Inquilab Logo Happiest Places to Work

مَیں آپ کی حفاظت نہ کر سکا: ابھیجیت دِپکے نے زخمی طلبہ سے معافی مانگی

Updated: July 21, 2026, 2:03 PM IST | New Delhi

دہلی میں ’’سنسد چلو‘‘ احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے ایک دن بعد کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دِپکے نے ایک ذمہ دار قائد کی طرح اپنے حامیوں، خصوصاً زخمی طلباء اور طالبات، سے عوامی معافی مانگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ مظاہرین کی بہتر حفاظت نہیں کر سکے اور الزام عائد کیا کہ حکومت ایک وزیر کو بچانے کے لیے نوجوانوں کا خون بہانے پر آمادہ تھی۔ ادھر دہلی پولیس نے طاقت کے بے جا استعمال کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

Abhijeet Dipke. Photo: INN
ابھیجیت دِپکے۔ تصویر: آئی این این

دہلی میں ’’سنسد چلو‘‘ مارچ کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دِپکے نے منگل کو اپنے حامیوں کے نام ایک جذباتی پیغام جاری کرتے ہوئے زخمی مظاہرین سے معافی مانگی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے کارکنوں، بالخصوص ان طالبات سے معذرت خواہ ہیں جنہیں ان کے بقول مرد پولیس اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ دِپکے نے اعتراف کیا کہ وہ مظاہرین کی حفاظت کے لیے مزید بہتر اقدامات کر سکتے تھے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا، ’’ہمیں بہتر کرنا چاہیے تھا، مجھے آپ کی حفاظت بہتر انداز میں کرنی چاہیے تھی۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت ایک وزیر کے تحفظ کے لیے نوجوان طلبہ کا خون بہانے پر بھی تیار تھی۔ انہوں نے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے تمام افراد سے کہا کہ وہ براہِ راست ان سے رابطہ کریں تاکہ وہ ذاتی طور پر ان سے معافی مانگ سکیں اور ان کی مدد کر سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر کے طلبہ مظاہرین کے حق میں اورنگ آباد میں بھوک ہڑتال

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیر کو دہلی میں ہونے والا ’’سنسد چلو‘‘ مارچ پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم میں تبدیل ہو گیا تھا۔ احتجاج کے دوران لاٹھی چارج، آنسو گیس اور جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ سی جے پی نے پولیس پر طاقت کے بے جا استعمال کا الزام عائد کیا، تاہم دہلی پولیس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی قانون و نظم برقرار رکھنے کے لیے کی گئی اور بعض مظاہرین نے تشدد اور پتھراؤ کیا۔خیال رہے کہ احتجاج ختم نہیں ہوا ہے۔ سی جے پی نے واضح کیا ہے کہ جنتر منتر پر دھرنا بدستور جاری رہے گا، تاہم مزید ’’سنسد چلو‘‘ مارچ نہیں نکالا جائے گا تاکہ دوبارہ خونریزی یا تصادم سے بچا جا سکے۔ تنظیم بدستور امتحانی بے ضابطگیوں کی تحقیقات، متاثرہ طلبہ کو انصاف اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لکشمن ہاکے کا ’او بی سی جنتا پارٹی‘ کے قیام کا اعلان

منگل کو سیاسی سرگرمیاں بھی تیز رہیں۔ مختلف اپوزیشن لیڈروں نے زخمی طلبہ کی عیادت کی جبکہ مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے بھی اسپتال جا کر زخمیوں کی حالت دریافت کی۔ اس دوران دہلی ہائی کورٹ نے پولیس کارروائی کے خلاف دائر درخواست پر فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے معاملہ بعد کی تاریخ کے لیے مقرر کر دیا۔ دوسری جانب دہلی پولیس نے احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات کے سلسلے میں متعدد ایف آئی آر درج کی ہیں، جبکہ طلبہ تنظیمیں اور سی جے پی اپنے احتجاج کو پرامن انداز میں جاری رکھنے پر زور دے رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK