٹی کی نگرانی کے باوجود نیٹ پیپر لیک کا واقعہ پیش آیا تو آخر ناکامی کہاں ہوئی؟‘‘ عدالت کے یکے بعد دیگرے کئی تلخ سوالات کے جواب میں رادھا کرشنن نے بتایا کہ ماہرین کی کمیٹی نے۲۰۲۵ء اور۲۰۲۶ء کے امتحانات کیلئے ۶۰؍ سفارشات دی تھیں جن میں سے ۳۵؍ طویل مدتی تجاویز تھیں۔ ان کے مطابق بیشتر سفارشات نافذ ہو چکی ہیں جبکہ کچھ پر عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ بنیادی طور پر سوالیہ پرچہ تیار کرنے کے عمل میں پیش آیا ہے۔
’’مودی جی خود اس معاملہ کو دیکھ رہے ہیں‘‘
عدالت نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ لاکھوں طلبہ کیلئے ’’بہت بڑے صدمہ‘‘ سےکم نہیں ہے ہے کیونکہ انہوں نے برسوں محنت کی تھی۔ جسٹس نرسمہا نے کہاکہ’’ہمیں اپنے نوجوانوں کو مایوس نہیں کرنا چاہیے۔ یہ بہت ہی حساس معاملہ ہے۔‘‘
مرکز کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اس پر کہاکہ ’’ حکومت اس بارے میں سنجیدہ ہے۔‘‘انہوں نے عدالت کو بتایا کہ۲۱؍ جون کو ہونے والے نیٹ کے دوبارہ امتحان کیلئے نئے حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں اور’’وزیر اعظم مودی خود ذاتی طور پر اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔‘‘