۱۵؍ جولائی کو بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے ایک ساتھ ریاست کے ۲۱۱؍بلاکوں میں گورنمنٹ ڈگری کالج کا افتتاح کیا ۔ اگر اسکے ساتھ اساتذہ کی کمی دور کر دی جائے، اردو سمیت تمام مضامین کی اسامیاں منظور کی جائیں، بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں اور معیارِ تعلیم پر مستقل توجہ دی جائے تو یہ منصوبہ نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک کیلئے ایک مثالی تعلیمی ماڈل بن سکتا ہے۔
بہار میں حالیہ برسوں کے دوران تعلیم کے شعبے میں جو پیش رفت ہوئی ہے، اسے ریاست کی تعلیمی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایک طرف ریاستی حکومت نے بیک ووقت ۲۱۱؍ نئے سرکاری ڈگری کالجوں اور ۱۵۵؍ ماڈل اسکولوں کے قیام کا تاریخی فیصلہ کیا ہے، تو دوسری جانب اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے گورنر و چانسلر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطاء حسنین مسلسل اصلاحی اقدامات کر رہے ہیں۔ ان دونوں کوششوں کا مقصد بہار کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم، روزگار سے جڑی مہارتوں اور بہتر مستقبل کے مواقع فراہم کرنا ہے۔اگر ان اقدامات کو صرف نئی عمارتوں کے قیام تک محدود نہ رکھا گیا اور انہیں تعلیمی اصلاحات کے ایک وسیع منصوبے کے طور پر دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ بہار اپنی تعلیمی شناخت کو ایک نئے انداز میں استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے آئینہ دار ہیں کہ یہ وہی سرزمین ہے جہاں کبھی نالندہ اور وکرم شیلا جیسی عظیم درسگاہیں دنیا بھر کے طلبہ کو اپنی طرف متوجہ کرتی تھیں۔ آج اگرچہ حالات مختلف ہیں، لیکن نئی تعلیمی پالیسی اور حکومتی اقدامات اس تاریخی ورثے کو نئے دور کے تقاضوں سے جوڑنے کی ایک سنجیدہ کوشش معلوم ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم، غیر ہمیں اُٹھائے کیوں؟
واضح ہو کہ گزشتہ ۱۵؍ جولائی کو بہار کے وزیر اعلیٰ جناب سمراٹ چودھری نے ایک ساتھ ریاست کے ۲۱۱؍بلاکوں میں گورنمنٹ ڈگری کالج کا افتتاح کیا ۔ میرے خیال میں یہ تاریخی کارنامہ نہ صرف بہار بلکہ ہندوستان کی کسی ریاست میں کسی وزیر اعلیٰ نے ایک دن میں اتنی تعداد میں کالجوں کا افتتاح نہیں کیا ہوگا۔اس کے علاوہ انہوں نے ریاست میں ۱۵۵؍ماڈل اسکول بھی قائم کئے ہیں جہاں روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ میڈیکل اور انجینئرنگ کے داخلہ امتحانات کی کوچنگ بھی فراہم کی جائے گی۔ اس سے دیہی اور پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو وہ سہولتیں مل سکیں گی جو اب تک صرف بڑے شہروں یا مہنگے کوچنگ اداروں تک محدود تھیں۔ اگر یہ منصوبہ مؤثر انداز میں نافذ ہو جاتا ہے تو ہزاروں باصلاحیت طلبہ کو معاشی مجبوریوں کی وجہ سے اپنے خواب ترک نہیں کرنے پڑیں گے۔اسی طرح ۲۱۱؍ نئے ڈگری کالجوں کا قیام بھی ایک انقلابی قدم ہے۔ برسوں سے بہار کے دور دراز علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کی سہولتوں کا فقدان رہا ہے۔ بے شمار طالبات صرف اس وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پاتیں کہ ان کے علاقے میں کوئی کالج موجود نہیں ہوتا۔ نئے کالجوں کے قیام سے نہ صرف داخلوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا بلکہ خواتین کی اعلیٰ تعلیم کو بھی نئی رفتار ملے گی۔
تاہم ہر بڑے منصوبے کی کامیابی صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ اس کے تعلیمی ڈھانچے سے وابستہ ہوتی ہے۔ آج بہار کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ کئی سرکاری کالج ایسے ہیں جہاں مستقل اساتذہ کی تعداد ضرورت سے بہت کم ہے۔ بعض شعبے مکمل طور پر خالی ہیں اور طلبہ مہمان اساتذہ یا عارضی انتظامات کے سہارے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں نئے کالجوں کا قیام اپنی جگہ خوش آئند ضرور ہے، مگر ان میں معیاری تدریس کے لیے مستقل اور تربیت یافتہ اساتذہ کی تقرری ناگزیر ہے۔اسی تناظر میں اردو زبان کا مسئلہ بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ بہار ان چند ریاستوں میں شامل ہے جہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ لاکھوں طلبہ اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرتے ہیں، مگر افسوس کہ نئے قائم ہونے والے ان ڈگری کالجوں میں اردو کے اساتذہ کی اسامیاں اب تک منظور نہیں کی گئی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف اردو کے طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ ریاست کی لسانی اور ثقافتی روایت سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت جلد از جلد اردو سمیت تمام اہم مضامین کی اسامیاں منظور کرے تاکہ طلبہ کو اپنی پسند کے مضامین میں معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر کا احتجاج، اس کی ’حصولیابی‘ اور مضمرات
یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ گورنر موصوف نے اردو کے مسائل کو حل کرنے کے لئے اور نئے ڈگری کالجوں میں اردو اساتذہ کے پوسٹ کی منظوری کے لئے حکومت ِ بہار کو مکتوب لکھا ہے لیکن جب تک حکومت کابینہ سے اردو اساتذہ کی تقرری منظور نہیں کرے گی اس وقت تک ان کالجوں میں اردو کی پڑھائی شروع نہیں ہو سکتی کیوں کہ حکومت نے ہر کالج میں ایک سبجیکٹ کے لئے دو اساتذہ کی پوسٹیں منظور کی ہیں جس میں اردوشامل نہیں ہے ۔
دوسری جانب بہار کے گورنر اور تمام ریاستی جامعات کے چانسلر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطاء حسنین اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے متعدد اصلاحی اقدامات کر رہے ہیں۔ وہ مسلسل جامعات کے ذمہ داران کے ساتھ اجلاس منعقد کر رہے ہیں، قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء کے مؤثر نفاذ، امتحانی نظام میں شفافیت، تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ، ڈیجیٹل تعلیم اور انتظامی اصلاحات پر زور دے رہے ہیں۔ ان کی یہ کوشش قابلِ تحسین ہے کہ بہار کی جامعات کو قومی سطح پر زیادہ باوقار اور مؤثر بنایا جائے۔تاہم اصلاحات کی کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب بنیادی مسائل کو بھی یکساں سنجیدگی سے حل کیا جائے۔ خالی اسامیوں پر تقرری، جدید لیبارٹریوں کا قیام، معیاری لائبریریاں، ڈیجیٹل کلاس روم، تحقیق کے لئے مناسب وسائل، اور صنعتوں سے اشتراک جیسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء کا بنیادی مقصد تعلیم کو روزگار سے جوڑنا ہے۔ بہار میں حالیہ اقدامات اسی سمت میں ایک مثبت پیش رفت ہیں۔ اگر نئے کالجوں میں ہنرمندی، اپرنٹس شپ، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، کاروباری صلاحیت اور تحقیقی کلچر کو فروغ دیا جائے تو ریاست کے نوجوان قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہتر مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: رفتگاں رفتگاں آپ جیسا جہاں، اب کہاں اب کہاں!
مختصر یہ کہ بہار میں نئے ڈگری کالجوں اور ماڈل اسکولوں کا قیام یقیناً ایک تاریخی اور دور رس فیصلہ ہے۔ اگر اس کے ساتھ اساتذہ کی کمی دور کر دی جائے، اردو سمیت تمام مضامین کی اسامیاں منظور کی جائیں، بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں اور معیارِ تعلیم پر مستقل توجہ دی جائے تو یہ منصوبہ نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مثالی تعلیمی ماڈل بن سکتا ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ حکومتِ بہار، ریاستی جامعات، چانسلر، اساتذہ اور سماج کے تمام طبقات مل کر اس خواب کو حقیقت کا روپ دیں گے تاکہ بہار ایک مرتبہ پھر علم و دانش کی سرزمین کے طور پر اپنی تاریخی شناخت کو نئی توانائی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر سکے۔