Updated: July 22, 2026, 4:04 PM IST
| New Delhi
سی جے آئی سوریہ کانت نے احتجاج کرنے والے طلبہ پر دہلی پولیس کے کریک ڈاؤن کے خلاف دائر کردہ عرضداشت پر فوری سماعت سے انکار کر دیا اور سخت لہجے میں تبصرہ کیا کہ ”برائے مہربانی ہمارا وقت ضائع نہ کریں اور اپنا وقت بھی ضائع نہ کریں۔ آپ کا وقت ہمارے وقت سے زیادہ قیمتی ہے۔“
سپریم کورٹ نے نیٹ پیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ پر دہلی پولیس کے کریک ڈاؤن کے خلاف دائر کردہ عرضداشت پر فوری سماعت سے انکار کر دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل بنچ کے سامنے پیش ہونے والے ایک وکیل نے اگلے ہی دن اس معاملے کو سماعت کیلئے درج کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ ان کے پاس احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس تشدد کے ویڈیوز بطور ثبوت موجود ہیں۔ کونسل نے بنچ کو مزید بتایا کہ ”جنتر منتر پر طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ ان کے خلاف پولیس وحشیانہ کارروائیاں کر رہی ہے۔“ اس پر سی جے آئی سوریہ کانت نے سخت لہجے میں جواب دیا کہ ”برائے مہربانی ہمارا وقت ضائع نہ کریں اور اپنا وقت بھی ضائع نہ کریں۔ آپ کا وقت ہمارے وقت سے زیادہ قیمتی ہے۔“
اس کے بعد وکیل نے بات جاری رکھتے ہوئے نیٹ امتحانات کے منصفانہ انعقاد اور بار بار پیپر لیک کے واقعات کے پیشِ نظر این ٹی اے کو تحلیل کرنے اور دیگر مطالبات پیش کئے۔ جب عدالت اگلے معاملے کی طرف بڑھنے لگی، تو کونسل نے اصرار کیا کہ وہ طلبہ پر پولیس تشدد کو ظاہر کرنے والی ویڈیوز پیش کرسکتے ہیں۔ سی جے آئی کانت نے ایک بار پھر انکار کردیا اور کہا کہ ”ہمیں ویڈیوز میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ہمارے پاس دیکھنے کا وقت نہیں ہے۔“
واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے بینر تلے ہزاروں طلبہ دہلی کے جنتر منتر پر جمع ہوکر پیپر لیک کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج صرف دہلی اور جنتر منتر تک محدود نہیں ہے۔ دہلی کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی طلبہ کے مظاہروں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ پیر کے روز مظاہرین نے جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن دہلی پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا، جس سے متعدد مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔